انٹر بینک اور اوپن کرنسی مارکیٹ میں ڈالر کی قدر 110روپے کی بلند سطح پر برقرار

انٹر بینک اور اوپن کرنسی مارکیٹ میں ڈالر کی قدر 110روپے کی بلند سطح پر برقرار

کراچی:  اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی مداخلت کے بعد پاکستانی روپے کی قدر 111روپے  کی سطح سے تو   گر گئی مگر اس وقت بھی انٹر بینک اور اوپن کرنسی مارکیٹ میں ڈالر کی قدر 110روپے کی بلند سطح پر برقرا  ر ہی۔گزشتہ چار کاروباری دنوں میں ڈالر کے مقابلے روپے کی قدر میں 4.7فیصد کمی واقع ہوئی تھی۔


فاریکس ایسوسی ایشن آف پاکستان کی رپورٹ کے مطابق جمعرات کے روز انٹر بینک میں روپے کے مقابلے ڈالر کی قدر58پیسے گھٹ گئی جس سے ڈالر کی قیمت خرید 110.50روپے سے کم ہو کر109.82روپے اور قیمت فروخت 110.60روپے سے کم ہو کر110.02روپے پر آگئی اسی طرح مقامی اوپن کرنسی مارکیٹ میں بھی روپیہ تگڑا ہو گیا اور50پیسے کی کمی ڈالر کی قیمت خرید110.30روپے سے کم ہو کر109.80روپے اور قیمت فروخت 110.80روپے سے کم ہو کر110.30روپے ہو گئی ۔ فاریکس رپورٹ کے مطابق یورو کی قدر میں 20پیسے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس سے یورو کی قیمت خرید128روپے سے بڑھ کر128.25روپے اور قیمت فروخت129.80روپے سے بڑھ کر130روپے ہو گئی ۔

اسی طرح45پیسے کے اضافے سے برطانوی پاونڈ کی قیمت خرید 145.30 روپے سے بڑھ کر145.75روپے اور قیمت فروخت147.30روپے سے بڑھ کر147.75روپے پر جا پہنچی ۔کرنسی ڈیلر کا کہنا تھا کہ ڈالر کی قدر میں موجودہ استحکام وقتی ہے اور مارکیٹ مزید اتار چڑھا دیکھے گی۔

کرنسی ڈیلرز کے مطابق تین دن کے غیر مستحکم اتار چڑھا کے بعد اسٹیٹ بینک کی مداخلت واضح نظر آئی دو بڑے بینکس، انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر کی فروخت میں مصروف رہے جس کی وجہ سے اس کی قیمت میں کمی واقع ہوئی تاہم ٹریڈنگ کے دوران ان بینکوں کو اطلاع موصول ہوگئی تھی کہ اسٹیٹ بینک وہاں ڈالر کی قیمت کی نگرانی کے لیے موجود ہے تاکہ وہ دوبارہ111روپے کی سطح پر نہ پہنچ سکے۔

کرنسی ڈیلرز کے مطابق درآمد کنندگان کی جانب سے ڈالر کو خریدنے میں جلدی دکھائی گئی لیکن یہ ایک خوف زدہ صورتحال نہیں تھی کیونکہ ڈالر گزشتہ روز کی قیمت پر ہی فروخت ہورہا تھا۔

نیوویب ڈیسک< News Source