جماعت اسلامی کا کل کراچی کے 50 مقامات پر دھرنے دینے کا اعلان

جماعت اسلامی کا کل کراچی کے 50 مقامات پر دھرنے دینے کا اعلان
کیپشن:   جماعت اسلامی کا کل کراچی کے 50 مقامات پر دھرنے دینے کا اعلان سورس:   فائل فوٹو

کراچی: جماعت اسلامی نے متنازعہ مردم شماری کے خلاف 28 جنوری کو کراچی کے 50 مقامات پر دھرنے دینے کا اعلان کر دیا۔اس حوالے سے پریس کانفرنس کرتے ہوئے جماعت اسلامی کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ 28 جنوری کو شہر میں 50 مقامات پر دھرنے دئیے جائیں گے جبکہ اس سے قبل 16 جنوری کو الادین پارک روڈ پر بھی دھرنا دیا جائے گا۔ شہر بھر میں جعلی مردم شماری کے خلاف دھرنے اور مظاہرے کیے جائے گے جبکہ جعلی حکومت اور جعلی اپوزیشن ہر برے کام میں ایک ہیں اور میڈیا پر بیٹھ کر ناٹک کیا جاتا ہے۔

انہوں نے ایم کیو ایم، پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ تینوں جماعتیں کراچی کے لوگوں کے ساتھ کھیل رہی ہیں اور بس پیکج کا اعلان ہوتا ہے عملاً کوئی ریلیف نہیں ملتا اور پیپلز پارٹی مسلسل 12 سال سے اقتدار میں ہے مگر کراچی کے لیے کچھ نہیں کیا، ایم کیو ایم کوٹہ سسٹم کے حوالے سے اپنی پوزیشن واضح کرے۔ وہ کابینہ میں شامل ہے تو کیسے کوٹہ سسٹم میں اضافہ ہوا۔ حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ کیا جرم کیا ہے کراچی نے جو سرکاری نوکریوں سے محروم رکھا جاتا ہے۔ وفاقی کابینہ کا مردم شماری کی منظوری دینا غیر قانونی ہے۔ جعلی مردم شماری سے کراچی کی آبادی کو آدھا دکھایا گیا ہے 1981 سے کراچی کی آبادی کم دکھائی گئی۔1981 میں 98 لاکھ ابادی جو 50 لاکھ دکھایا گیا ، 1998 میں 98 لاکھ دکھایا گیا۔

انہوں نے کہا کہ کراچی کے بہت سے ایسے بلاک دیکھائے گئے ہیں کہ جہاں مردم شماری میں صفر گھرانے اور صفر آبادی دیکھائی گئی ہے کراچی جب بولتا تھا تو پورا ملک بولتا تھا کراچی کی آواز کو بند کرنے کے لیے کراچی کی آبادی پر ڈاکہ ڈالا گیا ہے۔ کراچی کے تین کروڑ سے زائد لوگوں کا حق ہے کہ انہیں درست گنا جائے پی ایس پی ایم کیو ایم کی پارٹی ہے ایم کیو ایم کے دور میں کراچی ٹرانسپورٹ سسٹم بند کیا گیا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ جماعت اسلامی نے اس شہر کی خدمت کی ہے۔ وبا اور لاک ڈاون کے دوران صرف جماعت اسلامی کراچی میں نظر آئی کراچی کے نوجوانوں کو مقامی اداروں میں ترجیحی بنیادوں پر ملازمت ملنی چاہیئے ۔ بلدیاتی اداروں میں کراچی کے نوجوانوں کو نوکری ملنی چاہیئے کراچی میں ابتدائی تعلیم کا سرکاری نظام برباد کر دیا گیا کراچی کے تعلیمی نظام کو جان بوجھ کر ختم کیا جا رہا ہے۔ کراچی کے لوگوں کو جھوٹے نعروں پر نہیں چھوڑا جا سکتا سال 2020 میں بھی سب سے زیادہ ٹیکس کراچی نے ادا کیا ہے۔

حافظ نعیم الرحمان نے مزید کہا کہ کراچی کے جتنے مسائل ہیں ان میں ایم کیو ایم ، پی ٹی آئی، ن لیگ، اور پی پی شریک ہیں کے الیکٹرک کو محفوظ راستہ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے تابش گوہر بائیکو کے کیسز میں ملوث ہیں۔