بد عنوانی کا کوئی داغ ہے تو الزام لگانے والے سامنے لائیں، وزیر اعظم کا چیلنج

بد عنوانی کا کوئی داغ ہے تو الزام لگانے والے سامنے لائیں، وزیر اعظم کا چیلنج

اسلام آباد: وزیراعظم کی زیر صدارت مسلم لیگ ن کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ہوا. اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نواز شریف نے کہا متنازعہ جے آئی ٹی کی متنازعہ رپورٹ ہمارے مخالفین کے بے بنیاد الزامات کا مجموعہ ہے جبکہ اس رپورٹ میں ہمارے موقف اور ثبوتوں کو جھٹلانے کے لیے کوئی ٹھوس دستاویز پیش نہیں کی گئی۔ صرف ہمارے خاندان کے 62 سالہ کاروباری معاملات کو مفروضوں، سورس رپورٹوں، بہتانوں اور الزام تراشیوں کی بنیاد پر نشانہ بنایا گیا ہے۔


اپنے خطاب میں انہوں نے کہا عوام کا مینڈیٹ لے کر حکومت میں آئے تھے اور سب سے بہتر احتساب کا ادارہ عوام ہے۔ عوام ہمارے ساتھ ہیں اور ہمیشہ عوام کی رائے کا احترام کیا۔

ان کا مزید کہنا تھا موجودہ صورتحال پاکستان کی 70سالہ تاریخ ہی کا ایک عکس ہے کوئی ایک جملہ ایسا نہیں جس سے اشارہ بھی ملے کہ نواز شریف کرپشن کا مرتکب ہوا ہے۔ سکینڈل تو دور کی بات رپورٹ کے چار ہزار صفحات میں کرپشن، بدعنوانی کا کوئی الزام تک نہیں لگایا جا سکا۔ میرے اقتدار کے پانچوں ادوار اور شہباز کے ادوار میں اگر ہمارے خلاف رتی بھر کرپشن کا بھی کوئی کیس ہے تو بتائیں۔

انہوں نے کہا میرے راستے میں مشکلات کھڑی کی گئی لیکن میں اپنے نظریہ او رموقف پر جما رہا جبکہ مجھے نااہل قرار دے کر انتخابات سے باہر کیا گیا لیکن ہمت نہیں ہاری اور سب سے بڑھ کر مشرف کی آمریت کے سامنے سر نہیں جھکایا۔

وزیراعظم نواز شریف نے کہا میں نے جان ہتھیلی پر رکھ کر عدلیہ بحالی کے لیے لانگ مارچ کیا کیونکہ مجھے امریکی اور برطانوی رہنماؤں کے فون آئے کہ آپ کی جان کو خطرہ ہے لانگ مارچ کے لیے نہ نکلیں اور آج جو بڑے بڑے لیڈر بنے بیٹھے ہیں اُس وقت چھپ گئے تھے۔

اس سے پہلے وزیراعظم نوازشریف کا پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں پرجوش استقبال کیا گیا

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں