مولانا سمیع الحق قتل کیس میں اہم پیش رفت، پرسنل سیکرٹری گرفتار

مولانا سمیع الحق قتل کیس میں اہم پیش رفت، پرسنل سیکرٹری گرفتار
کیپشن:   مولانا سمیع الحق کو راولپنڈی میں ان کے گھر میں نامعلوم شخص نے چھریوں کے وار کر کے ہلاک کر دیا تھا۔۔۔۔۔فائل فوٹو

راولپنڈی: مولانا سمیع الحق قتل کیس میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ پولیس نے پرسنل سیکرٹری احمد شاہ کو حراست میں لے لیا ہے۔ پولیس نے مولانا سمیع الحق قتل کیس میں مولانا کے پرسنل سیکرٹری احمد شاہ کو حراست میں لے کر پوچھ گچھ شروع کر دی ہے۔ احمد شاہ نے ہی پولیس کو قتل کی اطلاع بھی دی تھی۔

بتایا گیا ہے کہ مولانا احمد شاہ مولانا سمیع الحق کے انتہائی قریبی ساتھی ہیں اور وہ مولانا سمیع الحق کے ڈرائیور، آپریٹر اور گن مین کے فرائض بھی سرانجام دیتے تھے۔

مولانا احمد شاہ کو شامل تفتیش کرنا تھا لیکن وہ پولیس کو دستیاب نہیں ہوئے۔ پولیس نے احمد شاہ کو ان کے رشتہ داروں کے تعاون سے حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا ہے۔ انہوں نے پولیس اور مولانا کے بیٹے کو سب سے پہلے قتل کی اطلاع دی تھی۔

خیال رہے گزشتہ ماہ 2 نومبر کو اکوڑہ خٹک مدرسے کے سرپرستِ اعلیٰ اور جمیعت علمائے اسلام (س) کے سربراہ مولانا سمیع الحق کو راولپنڈی میں ان کے گھر میں نامعلوم شخص نے چھریوں کے وار کر کے ہلاک کر دیا تھا۔

پولیس کے مطابق محافظ اور ڈرائیور کے باہر جانے کے بعد حملہ آور دیوار پھلاند کر مکان میں داخل ہوا اور پہلے چھری کے وار کیے اور بعد میں گولی ماری۔