دھماکے میں شہید ہونے والے بلال اور فاطمہ کی ایک ماہ بعد شادی تھی

دھماکے میں شہید ہونے والے بلال اور فاطمہ کی ایک ماہ بعد شادی تھی

لاہور:مال روڈ پر ہونے والے دھماکے نے ہنستے بستے کئی گھر اجاڑ دئیے ،دھماکے میں شہید ہونے والابینک آفیسر بلال امجد ڈیوٹی ختم ہونے کے بعد اپنی شادی کے کارڈ کی تقسیم اور فاطمہ شاپنگ کےلئے گھر سے نکلے تھے لیکن دونوں اپنے پیاروں کو روتا ہوا چھوڑ کر دنیا سے رخصت ہو گئے ۔ مال روڈ بم دھماکے میں شہید ہونے والی جواں سالہ فاطمہ نشتر کالونی کے قریب واقع وحید برادرزکالونی کی رہائشی تھی جو اپنے چودہ سالہ بھائی بلال کے ہمراہ شاپنگ اور بھائی کی سالگرہ کےلئے گفٹ لینے گھر سے نکلی تھی ۔


والدہ نے روتے ہوئے بتایا کہ بیٹی نے کہا کہ امی روٹی بنا دو پھر کہا واپس آ کر کھاﺅں گی اور بھائی کو لے کر چلی گئی۔ والدہ نے کہا کہ میری ہیرے جیسی بیٹی ہم سے دور چلی گئی میں اسے کہاں سے ڈھونڈ کرلاﺅں گی ۔ ماں نے دل چیرتی ہوئی دہائی دیتے ہوئے کہا کہ کب تک معصوم جانیں دہشتگردی کی بھینٹ چڑھتی رہیں گی ، کب دہشتگردوں کو پکڑا جائے گا اور انہیں کب سزائیں دی جائیں گی ۔

اہل خانہ کے مطابق فاطمہ کی ایک ماہ بعد شادی تھی اور اس کا منگیتر آئندہ چند روز میں امریکہ سے پاکستان واپس آنے والا تھا ۔ بم دھماکے میں شہید ہونے والے والدین کا اکلوتا بیٹا محمد بلال امجد پی آئی اے کالونی کا رہائشی تھی اور اسکی چند روز قبل ہی نجی بینک میں بطور اسسٹنٹ مینیجر ترقی ہوئی تھی ۔ بتایا گیا ہے کہ محمد بلال امجد کی 12مارچ کو شادی ہونا طے تھی اور بینک سکوائر سے ڈیوٹی ختم کرنے کے بعد شادی کے کارڈ کی تقسیم کے لئے جارہا تھاکہ دھماکے کی زد میں آکر گھر والوں کو روتا ہوا دنیا سے چلا گیا ۔