خودکشیوں کا سدباب کریں!

خودکشیوں کا سدباب کریں!

دو روز قبل میڈیامیں خبریں آئیںکہ ایک بیروزگار شخص نے  غربت سے تنگ آ کر خودکشی کر لی۔ گھر کا کرایہ اور بجلی کا بل ادا نہ کر پانے کی وجہ سے ذہنی دباو کے شکار شخص نے خودکشی سے قبل اپنی دو کم عمر بیٹییوں کو بھی موت کے گھاٹ اتار دیا۔ یہ اندوہناک واقعہ میڈیا کے لیے تو یقینا  ایک روٹین کی خبر ہو گی کیونکہ اگر کل اسی قسم کا کوئی اور واقع رونما ہوجائے گاتو ان کی تما م تر توجہ اس جانب مبذول ہو جائے گی ، سیاستدان اگر آج اس خبر کا نوٹس لے بھی لیںتو کل ان کی ترجیح میں کوئی اور چیز آ جائے گی۔ حکومتوں سے تو خیر کوئی توقع رکھنا ہی فضول ہے لیکن  اب وقت آ گیا ہے کہ معاشرے کے حساس لوگ اس قسم کے واقعات کی روک تھام کے لیے کچھ عملی اقدامات اٹھائیں۔  

اس سے قبل بھی ہم نے دیکھا ہے کہ نہ صرف غربت کی وجہ سے ماں باپ  اپنی اولاد کو موت کی نیند سلانے کے بعد خود کشیاں کرتے رہے ہیں بلکہ غیرت کے نام پر بھی اولاد کا قتل کیا جانا معمول کی بات ہے۔ کچھ عرصہ قبل ایک افسوسناک واقعہ یہ بھی رپورٹ ہوا کہ کراچی میں ایک خاتون نے اپنی 22 دن کی بیٹی کو صرف اس لیے قتل کر دیا کہ وہ رونا بند نہیں کر رہی تھی اسی طرح میانوالی میں ایک شخص نے اپنی ایک ہفتہ کی بچی کے معصوم جسم میں پانچ گولیاں صرف اس لیے داغ دیں کہ وہ چاہتا تھا کہ اس کے گھر بیٹی نہیں بیٹا پیدا ہوا۔ اس کے علاوہ بھی اس قسم کے بے شمار سفاکانہ اور بے رحمانہ کیسسز مستقل بنیادوں پر رپورٹ ہوتے رہتے ہیں لیکن افسوس کہ ان واقعات کا ہمارے دل دماغ پر اثر بہت ہی عارضی ہوتا ہے۔ 

ٖغربت کے نتیجہ میں جب بھی خودکشی کا واقعہ کوئی پیش آتا ہے تو سب سے پہلے توہمیں حکومت پر بے پناہ غصہ آتا ہے۔ پھر معاشرے کو اس کی بے حسی پر کوسنے کو جی چاہتا ہے۔ لیکن جو کام ہونا چاہیے وہ کبھی نہیں ہوتا۔ یعنی عوام کو ہر قسم کے حالات کا مقابلہ کرنے کی تربیت دینا اور ان کے دلوں میں مقابلے کا جذبہ پیدا کرنا۔ 

عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ پاکستان میں خودکشی کا رجحان بہت زیادہ ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں ہر روز 15  اور 35 کے درمیان  تعداد میں لوگ خودکشی کر لیتے ہیں جو تقریباً ہر گھنٹے میں ایک خودکشی بنتی ہے۔ کسی بھی ملک میں اتنی بڑی تعداد میںخودکشیاں یقینا ایک تشویش کی بات ہے لیکن صد افسوس یہاں کسی کو اس بات کی پرواہ تک نہیں۔ اگرچہ ہم کوئی ترقی یافتہ معاشرہ نہیں لیکن پھربھی سماجی تقیسم سے ناراض عوام میں آگاہی اور شعور بڑھانے کے لیے حکومت اپنے طور پر نہ سہی لیکن  بڑے کاروباری اداروں، این جی اوز اور مخیر حضرات کے اشتراک سے تو کوئی مہم چلا ہی سکتی ہے۔

 جائزہ لینے پر ایک بات تو واضح ہوجاتی ہے کہ غیر ت کے نام پر قتل، غربت سے تنگ آ کر اپنی اور اپنے خاندان کی جان لے لینا اور یا پھر کسی بھی قسم کی مثبت کوشش کرنے کے بجائے وارداتیں کرنا یا بھیک مانگنا ایسے مسائل ہیں جو سماجی سے زیادہ نفسیاتی ہیں۔ 

 اگر حکومت میں شامل افراد پر بے حسی کا غلبہ ہے اور سب کچھ دیکھنے اور سمجھنے کے باوجود ان کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی  تواس کا مطلب یہ ہر گز نہیں کہ لوگ مایوس ہوں اور منفی طرزعمل اپنائیں انہیں بقا کی جنگ لڑنے کے لیے متبادل راستوں پر بھی غور کرنا چاہیے۔ اگر دین سے راہنمائی لی جائے تویقینا کسی بھی قسم کے منفی رویہ کی نفی ممکن ہے، کیونکہ ہمارے دین میں سب سے پہلے تو مایوسی کو گناہ قرار دیا گیا ہے اور پھر خلوص نیت سے بار بار کوشش کی ہدایت کی گئی ہے۔ اس سلسلہ میں وسائل اگر بہت محدود بھی ہوں تو بھی راستہ نکالنے کی کوشش کرتے رہنا چاہیے۔ 

صرف ایک ہی واقعہ پر اگر غور کر لیا جائے تو بے شمار مسائل کا مثبت حل نکالنے کی تحریک ملتی ہے۔ 

حضرت انس ؓ کی روایت ہے کہ ایک انصاری صحابی نبی کریم ﷺکی خدمت میں آئے اور آپ ﷺسے کچھ  مدد چاہی۔ آپﷺ نے ارشاد فرمایا:  تمہارے گھر میں کوئی چیز ہے؟  جواب دیا،جی ہاں ایک کمبل ہے جس کے کچھ حصے کو ہم  اوڑھتے ہیں، کچھ کو بچھاتے ہیں اور ایک پیالہ ہے جس میں ہم پانی پیتے ہیں۔

 آپ ﷺنے فرمایا دونوں چیزیں لے آؤ۔ وہ دونوں چیزیں لے کر آئے۔ رسول اللہ ﷺ نے ان چیزوں کو اپنے ہاتھ میں لیا اور فرمایا:  انہیں کون خریدے گا؟  ایک شخص نے کہا: میں ان دونوں کوایک درہم میں خریدتا ہوں۔ آپؐ نے فرمایا: ایک درہم سے زیادہ کون دے گا؟ آپؐ نے یہ بات دو یا تین مرتبہ فرمائی۔ گویا آپﷺ یہ چیزیں نیلام فرما رہے تھے۔ ایک دوسرے آدمی نے کہا میں ان دونوں کو دو درہم میں خریدتا ہوں۔ آپ ﷺنے بولی اسی پر ختم کرد ی اور سامان اس آدمی کودے دیا اور اس سے دو درہم لے کر انصاری صحابی کو دیے اور فرمایا:  ایک درہم کا کھانا وغیرہ خرید کر گھر والوں کودے دو اور دوسرے درہم کا کلہاڑی کا پھل خرید کر میرے پاس لاؤ۔ انہوں نے آپؐ کی ہدایت پر عمل کیا۔

رسول اللہ ﷺ نے اس میں لکڑی کا دستہ اپنے دستِ مبارک سے لگایا اور فرمایا: جاؤ! لکڑیاں کاٹ کر لاؤ اور بیچو۔ پندرہ دن تک میں تمہیں نہ دیکھوں۔ چنانچہ وہ جنگل سے لکڑیاں لاکر فروخت کرتے رہے، جب پندرہ دن پورے ہوئے تو وہ دس درہم کما چکے تھے۔ آپ ﷺنے ان کی محنت مزدوری کی کمائی کودیکھ کر فرمایا: ’’یہ تمہارے لیے اس سے بہتر ہے کہ قیامت کے دن مانگنے کی وجہ سے تمہارے چہرے میں بُرا نشان ہو۔‘‘

پھر نبی کریمﷺ نے فرمایا کہ سوال کرنا تین اشخاص کے سوا کسی کے لیے جائز نہیں، ایسا محتاج جس کی بے چارگی نے اسے زمین پر ڈال دیا ہے، ایسا شخص جس کے ذمے بھاری قرض ہے جس کے اتارنے کی اس میں استطاعت نہیںیا کسی قتل کے ملزم کے لیے (خون بہا ادا کرنے کے لیے) جس کی ادائیگی اس کے لیے سخت مشقت اور تکلیف کا سبب ہو۔ 

ہمارے ملک میں مخیر حضرات کی جانب سے کی جانے والی خیرات کی کوئی کمی نہیں اور وہ ڈونیشن کے نام پر بھی کروڑوں روپیہ خرچ کرتے ہیں، حکومت نے بھی غریب آدمی کو چند ہزار کا چکر دے کر بیوقوف بنا رکھا ہے، لیکن کوئی بھی عوام کے لیے روزگار کے مواقع بڑھانے پر توجہ نہیں دیتا۔ (یہاں روزگار کے مواقع بڑھانے کا مطلب منافع بخش کاروبار کرنا ہر گز نہیں۔ کچھ کاروبار صرف اس نظریہ کے تحت بھی کر لینے میں کوئی ہرج نہیں کہ ان سے اللہ تعالیٰ راضی ہو گا اور اس کی مخلوق کو روزگار مہیا ہو گا)۔ 

یہ بات پورے وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ اگر ایک عام آدمی کوروزگار کے سلسلہ میں رہنمائی اور معاونت ملنا شروع ہو جائے تو نہ صرف خودکشیوں کے واقعات میں خاطر خواہ کمی آئے گی بلکہ اس سے ملک کی اقتصادیات پر بھی مثبت اور خوشگوار اثرات مرتب ہوں گے۔