کرپشن سے پاک لوگ ایم ایم اے کا حصہ بن سکتے ہیں, سینیٹر سراج الحق

کرپشن سے پاک لوگ ایم ایم اے کا حصہ بن سکتے ہیں, سینیٹر سراج الحق

اسلام آباد:  امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ دینی جماعتوں کے ساتھ ساتھ وہ لوگ بھی ایم ایم اے کا حصہ بن سکتے ہیں جن کے دامن کرپشن اور مافیاؤں سے پاک ہیں, ہم ایسے لوگوں سے رابطے میں ہیں جو باصلاحیت ہونے کے ساتھ ساتھ ہر لحاظ سے صاف شفاف ہیں اور ان کے دامن پر کرپشن کا کوئی دھبہ نہیں ہے اور ڈیلیور کرنا چاہتے ہیں اگر عمران خان کو ایم ایم اے کا پلیٹ فارم دینے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو یہ ملک و قوم کے ساتھ بھلائی ہو گی.


ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کیس بہت سنجیدہ ہے اس کی وجہ سے پنجاب کے حکمرانوں پر خوف طاری ہے, میں نہیں سمجھتا کہ اس کیس سے پنجاب کے حکمران آسانی سے بچ سکیں گے. ایم ایم اے بنانے میں کوئی جلدی نہیں. مذہبی جماعتوں کے علاوہ بھی جو لوگ کرپشن سے پاک ہیں جن کے دامن پر کرپشن کا کوئی دھبہ نہیں ہے اور باصلاحیت ہیں اور ڈیلیور کرنا چاہتے ہیں اگر ہم ان سب کو پلیٹ فارم دینے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو قوم اور ملک کے ساتھ بڑی بھلائی ہو گی. ہم چاہتے ہیں ہم پاک صاف اور پاک دامن لوگوں کو  اکٹھا   کریں. مجھے بڑی خوشی ہے کہ اس وقت جو لوگ ایم ایم اے میں شامل ہیں ان میں سے کسی کا نام پاناما لیکس  میں شامل نہیں اور نہ ہی پیراڈائز  لیکس میں شامل ہیں۔ ان کا نام قرضہ لینے والوں شوگر مافیا میں نہیں ہے وہ اس وقت نیب میں حاضری دینے پر مجبور نہیں ہے۔

 انہوں نے کہا کہ فاٹا اصلاحات کے لیے حکومت میں صلاحیت نہیں ہے، ایم کیو ایم نے پہلی بار سچ بولنا شروع کیا ہے ان کے سچ کو قبول کرنا چاہیے اس لیے ہم سمجھتے ہیں کہ جماعت اسلامی کراچی میں متبادل کے طور پر سامنے آجائے، جماعت اسلامی وہاں گلیوں اور کوچوں میں موجود ہے۔

زاہد حامد کے استعفٰی کے بارے میں سوال پر امیر جماعت نے کہاکہ ختم نبوت کے بل میں ترمیم زاہد حامد اکیلا نہیں کر سکتا اس کے ساتھ اور بھی بہت سارے لوگ ہوں گے اسلیے میں چاہتا ہوں ان سب کے بارے میں قوم کو بتایا جائے اور انصاف قائم کیا جائے جس کا جتنا جرم ہے اتنی ہی اس کو سزا دی جائے۔

فوج کے اسلام آباد دھرنے میں ثالثی کے کردار ادا کرنے کے بارے میں سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ تماشائی بننے کے باوجود جن لوگوں نے تماشائی بننے کے بجائے صلاح صفائی میں کردار ادا   کیا ہے ان کی تعریف کی جانی چاہیے۔

نیوویب ڈیسک< News Source