حکومت حکومت ہوتی ہے، ن کی ہو یا پی ٹی آئی کی

حکومت حکومت ہوتی ہے، ن کی ہو یا پی ٹی آئی کی

لگتا ہے کہ حکمران جماعت کی کچھ دعائیں قبولیت کے قریب ہیں اور حکومت نے اپنی تیزی سے گرتی ہوئی ساکھ سنبھالنے کیلئے عوام کو شارٹ ٹرم ریلیف دینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اس میں حکومت کا اتنا کمال نہیں ہے بین الاقوامی منڈیوں میں تیل کی قیمتیں گرنا شروع ہو چکی ہیں جس کے پیچھے عالمی کساد بازاری کا خوف اور چائنا میں کووڈ کے ایک نئے Variant کی اطلاع ہیں۔ پاکستان میں کوئی بھی حکومت برسر اقتدار ہو تیل کی قیمتیں بڑھ رہی ہوں تو یہاں فوری اضافہ کیا جا تا مگر جب کم ہو رہی ہوں تو یا تو کمی نہیں کی جاتی یا پھر قیمت کم کر کے اس کے ساتھ ہی کمی کے مساوی ٹیکس بڑھا کر وہی قیمت جاری رکھی جاتی ہے مگر باوثوق خبر ہے کہ حکومت نے قیمتوں میں 15 روپے تک کی کمی کا پروگرام بنایا ہے اس کے پیچھے عوامی مفاد عام کم اور سیاسی مفاد زیادہ کارفر ما ہے۔ اس وقت شہباز شریف کے لیے پنجاب میں اپنے ولی عہد حمزہ شہباز کی حکومت کو بچانے کا واحد ذریعہ یہ ہے کہ کسی طرح ضمنی انتخاب جیتا جائے ورنہ پنجاب میں پرویز الٰہی وزیرا علیٰ بن جائیں گے اور اگر پنجاب ن لیگ کے ہاتھ سے نکل گیا تو وفاق میں یہ حکومت ایک ہفتہ بھی نہیں نکال پائے گی اس لیے شہباز شریف وہی کرنے جا رہے ہیں جو عمران خان نے حکومت ہاتھ سے جاتے دیکھ کر بقا کی جنگ لڑتے ہوئے کیا تھا جب تیل کی قیمت 10 روپے کم کر دی گئی لیکن اس کے باوجود وہ تحریک عدم اعتماد سے اپنی گردن نہ بچا سکے۔

شہباز شریف کے اس اقدام کو یقینا انتخابی رشوت کے طور پر دیکھا جائے گا اور ہو سکتا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر یا اعلیٰ عدالتیں ن لیگ کی ضمنی الیکشن جیتنے کی خواہش کے راستے میں آئینی رکاوٹ بن جائیں، یہ بجلی کے بلوں میں کمی کے حمزہ شہباز کے اعلان پر بھی ہو چکا ہے کیونکہ اس اعلان کو بھی انتخابی ہتھکنڈے کے طور پر لیا گیا۔ تیل کی قیمتوں میں کمی کے اعلان کے ساتھ یا کچھ وقفے کے بعد کوکنگ آئل کی قیمت میں فی کلو 150-100 روپے تک کمی کا عندیہ وزیر خزانہ دے چکے ہیں اس کی وجہ بھی یہ ہے کہ بین الاقوامی مارکیٹ میں کوکنگ آئیل کی قیمتیں Recession کے خوف 

سے کریش کر چکی ہیں مگر یہاں ابھی تک عوام کو پرانی قیمت پر فروخت کیا جا رہا ہے۔

ان اقدامات پر زیادہ خوش فہمی کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ پٹرول کی قیمت دوبارہ بڑھ سکتی ہے بلکہ ابھی تک روس یوکرین جنگ کے حالات جوں کے توں ہیں۔ خبریں ہیں کہ روس آنے والے دنوں میں جرمنی کو گیس کی فراہمی بند کرنے جا رہا ہے۔ جرمنی میں پروڈکشن بند ہونے کا سارا اثر یورپ پر ہو گا اور مہنگائی کا نیا طوفان اٹھے گا جس کے بعد پیش گوئی یہ ہے کہ دنیا بھر میں عوام کی قوت خرید ختم ہونے سے کاروبار بند ہونا شروع ہو جائیں گے پٹرول کی ڈیمانڈ بھی آئے گی تو قیمتیں بھی نیچے آئیں گی لیکن اندازہ ہے کہ پٹرول پالیٹکس سے شاید پاکستان اتنا متاثر نہیں ہو گا اس کساد بازاری کا زیادہ اثر پٹرول پیدا کرنے والے ممالک پر ہو گا اور اس سے LNG کی قیمتیں بھی نیچے آئیں گی۔

مسلم لیگ ن کی خوش قسمتی ہے کہ یہ جب بھی آتے ہیں تیل کی قیمتیں کم ہونے لگتی ہیں یہ محض حسن اتفاق ہے مگر یہ اتفاقی کا لفظ ہی شریف خاندان کو Suit کرتا ہے اور ان کے کاروباری گروپ کا نام بھی اتفاق ہے گویا یہ سارے اتفاق ایک دفعہ پھر یکجا ہونے جا رہے ہیں لیکن یہ کوئی ستاروں کا علم نہیں جو درست ثابت ہو۔ پوری دنیا میں پیش آنے والے واقعات سے پاکستان لاتعلق نہیں رہ سکتا۔

اس وقت Bloomberg کی رپورٹ کے مطابق پاکستان اس فہرست میں ہے جو ممالک اپنے قرضے واپس کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں جسے معاشی اصطلاح میں دیوالیہ یا ڈیفالٹر کہا جاتا ہے۔ سری لنکا کی تازہ ترین مثال ہمارے سامنے ہے۔ اس فہرست میں زیادہ تر افریقی ممالک ہیں لہٰذا ان حالات میں پاکستان کو وقتی طور پر آئی ایم ایف کے امدادی پیکیج کی اشد ضرورت ہے۔ گزشتہ حکومت نے بھی یہ قرضہ لینے میں غیر ضروری تاخیر کی جس کا نقصان پاکستان کو ہوا یہ حکومت بھی 3 ماہ میں ابھی تک آئی ایم ایف کو قائل نہیں کر سکی نہ ہی نئی حکومت کی طرف سے اخراجات میں کمی کے کوئی ایسے انقلابی اقدامات اٹھائے گئے جس سے ثابت ہو سکے کہ یہ معیشت کی Revival کیلئے مخلص ہیں۔ جس تیزی سے نیب قوانین کو تہہ و بالا کیا گیا اگر اس سپیڈ سے معاشی ایمرجنسی نافذ کی جاتی تو شاید بہتری کی کوئی صورت پیدا ہو جاتی۔

اصل میں سیاسی حکومتوں کی اپنی مجبوریاں ہوتی ہیں لہٰذا انہیں عوامی تائید حاصل کرنے کے لیے کچھ نہ کچھ کرتب گری کرنا پڑتی ہے۔ یہ کرتب گری گزشتہ حکومت کو تو نہ بچا سکی دیکھیں اس حکومت کا کیا انجام ہونا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ 2009، 2013 اور 2018 میں بننے والی تینوں حکومتیں ملک کو کوئی پروگرام نہیں دے سکیں سب نے اپنے اپنے دور میں صرف ٹائم پاس کیا ہے اور یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے اس وقت کاسمیٹک حد تک نہیں بلکہ بنیادی ڈھانچے کی تبدیلی کی ضرورت ہے جس کا نقشہ کسی کے پاس نہیں ہے۔ حکمران ن لیگ کی اپنی صفوں میں اتحاد نہیں ہے آدھی پارٹی مفتاح اسماعیل کو وزیر خزانہ دیکھنا چاہتی ہے جبکہ بقیہ آدھی اسحاق ڈار کی راہ دیکھ رہی ہے۔ پارٹی کے اندر یہ بے چینی بھی ہے کہ تین ماہ گزرنے کے باوجود میاں نواز شریف کی واپسی کی راہ ہموار نہیں ہو سکی۔ موجودہ صورتحال میں وہ واپس آئے تو انہیں سیدھا جیل جانا پڑے گا لیکن شہباز شریف کا خیال ہے کہ نیب قوانین میں متنازع تبدیلیوں اور عدالتی التوا کے بعد ان کی Rating نیچے گئی ہے اور اگر ان حالات میں نواز شریف کیلئے قوانین میں ترمیم کی گئی تو مزید بُرا اثر پڑے گا شہباز شریف اس حق میں ہیں کہ میاں نواز شریف فی الوقت پاکستان نہ آئیں اور پارٹی کو آزمائش سے بچائیں جبکہ مریم نواز چاہتی ہیں کہ اگلے الیکشن میں کامیابی کیلئے میاں صاحب کی یہاں موجودگی ناگزیر ہے۔ اب سارا دار و مدار پنجاب کے ضمنی الیکشن پر ہے وہ فیصلہ کریں گے کہ پی ڈی ایم حکومت کتنا عرصہ اور نکال سکتی ہے۔

عمران خان نے اپنی انتخابی یلغار شروع کر رکھی ہے جس میں مخالفین کو ہدف تنقید بنانے کے علاوہ ان کے پاس ایک ’’ٹیڈی پیسے‘‘ کا ایجنڈا نہیں ہے ان کا سارا زور مخالفین کی کرپشن اور کردارکشی پر ہے اور اس کے باوجود عوام کے اندر ان کا بیانیہ زور پکڑ رہا ہے۔ بہر حال پاکستان کی سیاست کے بارے میں پیش گوئی کرنا بہت مشکل کام ہے یہاں وقت یا موقف یا پارٹی بدلتے دیر نہیں لگتی۔ اگر عمران خان اپنی جماعت کے لوگوں کو ساتھ رکھتے تو ملک میں اتنا بڑا آئینی بحران پیدا نہ ہوتا۔

مصنف کے بارے میں