مکہ مکرمہ: رابطہ عالم اسلامی کے زیر اہتمام 2 روزہ بین الاقوامی کانفرنس

مکہ مکرمہ: رابطہ عالم اسلامی کے زیر اہتمام 2 روزہ بین الاقوامی کانفرنس
فوٹو سوشل میڈیا ۔۔ فیس بک اکاونٹ عامر عزیز

مکہ مکرمہ: رابطہ عالم اسلامی کے زیر اہتمام 2 روزہ بین الاقوامی کانفرنس کا آغاز ہو گیا ہے ۔


تفصیلات کے مطابق اسلامی کانفرنس سے اہم ترین مذہبی شخصیات نے شرکت کی ہے ۔عالم اسلام کو مسلم معاشروں سے تکفیر اور تشدد کو ختم کرنے کے لیے اسلام کی اصل تعلیمات کو عام کرنا ہوگا ۔ مکہ المکرمہ میں دنیا بھر کے شیعہ ، سنی علماٗ اور مشائخ نے اکٹھے ہو کر تکفیر اور تشدد کو جڑ سے ختم کرنے کا عزم کیا۔

مکہ المکرمہ (سبوخ سید ) رابطہ عالم اسلامی کے زیر اہتمام مکہ المکرمہ میں دو روزہ کانفرنس کے موقع دنیا بھر سے آئے ہوئے علمااور مفتیان نے کہا ہے کہ تکفیر اور تشدد نے مسلم معاشروں کو تباہی کے دھانے پر لا کھڑا کیا ہے ۔ کانفرنس میں گورنر مکہ خالد الفیصل، آئمہ حرمین ، مفتی اعظم سعودی عرب عبد العزیز بن عبداللہ آل الشیخ ، جامعة الازہر مصر کے مفتی اعظم ڈاکٹر شوقی علام ،شیشان کے مفتی اعظم محمد صلاح مجییف،مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد رفیع عثمانی ، رابطہ عالم اسلامی کے سیکرٹری جنرل محمد بن عبدالکریم العیسیٰ سمیت دیگر اہم شخصیات نے بھی شرکت کی ۔ مقررین نے کہا کہ اسلام اعتدال کا دین ہے ۔ انہوں نے کہا کہ علماٗ کو لوگوں کے ذہنوں میں یہ بات واضح اور راسخ کرنی ہے کہ قومی ریاستوں کے نظم میں لوگوں کی رہ نمائی کن خطوط پر اور کیسے کرنی ہے ۔

انہوں نے کہا کہ قر آن وسنت کی تعلیمات مسلمانوں کو وحدت اور اتحاد کی جانب پکارتی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ مسلم معاشروں کو بچانے کے لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ علمائے کرام ، مشائخ عظام اور مسلم سماج کو باہمی اتحاد اور اتفاق کے ساتھ آگے بڑھنا ہو گا ۔ مقررین نے کہا کہ مکہ دنیا بھر کے مسلمانوں کا مرکز ہے اور یہاں سے اٹھنے والی آواز کو پورے عالم اسلام میں قدر اور تائید کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مسلکی تنازعات کا حل قرآن وسنت میں موجود ہے ۔ ایک دوسرے پر کفر اور فسق کے فتوے کسی طور پر بھی جائز نہیں ۔ رائے کا اختلاف زندہ معاشروں کا امتیاز ہے تاہم رائے کے اختلاف کی بنیاد پر ایک دوسرے کے خلاف کھڑے ہو جانا مناسب عمل نہیں ۔

کانفرنس میں سعودی عرب کے علاوہ یمن ، شام ، لبنان ، عراق ، افغانستان ، بھارت ، مصر ،ایران ، سری لنکا ، سوڈان ، عمان ، متحدہ عرب امارات ، موریطانیہ ، الجزائر ، فرانس ، کویت ، چیچنیا ، امریکا ، اردن ، افریقہ ، جرمنی ، انگلینڈ ، بلجئیم سمیت ایک سو سات ممالک کے چوٹی کے علماٗ اور صوفی سلسلوں کے صوفیا شریک تھے ۔ تمام مسالک کے جید علما ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے مسجد الحرام میں داخل ہوئے تو مسجد الحرام میں موجود لوگوں نے خوشی کا اظہار کیا ۔

علماٗ نے کہا کہ اس وقت مسلم ممالک اور معاشروں کو داخلی اور خارجی محاذ پر کئی مسائل کا سامنا ہے ۔ داخلی طور پر فرقہ واریت ، تکفیر ، تشدد اور الحاد جیسے مسائل ہیں جبکہ خارجی محاذ پر اسلامو فوبیا جیسے مسائل کھڑے ہیں ۔ سعودی عرب کے مفتی اعظم نے زور دیکر کہا کہ علماٗ کرام خود کو علم کے زیور سے مسلح کر کے معاشروں سے نفرت کا خاتمہ کریں ۔انہوں نے کہا کہ اپنے ملکوں کے قوانین کو ماننے میں ہی خیر ہے ۔ علماٗ نے کہا کہ علمی اختلاف کے باجود بھی دوسرے مسالک اور شخصیات کا احترام لازم ہے ۔ ہم رحمة للعالمین کے پیروکار ہیں جنہوں نے انسانیت کے احترام کا سبق سکھایا ۔

کانفرنس میں ایک ہزار سے زائد مندوبین شریک ہوئے جن میں چھ سو سے زائد مندوبین کا تعلق دیگر ممالک سے تھا ۔ کانفرنس میں پاکستان سے بھی اہم وفد نے شرکت کی جس میں تمام مسالک اور مکاتب فکر کی نمایاں اور جید شخصیات موجود تھیں ۔ وفاقی وزیر مذہبی امور ڈاکٹر نور الحق قادری ، مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد رفیع عثمانی ، بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے ریکٹر ڈاکٹر معصوم یاسین زئی ، یونیورسٹی کے صدر ڈاکٹر محمد یوسف الدرویش ، ادارہ تحقیقات اسلامی کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر محمد ضیاٗ الحق ، سابق ڈپٹی چئیر مین سینیٹ مولانا عبدالغفور حیدری ، پیر صاحب آف مانکی شریف پیر شمس الامین ، وفاق المدارس العربیہ کے سیکرٹری جنرل مولانا قاری محمد حنیف جالندھری ، تنظیم المدارس اہلسنت کے سربراہ مفتی منیب الرحمان ، مولانا عمر عبدالحفیظ مکی، وفاق المدراس السلفیہ کے جنرل سیکرٹڑی مولانا یاسین ظفر ، پاکستان علماٗ کونسل کے سربراہ حافظ طاہر محمود اشرفی ، جماعت اسلامی آزاد کشمیر کے صدر عبدالرشید ترابی ، رکن پنجاب اسمبلی مولانا الیاس چینوٹی ، جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاؤن کے مولانا تقی الدین شامزئی اور مولانا سید سلیمان بنوری ، آزاد کشمیر کے سابق وزیر اعظم سر دار محمد عتیق سمیت اہم شخصیات نے شریک ہوئے ۔

کانفرنس میں شریک علماٗ نے ایک دوسرے کے ساتھ اپنے اپنے ممالک میں اتحاد اور وحدت کے لیے کی جانے والی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا ۔ علماٗ نے پاکستانی علمائے کرام کی جانب سے پیغام پاکستان بیانیے کو معاشرے میں امن اور رواداری کے قیام کے لیے اہم کوشش قرار دیا ۔