کوئی چارہ ساز ہوتا…

کوئی چارہ ساز ہوتا…

پاکستانی جمہوریت تو کبھی حقیقی جمہوریت (مغربی ماڈل) تھی ہی نہیں۔ نرا بچہ جمورا جمہوریت رہی: گھوم جا گھوم گیا والی۔ قوم بھی سالہا سال سے چکرائی گھمن گھیریاں سہہ رہی ہے۔ مگر اب تو امریکی جمہوریت پر بھی انگلیاں اٹھ رہی ہیں۔ واشنگٹن پوسٹ میں حالیہ رائے شماری میں کہا گیا ہے کہ امریکی جمہوریت روبہ زوال ہے۔ ووٹنگ کے حقوق محدود ہیں، آزادی محاصرے میں ہے۔ فارن ریلیشنز کونسل کے سینئر فرد نے کہا: ’لگتا ہے ہم تباہی کی طرف جا رہے ہیں۔ بہت سے لوگ غیرملکی پاسپورٹ لینے اور نقل مکانی کی بات کر رہے ہیں۔ افراط زر، فائرنگ واقعات، موسمیاتی تبدیلیوں کے سدباب کے لیے کچھ نہیں کیا جا رہا۔‘ امریکا دنیا کا ’بڑا ابا‘ بنا اپنے گھر سے بے خبر، غافل ہے۔ خاندان بکھر چکے۔ اولاد تباہ حال، اخلاق، تہذیب چوپٹ، معیشت دگر گوں۔ یوکرین میں روس کو نیچا دکھانے میں مصروف ہیں۔ تائیوان جا دھمکنے (جنگی بحری جہازوں کے جلو میں نینسی پلوسی کا دورہ!) چین کو انگوٹھا دکھانے، چڑانے کا اقدام۔ اپنے عوام اور نوجوانوں کو سنبھالنے کی بجائے جو بندوقیں تانے عملاً اپنوں کے لیے خودکش حملہ آور بنے ملک بھر میں کبھی کہیں جا گولیاں برساتے ہیں اور کبھی کہیں۔امریکا خود القاعدہ کو ڈھونڈتا پھر رہا تھا! 71 سالہ مصری، ڈاکٹرز اور اسکالرز کے خاندان سے اٹھنے والا اخوانی ڈاکٹر ایمن (سرجن) جسے اسرائیل کے فلسطینیوں پر مظالم نے آتش بجاں کر دیا۔ مصر کے اسرائیل سے امن معاہدے پر شدید احتجاج نے جیل پہنچایا۔ (پہلی جیل 15 سال کی عمر میں کاٹی!) ’ہم اسلام کی فتح، کامیابی تک قربانیاں دیتے رہیں گے‘ کا نعرہ جیل کی سلاخوں کے پیچھے سے لگایا۔ امت مسلمہ کے غم میں گھلتا ڈاکٹر روس کے خلاف جہاد میں افغانستان آیا تھا۔ اسی غریب الوطنی اور مہاجرت میں بائیڈن نے اسے نشانہ بنانے کے بعد فخریہ کہا: ’نائن الیون کے 3 ہزار کو انصاف مل گیا۔‘ امریکی انصاف تو ملاحظہ ہو! ان 3 ہزار کے لیے چار مسلمان ملک اجاڑے۔ لاکھوں مسلمان افغانستان، عراق، شام، یمن میں شہید کرکے خون کی ندیاں بہائیں۔ سارے یورپی ودیگر غیر مسلم (ومسلم) ممالک کی جنگی ہمہ گیر قوت اس ’انصاف‘ کے لیے یک جا کی۔ ساری آبادیاں درہم برہم، دربدر کیں، اندرون ملک مہاجرتیں، بیرون ملک رلنا ان کا مقدر ٹھہرا۔

 دنیا بھر میں (UNHCR رپورٹیں) سب سے بڑی تعداد مسلمانوں کی مہاجر بنی۔ یورپ نے اپنے ہاں آبادی کی کمی اور افرادی قوت کے قحط کو شامی مہاجرین ودیگر کے ذریعے پورا کرکے بظاہر احسان کیا۔ حالانکہ یہ مفت ہی محنتی، باصلاحیت باکردار قوتِ کار (اپنے بگڑے نکمے نوجوانوں کے مقابل) انہیں میسر آ گئی۔ 3 ہزار کے ’انصاف‘ میں آدھی دنیا اجاڑ دی۔ اگر مذکورہ بالا خونِ مسلم اور باگرام، ابوغریب، گوانتامو، فلسطینیوں، کشمیریوں (بالواسطہ ظلم بذریعہ اسرائیل ومودی)، کروڑوں ریڈ انڈینز (امریکا کے اصلی نسلی باشندے) لاکھوں افریقہ سے لائے غلاموں پر ڈھائی قیامتوں، نوچی گئی کھالوں کو ’انصاف‘ دلانے دنیا اٹھ کھڑی ہو تو زمین پر سر چھپانے کی جگہ انہیں نہ ملے۔دنیا بھر کے مظلوموں کی آہوں کا دھواں یوکرین جنگ میں روس، یورپ، امریکا کو سینگ پھنسائے جھونک چکا ہے! نہ اگلے بن پڑ رہی ہے نہ نگلے! خود ان کی کینہ توزی کا یہ عالم ہے کہ صلاح الدین ایوبی سے انتقام کی آگ میں ان کی پوری کرد نسل کو 5 ملکوں سے برطانیہ اور بعدازاں امریکا نے بدلے چکائے۔ 

انسان تو انسان برطانیہ نے ٹیپو سلطان (بمعنی 

شیر) کی علامت شیر کو پورے اس علاقے میں جینے نہ دیا۔ ہزاروں ببر شیر مار ڈالے۔ شکار کے نام پر ہر شیر کو ٹیپو سمجھ کر مارنا مشغلہ بنا دیا گیا۔ حیرت انگیز رپورٹیں ہیں اس سلسلے کی! عین ابلیسی بغض کہ جھگڑا تو باپ آدم علیہ السلام سے، مگر قسم کھا لی قیامت تک بنی آدم کو اپنے ہمراہ جہنم پہنچانے کی۔ یہ اسی کی کارفرمائی ہے۔ برطانیہ نے 57 ہزار علماء اور مجاہدین آزادی کو پھانسی دی تھی۔ پاکستان کو مجبوراً آزاد تو کردیا مگر جاگیریں گدیاں اپنے انہی وفاداروں کو سونپیں جو کل(برطانیہ کے لیے)مجاہدینِ آزادی کی مخبریاں کرتے انہیں شہید کرکے تمغے اور جائیدادیں بناتے رہے۔ شاہ محمود قریشی کے جد امجد انہی وفاداروں میں سے ایک تھے۔ شاہ محمود خود مسلم لیگ، پیپلزپارٹی سے ہوتے ہوئے اب تحریک انصاف سے امریکا کے خلاف بیان داغ رہے ہیں! امریکا سازشی ٹھہرا دیا انصافی بیانیے میں۔ سفید گورا چٹا جھوٹ داغ دیا حالانکہ ان کے گزشتہ ساڑھے تین سالہ دور میں بھی قطر سے امریکی ڈرون پاکستان کی ایئر سپیس استعمال کرتے رہے۔ (Absolutely Not) کے باوجود راہداریاں ہم سے وصولی ہیں۔

عمران خان، امریکا اشتراک سے کون ناواقف ہے۔ ٹیریان خان ان کی امریکی بیٹی، ان کی سابقہ (برطانوی یہودی خاندان کی) بیوی اور برطانوی نژاد بیٹوں کے ساتھ برطانیہ میں پل بڑھ کر جوان ہوئی۔ ان سوتیلے بہن بھائیوں کا پاکستان سے تعلق صرف بذریعہ باپ (آن لائن) ہی ہوگا۔ حقائق جھٹلائے نہیں جاسکتے۔ امریکا سے ان کی بیک ڈور سفارتکاری (دوستی!) جاری ہے۔ وزیراعلیٰ کے پی کے اور امریکی سفیر کی ملاقات، عمران خان کی سفیر سے خفیہ فون کال۔تحفے میں 36 طبی گاڑیوں کی وصولی! امریکہ سے تعلقات کی بحالی کے لیے پی ٹی آئی نے نیو یارک کی پی آر فرم کی خدمات خریدی ہیں۔جھوٹ، فریب، دجل والا بوتل کا ایک جن پہلے کراچی سالہا سال مشرف کے دست شفقت تلے پھلا پھولا۔ عروس البلاد کا کھنڈر بناکر رخصت ہوا۔ اب بوتل سے جو دوسرا  جن برآمد ہوا، بداخلاقی اور خود اعتمادی سے لدے پھندے جھوٹ کے سارے ریکارڈ ٹوٹ گئے۔ اسلامی اصطلاحات کو گیند سمجھ کر ان سے چوکے چھکے لگانے میں بے خوفی کا کوئی عالم نہیں۔ جو انہیں ووٹ نہ دے اسے خان صاحب نے علی الاعلان مشرک/ شرک کا مرتکب قرار دے دیا۔ پہلے انبیاء کی بات کی، مماثلث تلاش کرتے اس کوچے میں جا نکلے۔ اب شرک بھی ہونے لگا پناہ بخدا! ایمان کے تقاضوں، دینی علم کی ابجد سے ناواقف، قبروں پر سجدے گزارتے ’ریاست مدینہ‘ کے ’صادق‘ ’امین‘ بنے اور بڑے بڑے ان کی ہمہ نوع آتش بازی پر خاموش رہے۔ جابجا ان کے جن جادو جنات کا سحر چھایا رہا! عورتوں کے جمگھٹے ان کے پیچھے لپکتے رہے۔

ادھر ملکی صورت حال، معاشی کس مپرسی، روپیہ ڈالر کےSeeSaw (اوپر/ نیچے) کا کھیل دیکھیے اور ریلوے افسران کی شانِ بے نیازی ملاحظہ ہو۔ 230 مسافر بوگیاں درآمد کرنے 93 افسران واسٹاف کے 9 اگست کو چین جانے کی خبر آئی ہے۔ یاد رہے کہ ریلوے کو 45 ارب کے خسارے کا سامنا ہے۔ اس خبر کے مطابق 22 دن کے دورے پر یہ 100 ڈالر یومیہ الاؤنس وصول کریںگے۔ یہ سب ہماری پھٹی جیبوں کو مزید پھاڑنے کے سامان ہیں۔ تقریباً ڈھائی بوگی فی افسر/ ملازم بنتی ہے۔ سر پر اٹھا لانے کی مزدوری ہم دیں گے؟

 ویسے دیکھا جائے تو گزشتہ 75 سالوں میں ہمارے سبھی بڑوں نے مل جل کر پاکستان کو رشکِ قمر بنا دیا ہے۔ پہلے تو شقِ قمر کر گزرے مگر دو ٹکڑے (اس عظیم اللہ کے تحفے کے) واپس جوڑنے کی نہ طاقت صلاحیت تھی نہ خواہش۔ جیسا چٹیل بے آب چاند ہے، بہت محنت سے پانچ دریاؤں سے لہلہاتی شاداب سرزمین کو ہم نے ویسا ہی بنا ڈالا ہے۔ افغانستان، چین سے ادرک، لہسن، پھل سبزی تک کے ہم محتاج ہیں۔ (زرعی زمینوں کی جگہ ہاؤسنگ سوسائٹیاں اتھارٹیز بنا ڈالیں۔) پانی کم زراعت ختم۔ ہوا سلب۔ سانس لینا مہنگائی کے ہاتھوں دوبھر۔ قیمتیں سن کر سانس اندر جانے سے انکاری ہو جاتا ہے۔ خریدار کے قدم من من کے ہو جاتے ہیں اٹھائے نہیں اٹھتے۔ چاند کی سرزمین سا حال ہوگیا۔ پچھلے وزیر سائنس تو ٹیکنالوجی کے سر پر ہلال نکالنے کے درپے رہے۔ قوم کی عیدیں رمضان الجھاوے میں ڈالنے کے مخمصے کھڑے کیے رکھے۔ یوں بھی چاند کی جگمگاہٹ اپنی نہیں، مستعار ہے سورج سے۔ ہماری دنیا بھی امریکا کے بغیر، ڈالروں کے فراق میں تاریک ہونے لگتی ہے۔ البتہ ہاؤسنگ سوسائٹیوں کی فنی مہارت ہماری دیدنی ہے! بحریہ والے بڑے میاں اب تک خلائی شٹل خریدنے کی مالی استطاعت تو پا چکے ہوںگے۔ اگر چاند پر کوئی ’قمر ہاؤسنگ سوسائٹی‘ لانچ کر دیں تو پاکستان ہی سے بہت سے خریدار میسر آ جائیں گے۔ ان کا کالا دھن چاند کی دودھیا روشنی میں سفید ہو جائے گا۔ وہ سب جن کا پیسہ سنبھالے نہیں سنبھلتا۔ اب تو پی ٹی آئی کے مقصود چپڑاسی اکاؤنٹ دھڑادھڑ ظاہر ہو رہے ہیں۔ اصولاً یہ سبھی پارٹیوں کا چپڑاسی، ریڑھی والا اکاؤنٹ کا پیسہ بحقِ عوام ضبط کیا جائے۔ جس سے ان کی بلائیں دور ہوں۔ مہنگائی کم کرنے، بنیادی سہولتوں کی آسانی کے لیے لگایا جائے۔

فلسطین پوری دنیا کے سامنے 2008ء سے اب تک پانچویں مرتبہ اسرائیلی بموں کی بارش کی زد میں رہا۔ کوئی پرسانِ حال نہیں کیونکہ یہ یوکرین نہیں ہے! تین دن میں 44 فلسطینی بشمول 12 بچے شہید کیے گئے۔ سینکڑوں زخمی۔ ایندھن کی قلت کے سبب، بجلی گھر 4 گھنٹے ہی چلا سکتے ہیں سو طبی امداد بھی میسر ہونی مشکل ہے۔ گھر ملبوں میں تبدیل۔ تکلیف دہ تصاویر، ملبے سے بچوں کو چیزیں تلاشتے دیکھی جاسکتی ہیں۔ جنگ بندی فی الوقت ہو گئی ہے۔ فلسطینی تازہ قبروں پر بیٹھے جسمانی اور نفسیاتی زخموں کے مندمل ہونے کے انتظار میں ہیں۔ دنیا کی سب سے بڑی جیل غزہ اسرائیل کے زمینی، بحری اور فضائی محاصرے میں، بے یار ومددگار ہے۔ 21 لاکھ فلسطینیوں کے امیر رشتہ دار یعنی مشرق وسطی کے مالامال ممالک اسرائیل سے پینگیں بڑھانے میں مصروف ہیں۔ اور یہ آنکھوں میں حسرت ویاس لیے یہی کہہ رہے ہیں۔ کوئی چارہ ساز ہوتا کوئی غم گسار ہوتا!