افغان طالبان میں اختلافات، مخالف گروپ کی چیک پوسٹ پر خودکش حملہ، 9 ہلاک

قندھار: غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق ضلع گرشک کے چیف محمد سلیم روہدی کا کہنا تھا کہ بدھ کے روز ہونے والے حملے میں طالبان سے علیحدہ ہونے والے گروپ کے 6 جنگجو زخمی بھی ہوئے ہیں۔ اس حملے کے حوالے سے طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا موقف فوری طور پر حاصل نہیں ہو سکا۔ ادھر افغان نشریاتی ادارے نے بتایا کہ طالبان سے علیحدہ ہونے والے گروپ نے واقعے کی تصدیق کر دی تاہم مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ خود کش بمبار نے بارود سے بھری گاڑی کو چیک پوسٹ کے قریب دھماکے سے اڑایا جس میں 9 جنگجو ہلاک ہو گئے۔ واضح رہے کہ طالبان کے سابق امیر ملا محمد عمر کی موت کی خبر سامنے آنے اور ملا اختر منصور کو طالبان کا نیا امیر منتخب کرنے کے بعد تنظیم کے اہم کمانڈر ملا عبدالرسول کے طالبان قیادت سے اختلافات ہو گئے تھے جنہوں نے ملا محمد عمر کی موت کی خبر کو چھپانے پر خود کو طالبان سے علیحدہ کر لیا تھا۔ طالبان ترجمان نے 5 مئی 2017 کو امیر ملا اختر منصور کی ڈرون حملے میں ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ مولوی ہیبت اللہ اخونزادہ کو افغان طالبان کا نیا امیر مقرر کیا گیا۔

اس موقع پر ملا عبدالرسول کا کہنا تھا کہ انھوں نے ملا اختر منصور کو اس بات پر رضا مند کرنے کی بہت کوشش کی تھی کہ وہ نئی قیادت کو سامنے لانے کے لیے مستعفی ہو جائیں تاہم انھوں نے اس بات کو تسلیم کرنے سے انکار کیا۔ علیحدہ ہونے والے گروپ کی ماضی میں بھی طالبان جنگجوں کے ساتھ جھڑپیں ہو چکی ہیں۔

ملا عبدالرسول ہلمند میں کمانڈر ہیں اور اس گروپ کے بیشتر جنگجو افغانستان کے جنوب اور جنوب مشرقی علاقوں میں موجود ہیں۔ افغانستان کے جنوبی صوبے ہلمند میں اندرونی اختلافات کے بعد طالبان سے علیحدہ ہونے والے گروپ کے زیر انتظام چیک پوسٹ پر ہونے والے خود کش حملے میں 9 افراد ہلاک ہو گئے۔

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں