اقوام متحدہ کا ڈیڑھ لاکھ فلسطینیوں کی خوراک بند کرنے کا اعلان

نیو یارک : اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوران کے خبردار کیا ہے کہ فنڈز کی قلت کے باعث وہ آئندہ ماہ فلسطین کے علاقوں غزہ اورغرب اردن کے ہزاروں فلسطینی خاندانوں کو خوراک کی فراہم بند کردیں گے۔اطلاعات کے مطابق اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے ترجمان اسٹیفن ڈوگریک نے نیویارک میں ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہعالمی ادارہ خوراک کو غریب فلسطینی شہریوں کو راشن کی فراہمی کے لیے فنڈز نہیں مل سکے ہیں۔

جس کے نتیجے میں ادارہ خوراک جولائی سے غرب اردن اور غزہ کی پٹی میں رہنے والے 1 لاکھ 50 ہزار فلسطینیوں کو راشن فراہم نہیں کرسکے گا۔ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک کی جانب سے فراہم کی جانے والی امداد سے مستفید ہونے والوں میں زیادہ ترفلسطینی بچے اور خواتین ہیں۔

ترجمان نے خبردار کیا کہ عالمی برادری کی طرف سے امداد کی فراہمی کم ہونے اور اس کے نتیجے میں غربت کا شکار فلسطینیوں کی امداد میں کمی سے فلسطینیوں کی معاشی ابتری میں مزید اضافہ ہوگا۔ خاص طور پر وہ فلسطینی شہری جن کی اوسط یومیہ آمد سواتین امریکی ڈالر سے بھی کم ہے خوراک کے عدم تحفظ کا شکار ہوسکتے ہیں۔

ترجمان نے کہا کہ فلسطینی شہریوں کی خوراک کی مد میں امداد جاری رکھنے کےلئے 60 کروڑ 6 لاکھ ڈالر کی فوری ضرورت ہے تاکہ اگلے تین ماہ کے دوران غزہ اور غرب اردن میں فلسطینی پناہ گزینوں کےلئے خوراک کا بندو بست کیا جا سکے۔

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں۔