لندن ٹیکسی کے قطر سے اظہار یکجہتی کا بھانڈہ پھوٹ گیا

لندن ٹیکسی کے قطر سے اظہار یکجہتی کا بھانڈہ پھوٹ گیا

لندن:دہشت گردی کی پشت پناہی اور مالی امداد کے الزامات کے بعد چار عرب ممالک کے بائیکاٹ کا سامنا کرنا والے خلیجی ملک قطر نے عالمی سطح پر جعلی ہمدردیاں حاصل کرنے اور کرائے پر یکجہتی مہمات چلانے کا نیا حربہ اختیار کیا ہے۔


عرب ٹی وی کے مطابق حال ہی میں برطانیہ کے دارالحکومت لندن میں اجرت پر ٹیکسی سروسز فراہم کرنے والی ایک ٹرانسپورٹ کمپنی نے 200 کاروں پر قطر کے بائیکاٹ کے خلاف اور قطری ٹی وی چینل الجزیرہ کی حمایت میں اشتہارات پرنٹ کرائے جسے قطری سوشل میڈیا کارکنوں نے تو غیرمعمولی کامیابی سے تعبیر کیا ہے۔

تاہم لندن ٹیکسی سروس کی اظہار یکجہتی مہم کا بھانڈہ جلد ہی پھوٹ گیا۔لندن ٹیکسی سروسز کی طرف سے قطر کے ساتھ اظہار یکجہتی کی مہم کوئی رضاکارانہ کوشش نہیں بلکہ ان ٹیکسی کمپنی کو کاروں پر قطرکی حمایت میں اشتہار آویزاں کرنے کی اجرت ادا کی گئی ہے۔دوسری جانب سوشل میڈیا پر اس حوالے سے ایک نئی بحث بھی جاری ہے۔

سماجی کارکنوں کا کہناتھا کہ لندن میں کرائے پر قطر کی حمایت کی مہم نے دوحہ کی بین الاقوامی ہمدردیوں اور یکجہتی کی حقیقت آشکار کردی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ لندن ٹیکسی کمپنی کی طرف سے دو سو کاروں پر قطر کی حمایت میں اشتہاری مہم چلانا کوئی انوکھی بات نہیں۔

لندن اور برطانیہ کے کئی دوسرے شہروں میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی حمایت میں اشتہارات کی شکل میں گھومتی پھرتی کاروں کی بھی کوئی کمی نہیں۔

سوشل میڈیا پر قطر مخالف کارکنوں نے ایسی کاروں کی تصاویر بھی پوسٹ کی ہیں جن میں سعودی عرب یا متحدہ عرب امارات کی حمایت کی گئی ہے۔ ایک پوسٹ میں سعودی فٹ بالر ٹیموں ہلال اور النصر کے درمیان ہونے والے فٹ بال مقابلے کا اشتہار بھی دیکھا جاسکتا ہے جس میں کار کے مالک نے ان ٹیموں کی مکمل حمایت کا اظہار کیا ہے۔