امریکی سینیٹ نے یمن جنگ سے فوری انخلا کی قرار داد منظور کر لی

امریکی سینیٹ نے یمن جنگ سے فوری انخلا کی قرار داد منظور کر لی
کیپشن:   image by facebook

نیویارک :امریکی سینیٹ نے 45 سالہ تاریخ میں پہلی مرتبہ عالمی سطح پر جنگ کا اختیار اپنے ہاتھ میں لے لیا ، سینیٹ نے 41 کے مقابلے میں 56 ووٹوں سے قرارداد کو منظور کر لیا جس میں کسی بھی ملک کیخلاف جنگ سے قبل سینیٹ سے منظوری کو یقینی بنایا گیا ہے اور یمن کیخلاف جنگ سے فوری انخلا کے نکات کو شامل کیا گیا ہے ۔

تفصیلات کے مطابق امریکی سینیٹ نے پہلی مرتبہ جنگ کے اختیار کو وائٹ ہاوس سے نکال کر اپنے اختیار میں کر لیا گیا ہے ، سینیٹ نے 41 کے مقابلے میں 56 ووٹوں سے قرار داد منظور کرتے ہوئے امریکہ کو یمن جنگ سے فوری طور پر نکلنے کے شق کی منظوری دے دی ہے ۔

پینٹا گون کے احتجاج اور منع کرنے کے باوجود وائٹ ہاوس نے فیصلہ کیا تھا کہ ان کو سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی مدد کے لیے یمن جنگ کا حصہ بننا چاہئے ، قرارداد کی منظوری کے دوران سینٹ میں یمن جنگ سے متاثرہ بچوں اور معصوم لوگوں کی ظلم و ستم پر مبنی پوسٹرز بھی آویزاں کیے گئے تھے ۔

سینیٹ کی قرارداد کے بعد امریکی افواج کو فوری طور پر یمن جنگ سے نکلنا ہوگا ، امریکہ اب سعودی عرب اور اقوام متحدہ کی مدد کے لیے کسی بھی دہشتگردی کے خلاف کارروائیوں کا مزید حصہ نہیں رہے گا جبکہ ڈرون سٹرائکس اور دیگر آپشننز  کوبھی بند کرنا ہوگا۔

لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ امریکی افواج کی مدد کے بغیر اب سعودی عرب کس طرح ان سب خطرات سے نبرد آزما ہوگا، اس میں ایک رائے یہ بھی ہےکہ اس صورتحال میں پاکستان واحد ملک ہے جو سعودی عرب کی مدد کر سکتا ہے ، یمن جنگ اور دہشتگردوں کے خلاف کارروائیوں میں پاکستانی افواج خدمات دینے کے قابل ہے لیکن اب اس مسئلے کو حکومتی سطح پر حل کرنے کی ضرورت ہے ۔