نسل پرستی کے الزامات پر گھانا کی یونیورسٹی سے مہاتما گاندھی کے پتلے کو ہٹا دیا گیا

نسل پرستی کے الزامات پر گھانا کی یونیورسٹی سے مہاتما گاندھی کے پتلے کو ہٹا دیا گیا
کیپشن:   image by facebook

آکرہ :گھانا کی یونیورسٹی نے نسل پرستی کے الزامات پر مقامی یونیورسٹی میں نصب بھارتی مہاتما گاندھی کی مورتی کو ہٹا دیا ہے ، یونیورسٹی انتظامیہ نے ایک پروفیسر کی جانب سے نسل پرستی میں کردار کی شکایت پر مہاتما گاندھی کے پتلے کو کیمپس سے ہٹایا ہے ۔

تفصیلات کے مطابق گھانا کی مقامی یونیورسٹی میں نصب مہاتما گاندھی کے پتلے کو نسل پرستی کے الزامات پر ہٹا دیا گیا ہے ، یونیورسٹی کے پروفیسر کی جانب سے جمع کردہ شکایت کے بعد یونیورسٹی انتظامیہ حرکت میں آئی اور پتلے کو فوری طور پر کیمپس سے ہٹا دیا گیا ہے ۔ یونیورسٹی انتظامیہ نے بتایا کہ ہمیں معلوم نہیں تھا کہ اس پتلے کی شخصیت کا ماضی میں کیسا کردار رہا ہے۔

ایک پروفیسر کی جانب سے شکایت پر ہم نے کارروائی کی ہے ، ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ یہ وزارت خارجہ کا کام ہے کہ وہ پتلے کو ملک کے کسی اور حصے میں نصب کرتی ہے یا نہیں ، اب اس پتلے کو یونیورستی کمیمپس میں جگہ نہیں دی جائے گی ۔

شکایت درج کرانے والے پروفیسر کا کہنا تھا کہ مہاتما گاندھی نے بغیر احتجاج اور خوب خرابے کو ملک کو انگریزوں سے گرفت سے آزاد کرایا لیکن ان پر نسل پرستی کے بھی الزامات ہیں اگر ایک شخصیت کا کردار نسل پرستی کے الزامات میں آتا ہے تو اس کا پتلا کیمپس میں موجود ہونے کا مطلب ہے کہ ہم سب ان کے پیروکار ہیں یا ان کی تعلیمات پر عمل کر رہے ہیں ۔

ایک طالب علم اپنی رائے دیتے ہوئے کہا کہ یونیورسٹی میں ایسی شخصیت کا پتلا ہونا چاہئے جسے ہم سب جانتے ہیں کسی ملکی شخصیت کا تاکہ اس کی پیروی کا جز شامل ہو سکے۔