فلسطین کی کوششوں سے سلامتی کونسل میں قرارداد لائے جانے کا امکان

فلسطین کی کوششوں سے سلامتی کونسل میں قرارداد لائے جانے کا امکان

نیو یارک: خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اقوام متحدہ میں فلسطینی سفیر ریاض منصور کا کہنا ہے کہ امریکا سے مطالبہ کیا جائے گا کہ مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت ماننے کا فیصلہ واپس لیا جائے۔ امکان ہے کہ مصر کی جانب سے مجوزہ قرارداد جلد رکن ملکوں میں تقسیم کی جائے گی۔ اس سلسلے میں مسودے کی زبان پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے تاکہ 14 ارکان کی حمایت حاصل کی جا سکے اگر ایسا ہوا تو یقیناً امریکا قرارداد کو ویٹو کر دے گا۔


یاد رہے کہ رواں ماہ 6 دسمبر کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عالمی دباؤ مسترد کرتے ہوئے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے کا باضابطہ اعلان کیا تھا۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم کے دوران وعدہ کیا تھا کہ اگر وہ صدر منتخب ہوئے تو یروشلم کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کر لیں گے اور اپنے خطاب میں انہوں نے اپنے اس وعدے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا آج میں اپنا وعدہ پورا کر رہا ہوں۔ جس کے بعد فلسطین اور مشرقی وسطیٰ سمیت دیگر ممالک میں بھی اس فیصلے کے خلاف احتجاج اور مظاہروں کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا۔

گذشتہ روز ترکی کے شہر استنبول میں ہونے والے اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے اہم اجلاس کے بعد جاری کیے گئے اعلامیے میں عالمی برادری سے مقبوضہ بیت المقدس کو فلسطین کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ اعلامیے میں کہا گیا تھا کہ امریکی اعلان امن عمل سے دستبرداری ہے اور یہ اقدام انتہا پسندی اور دہشت گردی کو فروغ دے گا۔

گذشتہ روز فلسطینی صدر محمود عباس نے او آئی سی اجلاس سے خطاب میں کہا تھا کہ ہم فلسطین کے امن عمل میں امریکا کے کسی کردار کو تسلیم نہیں کرتے۔ عالمی قوانین کی خلاف ورزی پر دنیا خاموش نہیں رہ سکتی۔ فلسطینی صدر کا کہنا تھا میں مقبوضہ بیت المقدس کے مسلمانوں اور مسیحیوں سے مطالبہ کرتا ہوں کہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے خلاف نکلیں ہم سب کو مقبوضہ بیت المقدس سے متعلق امریکی فیصلے کے خلاف متحد ہونا ہو گا۔

 

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں