براڈ شیٹ کا معاملہ، پبلک اکاونٹس کمیٹی نے تحقیقات کا حکم دے دیا

براڈ شیٹ کا معاملہ، پبلک اکاونٹس کمیٹی نے تحقیقات کا حکم دے دیا
براڈ شیٹ کا معاملہ، پبلک اکاونٹس کمیٹی نے تحقیقات کا حکم دے دیا

اسلام آباد: پبلک اکاونٹس کمیٹی نے براڈ شیٹ کی مکمل تحقیقات کا حکم دے دیا اور رانا تنویر نے کہا ہے کب اور کس نے کتنے پیسے دیئے ہیں جس کے بارے میں مکمل کھوج لگائیں گے اور سب ہم بتائیں گے

چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی رانا تنویر کی زیر صدارت پارلیمنٹ میں اجلاس ہوا جس میں رانا تنویر نے کہا کہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کسی ممبر کے پروڈکشن آرڈر جاری کرتے ہیں لیکن عمل نہیں ہوتا ہے۔ جس پر ایاز صادق نے کہا کہ اسپیکر قومی اسمبلی کسی کمیٹی کے چیئرمین کے پروڈکشن آرڈر کو روک نہیں سکتے۔

شیخ روحیل اصغر نے پی اے سی کا بائیکاٹ کرتے ہوئے کہا کہ کابینہ میں پبلک اکاونٹس کمیٹی کی ساکھ کو متاثر کیا گیا۔ راجا پرویز اشرف کا کہنا تھا کابینہ میں یہ سنگین الزام لگا ہے کہ پی اے سی اربوں روپے لے کر آڈٹ اعتراضات نمٹاتی ہے۔

چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی رانا تنویر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا براڈ شیٹ معاملے پر 19 جنوری کو نیب اور آڈیٹر جنرل سے رپورٹ طلب کی ہے، آڈیٹر جنرل کو براڈ شیٹ معاملے کی انکوائری کی ہدایت کی ہے، بتایا جائے کہ براڈ شیٹ کی خدمات کب حاصل کی گئیں، معاہدہ منسوخ کب ہوا اور کتنی ادائیگی کی گئی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ براڈ شیٹ کا مکمل کھوج لگائیں گے اور وزیر اعظم کہتے ہیں کہ براڈ شیٹ کو کس نے کینسل کیا اور ہم بتائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پی اے سی پر کابینہ اجلاس میں الزامات کے معاملے پر سیکرٹری کابینہ کو خط لکھا جائے گا اور پہلے یہ طے کریں گے کہ کابینہ میں یہ بات ہوئی بھی ہے یا نہیں۔