سپریم کورٹ نے بلوچستان میں پینے کے پانی کی صورتحال پر کمیشن قائم کر دیا

سپریم کورٹ نے بلوچستان میں پینے کے پانی کی صورتحال پر کمیشن قائم کر دیا
کیپشن:   بھاگ ناڑی میں واٹر سپلائی اسکیم 2000 سے غیرفعال ہے، مکین بھاگ ناڑی۔۔۔۔۔فائل فوٹو

اسلام آباد: سپریم کورٹ میں چیف جسٹس کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے بلوچستان کے علاقے بھاگ ناڑی میں پانی کے بحران سے متعلق کیس کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران کمرہ عدالت میں بھاگ ناڑی میں پانی کے تالاب کی ویڈیو چلائی گئی۔

وڈیو دیکھ کر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ تالاب سے گدھوں پر پانی لے جایا جاتا ہے۔ حکومت بلوچستان یہ ویڈیو دیکھے اور اس طرح کا پانی لوگوں کو پلا رہے ہیں یہ پانی لوگوں کو پلا کر ان کی زندگیوں سے کھیل رہے ہیں لیکن2 کسی نے آر او پلانٹ نہیں لگایا۔

ڈی سی بولان نے عدالت کو بتایا کہ سارے مسائل کی وجہ علاقے میں پانی کی کمی ہے اور از خود نوٹس کے بعد صوبائی کابینہ نے 7 کروڑ 50 لاکھ کی منظوری دے دی ہے۔

بھاگ ناڑی کے مکین نے عدالت کو بتایا کہ ہماری حالت تھر سے بھی بدتر ہے کیونکہ کوئٹہ سے ہمارا علاقہ دو سو کلومیٹر دور ہے اور بھاگ ناڑی میں واٹر سپلائی اسکیم 2000 سے غیرفعال ہے جبکہ پانی کی کمی کی وجہ سے علاقہ کی آبادی دو لاکھ سے 73 ہزار رہ گئی ہے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ متعلقہ لوگوں کی ذمہ داری ہے کہ پانی کو صاف کریں۔ کم ازکم تالاب کا پانی ہی ٹریٹ کر دیں۔ بھاگ ناڑی کے علاوہ بھی کئی علاقوں میں پانی کی یہی صورتحال ہے۔

دوران سماعت رکن قومی اسمبلی شاہ زین بگٹی نے عدالت کو آگاہ کیا کہ وہ نوٹس لینے پر عدالت کے شکرگزار ہیں کیونکہ انہوں نے ذاتی اخراجات پر ٹیوب ویل شروع کروایا۔ انہوں نے استدعا کی کہ عدالت علاقے میں واٹر سپلائی سکیم کی انکوائری کروائے۔

سپریم کورٹ نے بلوچستان میں پینے کے پانی کی صورتحال پر صدر سپریم کورٹ بار امان اللہ کنرانی کی سربراہی میں کمیشن قائم کر کے دو ہفتے میں رپورٹ طلب کر لی۔ اس کے علاوہ عدالت عظمیٰ نے ایک ماہ میں بھاگ ناڑی میں آر او پلانٹ نصب کرنے کا بھی حکم دے دیا۔ چیف جسٹس نے سپریم کورٹ بار کے صدر کو ہدایت کی کہ جہاں جہاں ایسے حالات ہیں مجھے رپورٹ بنا کر دیں۔ کمیشن بلوچستان میں پانی کی صورتحال سے آگاہ کرے گا اور کمیشن رپورٹ پر حکومت سے عملدرآمد کا ٹائم فریم لیں گے۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ تھر میں کسی نے آر او پلانٹ کا پانی پینے کی کوشش نہیں کی؟ ۔ رکن قومی اسمبلی رمیش کمار نے عدالت کو بتایا کہ تھر کی کوئی ڈویلپمنٹ اتھارٹی نہیں ہے اور اتھارٹی کے قیام تک تھر کے حالات بہتر نہیں ہوں گے۔