بنگلہ دیش میں بارشوں نے تباہی مچا دی ۔ طوفانی بارشوں کی وجہ سے کم ازا کم 134 افراد جاں بحق ہو گئے اور مزید ہلاکتوں کا امکان بھی ہے ۔بارشوں کی وجہ سے ٹیلی فون اور ذرائع آمد ورفت کا سلسلہ منقطع ہوگیا ہے. پولیس نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ بنگلہ دیش کے جنوبی علاقوں میں ہونے والی بارش سے ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد میں اضافہ ہوسکتا ہے.

غیر ملکی خبر ایجنسی سےبات کرتے ہوئے شدید متاثرہ علاقے ضلع رنگاماتی کے حکومتی منتظم مزمل منان نے کہا کہ صرف اس پہاڑی علاقے میں 98 کے قریب افراد جاں بحق ہوگئے ہیں۔حکام کا کہنا ہے کہ چٹاگانگ اور قریبی علاقوں میں 30 افراد جبکہ بندرابن میں 6 افراد ہلاک ہوئے جن میں تین بچے بھی شامل ہیں جبکہ 15 افراد لاپتہ ہیں جن کے بارے میں خدشہ ہے کہ وہ سیلاب یا کیچڑ میں دب گئے ہیں۔

بھارت کی سرحد سے ملحق بنگلہ دیش کا ایک پسماندہ ضلع رنگاماتی جو بارش سے شدید متاثر ہوا ہے جہاں سیلاب سے کئی گھر تباہ ہوچکے ہیں۔پولیس اور مقامی انتظامیہ نےچٹاگانگ کے قریبی پہاڑی علاقے کے لوگوں کو فوری طور پر علاقہ چھوڑنے کا حکم جاری کردیا ہے جہاں 30 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی جاچکی ہے۔ڈیزاسٹرمنیجمنٹ اور ریلیف کے وزیر مفضل حسین چوہدری مایا کا کہنا تھا کہ حکام نے شدید بارش سے متاثرہ پہاڑی علاقے میں 18 کیمپ قائم کر دیے ہیں جہاں 4 ہزار 500 افراد موجود ہیں۔

خیال رہے اسی ضلعےمیں دس برس قبل شدید بارش اور لینڈ سلائیڈ کے نتیجے میں 126 افراد ہلاک ہوئے تھے۔حکام کا کہنا ہے کہ لینڈ سلائیڈنگ سے درجنوں گھر تباہ ہوئے، ریسکیو اہلکار امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں، ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں۔