عدالتی فیصلے سے سازش کا بیانیہ دفن، عمران خان پر آرٹیکل 6 کا اطلاق ہونا چاہئے: وفاقی وزیر قانون 

عدالتی فیصلے سے سازش کا بیانیہ دفن، عمران خان پر آرٹیکل 6 کا اطلاق ہونا چاہئے: وفاقی وزیر قانون 

اسلام آباد: وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے تحریری فیصلے نے عمران خان کے بیرونی سازش کے بیانیہ کو دفن کر دیا، عمران خان اینڈ کمپنی پر آرٹیکل 6 کا اطلاق ہونا چاہئے۔ 

تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے قمر زمان کائرہ کے ہمراہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے اسمبلی تحلیل کرنے کے خلاف نوٹس لیا تھا اور اسمبلی تحلیل کرنے کے اقدام کو غیر قانونی قرار دیا۔ 

ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ نے تفصیلی فیصلے میں ڈپٹی سپیکر کے فیصلے کو غیر آئینی قرار دیا اور فیصلے کے اضافی نوٹ میں لکھا ہے کہ ڈپٹی سپیکر کی رولنگ بد نیتی پر مبنی تھی، جمہوری تاریخ میں اس فیصلے کو سنہری حروف میں یاد رکھا جائے گا۔ 

اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ 7 مارچ کو سائفر پہنچا لیکن 27 مارچ تک وزیراعظم نے اس پر کچھ نہیں کہا، عمران خان نے صدر کو اسمبلی تحلیل کرنے کی سفارش کی وہ بھی غیر آئینی تھی، حکومت کو آرٹیکل 6 کے تحت کارروائی کرنی چاہیے۔ 

وفاقی وزیر قانون کا کہنا تھا کہ جمہوری نظام میں پارلیمینٹ سپریم ادارہ ہے اور اگر سازش ہوئی تو اسے پارلیمینٹ کے سامنے لایا جانا چاہیے تھا لیکن حکومت پارلیمینٹ کے سامنے ایسا کچھ نہیں لائی۔ 

انہوں نے مزید کہا کہ عمران خان نے اپنی حکومت بچانے کیلئے پاکستان کی قومی سلامتی کو داؤ پر لگایا، عدالتی فیصلے نے سابق وزیراعظم عمران خان کے بیرونی سازش کے بیانیہ میں آخری کیل ٹھونک دی ہے۔ 

اس موقع پر قمر زمان کائرہ نے کہا کہ عدالت کے مطابق سازش کا بیانیہ خود بڑی سازش تھی، یہ اچانک نہیں ہوا بلکہ پلان کے تحت ہوا، عمران خان فاشسٹ اور پی ٹی آئی فاشزم چاہتی ہے۔ 

ان کا کہنا تھا کہ نیشنل سیکیورٹی کے 2 اجلاسوں میں کہا گیا کہ کوئی سازش نہیں ہوئی اور یہ کون سی سازش ہے کہ کسی ملک کے اہلکار کو کہے کہ ہم عدم اعتماد کو کامیاب کرائیں گے، عمران خان اپنے اقدام پر نظر ثانی کریں۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان پاکستان کی خودمختاری اور سلامتی کے ساتھ نہ کھیلیں جبکہ عمران خان کو سیکیورٹی کا کوئی مسئلہ ہو تو حکومت کو بتا دیں، عمران خان سازش کا بیانیہ کھیل رہے ہیں حالانکہ ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔ 

مصنف کے بارے میں