تعلیمی اداروں کو بین الاقوامی معیار کے مطابق بنانے کی اشد ضرورت ہے، گورنر بلوچستان

کوئٹہ: گورنر بلوچستان محمد خان اچکزئی نے کہا ہے کہ بلوچستان کے اعلیٰ تعلیمی اداروں کو بین الاقوامی معیار کے مطابق بنانے کی اشد ضرورت ہے تاکہ ہمارے تعلیمی ادارے اور ان کی ڈگریوں کو دنیا بھر میں قبولیت حاصل ہوسکے۔ انہوں نے کہا کہ طب کا شعبہ انسانی زندگی سے براہ راست منسلک ہے اور اس شعبے سے متعلق ڈاکٹروں خاص طور سے تدریس سے وابستہ افراد پر بھاری ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں کہ وہ طب کے شعبہ کو خدمت خلق کا ذریعہ بنائیں بلکہ اس شعبے کے تقدس کا خیال رکھتے ہوئے اپنی بھرپور توجہ وتوانائی دکھی انسانیت پر مرکوز کریں۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے بولان میڈیکل کالج کے پرنسپل ڈاکٹر شبیر احمد لہڑی کی قیادت میں ایک وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ وفد میں ڈاکٹر غلام رسول، پروفیسر ڈاکٹر نائلہ احسان اور ڈاکٹر عبدالباقی درانی بھی شامل تھے۔ اس موقع پر گورنر بلوچستان نے کہا کہ صوبے میں صحت کے شعبے میں ریسرچ اور کلینیکل ضرورتوں میں اضافہ کی وجہ سے میڈیکل یونیورسٹی کا قیام ناگزیر ہوچکا ہے۔ جس کے لئے ہمیں ابھی سے بین الاقوامی سطح پر بنائے گئے قوانین کو مدنظر رکھنا اور طب کے شعبے سے وابستہ ڈاکٹروں اور پروفیسروں کے استعداد کار میں اضافہ کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اپنے تعلیمی اداروں کے نئے چیلنجوں سے نمنٹے کا اہل بنانے کے لئے ہمیں بین الاقوامی قوانین اور اصولوں کی پیروی کرنے کو یقینی بنانا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ معاشرے کی مجموعی ترقی کے لئے صحت کے شعبے کی ترقی اولین اہمیت رکھتی ہے یہی وجہ ہے کہ موجودہ حکومت صوبے میں میڈیکل کالجوں کے قیام، عوام کو صحت کی سہولتوں کی فراہمی اور طب سے متعلق اداروں کے مزید استحکام اور ترقی پر خصوصی توجہ دے رہی ہے۔ وفد نے گورنر بلوچستان سے مطالبہ کیا کہ صوبے میں بولان میڈیکل کالج کو فوری طور پر میڈیکل یونیورسٹی کا درجہ دیا جائے تاکہ میڈیکل کالج اور اس کی ڈگری کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کرنے کی راہ ہموار ہوجائے۔ گورنر بلوچستان نے ان کے مطالبہ اور سفارشات کو غور سے سنا اور انہیں ہرقسم کے تعاون کی یقین دہانی کرائی۔

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں