تحقیقاتی عمل میں رکاوٹیں ڈالی جا رہی ہیں، جے آئی ٹی کے سنسنی خیز الزامات

اسلام آباد: جے آئی ٹی کی سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی درخواست کے سنسنی خیز مندرجات سامنے آ گئے۔ جے آئی ٹی کی درخواست میں کہا گیا ہے کہ تحقیقاتی عمل میں رکاوٹ ڈالنے کیلئے حکومت کی جانب سے سرکاری مشینری کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ سرکاری ریکارڈ میں ردوبدل کرنے کا بھی الزام عاید کیا گیا جبکہ چیئرمین ایس ای سی پی واٹس اپ کال تنازعے کا ماسٹر مائند قرار دیدیا۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ مرضی کابیان دینے کیلئے وزیراعظم ہاؤس کی جانب سے گواہوں پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ نیب کے عرفان نعیم منگی کو شوکاز نوٹس بھجوا کر تحقیقات سے توجہ ہٹانے کی کوشش کی گئی۔

درخواست میں چوہدری شوگر ملز کی تحقیقات پچھلی تاریخوں میں بند کرانے کا حوالہ بھی دیا گیا۔رپورٹ میں دعوٰی کیا گیا کہ اس شوگر مل کے خلاف تحقیقات کا آغاز 2011 میں ہوا جبکہ 8 جنوری 2013 سے چیئرمین ایس ای سی پی کی ایما پر ان تحقیقات کو 2016 میں ختم کر دیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق تحقیقات کو یوں ختم کیا جانا ایک مجرمانہ عمل ہے اور ان افراد کو مدد فراہم کرنے کے مترادف ہے جن کے خلاف یہ تحقیقات جاری تھیں۔ جے آئی ٹی کی نظر میں وزارت قانون تحقیقاتی عمل میں روڑے اٹکا رہی ہے۔

آئی بی کی جانب سے تحقیقاتی ٹیم کے اراکین اور ان کے اہل خانہ کو ہراساں کیا گیا۔ جے آئی ٹی کے ایک ممبر کے فیس بک اکاؤنٹ سے مواد چرانے کا بھی تذکرہ کیا گیا۔ درخواست میں سینیٹر نہال ہاشمی کی تقریر اور جے آئی ٹی کو قصائی اور جیمز بانڈ جیسے القابات سے نوازنے کا بھی تذکرہ کیا گیا۔

جے آئی ٹی نے سپریم کورٹ سے استدعا کی ہے کہ جے آئی ٹی سے متعلق میڈیا پر بات کرنے والوں کیخلاف کاروائی کی جائے۔ دوسری جانب ایس ای سی پی نے نہ صرف جے آئی ٹی کے الزامات کی تردید کی ہے بلکہ سپریم کورٹ سے رجوع کا اعلان بھی کیا ہے۔

 

حسین نواز کا کمیشن بنانے کا مطالبہ

ادھر وزیر اعظم نواز شریف کے صاحبزادے حسین نواز نے جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہونے کے دوران تصویر لیک ہونے کے معاملے پر سپریم کورٹ میں درخواست دائر کر دی ہے۔ حسین نواز نے درخواست میں عدالت سے استدعا کی ہے کہ ریٹائرڈ جج کی سربراہی میں کمیشن بنا کر تحقیقات کی جائیں کہ تصویر کیسے لیک ہوئی۔

 

درخواست میں کہا گیا ہے کہ تصویر لیک ہونے کے ذمہ دار جے آئی ٹی سربراہ اور اراکین ہیں ۔ تصویر لیک ہونا بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے اور اس کا مقصد تضحیک کرنا تھا ۔ خواجہ حارث ایڈووکیٹ کے ذریعے دائر درخواست میں حسین نواز نے کہا کہ تصویر لیک کر کے آئندہ طلب کیے جانے والوں کو پیغام دیا گیا ہے کہ وہ جے آئی ٹی کے رحم و کرم پر ہوں گے۔

 

تنازعات

مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف دونوں حسین نواز کی پاناما پیپر کیس کی تحقیقات کرنے والی مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی) کے سامنے پیشی کی ایک تصویر سوشل میڈیا پر لیک ہونے کے معاملے پر ایک دوسرے پر الزامات عائد کر رہے ہیں۔دونوں فریقین کا موقف ہے کہ یہ تصویر سیاسی مقاصد حاصل کرنے کے لیے سوشل میڈیا پر لیک کی گئی۔

 

مذکورہ تصویر جو کسی سی سی ٹی وی فوٹیج سے لیا گیا اسکرین شاٹ معلوم ہوتی ہے پر 28 مئی کی تاریخ درج ہے۔ یہ وہی دن ہے جب حسین نواز جے آئی ٹی کے سامنے پہلی مرتبہ پیش ہوئے تھے۔

 

نہال ہاشمی نے شریف خاندان سے حساب لینے والوں پر پاکستان کی زمین تنگ کر دینے کی دھمکی دی تھی۔ غیر ذمہ دارانہ اور دھمکی آمیز تقریر کا وزیراعظم نواز شریف نے نوٹس لے لیا تھا جبکہ نہال ہاشمی کی بنیادی پارٹی رکنیت بھی معطل کر دی گئی۔ بعد ازاں نہال ہاشمی نے سینیٹ کی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا تھا لیکن انہوں نے یو ٹرن لے لیا تھا اور چیئرمین سینیٹ سے استعفیٰ منظوری نہ کرنے کی درخواست کی تھی۔

 

7  جون کو چیئرمین سینیٹ رضا ربانی نے رولنگ سناتے ہوئے بتایا کہ انھوں نے یکم جون کو سینیٹ سیکریٹریٹ کو ایک نوٹس جاری کرنے کیلئے کہا تھا کہ نہال ہاشمی 5 جون 2017 کو خود پیش ہو کر استعفیٰ دینے کی وجوہات بتائیں انھوں نے پیش ہونے سے معذرت کی اور نئی تاریخ دینے کی استدعا کی تھی۔

 

انہوں نے کہا کہ نہال ہاشمی 6 جون کو خود میرے سامنے پیش ہوئے اور استعفیٰ منظور نہ کرنے کی درخواست کی جسے منظور کر لیا گیا۔ نہال ہاشمی کی متنازع تقریر کے بعد ن لیگ کے سینیئر پارلیمانی لیڈر راجہ ظفر الحق کی سربراہی میں تحقیقات کرنے والی ایتھکس اینڈ ڈسپلنری کمیٹی نے سفارشات نوازشریف کو بجھوائی تھیں۔

کمیٹی کی سفارشات کے مطابق نہال ہاشمی نے پارٹی ڈسپلن، پالیسی اور پارٹی پوزیشن کی خلاف ورزی کی اس لیے انہیں پارٹی سے نکال دیا جائے۔ وزیراعظم نے کمیٹی کی متفقہ سفارشات پر فوری عمل کرتے ہوئے نہال ہاشمی کو پارٹی سے نکالنے کا حکم دے دیا تھا۔

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں