فن ، فنکار پاکستانی معاشرے کے درخشاں روایات کے امین ہیں، نواز شریف

اسلام آباد(صباح نیوز) وزیر اعظم نواز شریف نے فلمی صنعت کے لیے تاریخ کے سب سے بڑے خصوصی پیکج کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ فن اور فنکار پاکستانی معاشرے اور اس سے جڑی درخشان روایات کے امین ہیں فنکاروں نے عالمی افق پر ملکی تشخص ثقافت ورثے اور ادب کو زندہ رکھا وزیر اعظم نے مذید کہا کہ پیکج کا اعلان یقیناً ہمارے باقی وعدہ کی طرح ایک اور وعدے کی تکمیل ہے ہم گذشتہ کئی برسوں سے دہشتگردی کے خوفناک عفریت کا شکار رہے ہیں صنعت سے وابستہ مالیاتی قوانین میں نرمی اور ٹیکس سے استثنی کی سہولیات بھی فراہم کی جانی چا ہیں فن اور فنکار پاکستانی معاشرے اور اس سے جڑی درخشاں روایات کے امین ہیں جنہوں نے عالمی افق پر اس پاک سرزمین کے تشخص، ثقافت،ورثے اور ادب کو زندہ اور با ضمیر قوموں کی صف میں لا کھڑا کیا غیر ملکی فلم سازوں کو پاکستان کے سیاحتی، ثقافتی،تاریخی اور پر فضا مقامات پر فلم بنانے پر خصوصی رعایت دی جا ئیگی تا کہ اس میڈیم کے ذریعے قومی اور بین الاقوامی سیاحت کو فروغ حاصل ہو سکے .

ایوان وزیر اعظم کی طرف سے جاری تفصیلات کے مطابق ان کا کہنا تھا اس فلمی صنعت کی بحالی کو یقینی بنانا ہمارے اولین فرائض میں شامل تھا اور میں انتہائی مسرت کے ساتھ اس صنعت سے وابستہ فنکاروں اور ہنر مندوں کے لیے پاکستان کی تاریخ کے سب سے بڑے اور خصوصی پیکیج کا اعلان کر رہا ہوں۔یہ یقیناًہمارے باقی وعدوں کی طرح ایک اور وعدے کی تکمیل ہے۔بد قسمتی سے گزشتہ کئی برسوں میں پاکستان اور اس کے غیور عوام نے دہشت گردی کے خوفناک عفریت کو ہماری گلیوں، مساجد، امام بارگاہوں،عوامی اجتماعات کی جگہوں پر محو رقص دیکھا۔لیکن الحمداللہ ہماری بہادر افواج اور قانون کے پاسبان اداروں کی قربانیوں اور قوم کے غیر متزلزل ارادوں کے باعث دہشتگردی میں نمایاں کمی آئی۔ماضی قریب گواہ ہے کہ اسلام اور قوم کے دشمنوں نے گمراہ کن دلائل کو جواز بنا کر اس قوم کے معصوم ازہان پر مختلف طریقوں سے وار کیے۔جس کے نتیجے میں وہشت اور دہشت پروان چڑھتی رہی۔عالمی منظر نامہ ہمارے مسخ شدہ تشخص کی منظر کشی اپنے اپنے انداز میں کرتا رہا۔نوجواں جو حقیقتا اس دھرتی کا مستقبل ہیں ایک خوف زدہ سوچ کے اسیر رہے۔ ان پاک ذہنوں سے خوفناک دور،دہشت اور مایوسی کی کالی گھٹا ں کو دور کرنے کے لیے ہم انہیں متبادل معیاری تفریح کے مواقع فراہم کر رہے ہیں۔ہم اس بات سے بخوبی آگا ہ ہیں کہ معیاری تفریح کا مطلب سیاحت، کھیل کے میدان، تفریحی پارکس، ثقافتی سرگرمیوں کے گرد گھومتا ہے جس کا مرکز یقیناًفلمی صنعت کی بحالی ہے۔

انہوں نے کہا کہ  آج میں انتہائی فخر سے وزارت اطلاعات ونشریات و قومی ورثہ کی ارسال شدہ تجاویز کو مد نظر رکھتے ہوئے فلم کے بے نام اور بے شکل وجود کو با قاعدہ صنعت کا درجہ دینے کا اعلان کر رہا ہوں۔ جو1992میں ہمارے ہی دور حکومت کی منظور شدہ پالیسی کا تسلسل ہے۔اس کے ساتھ ساتھ اس صنعت سے وابستہ مالیاتی قوانین میں نرمی اور ٹیکس سے استثنی کی سہولیات بھی فراہم کی جانی چا ہیں ۔ادب اور فن کے دائرہ کار میں وہ تمام لوگ شامل ہیں جنہیں ہم ادیب، لکھاری،شاعر اور اہل قلم جیسے محترم الفاظ سے جانتے ہیں اور ان تمام قابل رشک اور معتبر شخصیات سمیت فنون لطیفہ کے فروغ کیلئے بھی ایک انتہائی ٹھوس اور جامع پیکیج تیار کیا جائیگا۔ اس پیکیج کے تحت بین الاقوامی معیار کو مد نظر رکھتے ہوئے نیشنل فلم اینڈ براڈ کاسٹنگ کمیشن ، نیشنل فلم انسٹیٹیوٹ اور اکیڈمی کا قیام عمل میں لایا جاے گا جو بلا شبہ جدید اسٹوڈیو اور دور حاضر اور مستقبل میں ٹیکنالوجی کے حوالے سے کسی بھی جدت سے ہم آہنگ آلات سے مزئین ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ فنکاروں کے مالی معاملات میں بہتری اور فلاح و بہبود کیلئے پرائم منسٹر آرٹسٹ ویلفیئر فنڈکے قیام کا بھی اعلان کرتا ہوں۔تا کہ ان خوبصورت اور با صلاحیت افراد کی عزت نفس کی ہر ممکن حفاظت کی جا سکے۔اس ارض وطن کا ایک ایک کونہ خدائے بزرگ و برتر کے جمیل ہونے کی دلیل ہے۔ اس حوالے سے غیر ملکی فلم سازوں کو پاکستان کے سیاحتی، ثقافتی،تاریخی اور پر فضا مقامات پر فلم بنانے پر خصوصی رعایت دی جا یگی تا کہ اس میڈیم کے ذریعے قومی اور بین الاقوامی سیاحت کو فروغ حاصل ہو۔فلمی صنعت سے متعلق آلات اور سامان کی درآمد پر خصوصی رعایت دی جایگی تا کہ اس صنعت کے ذریعے پاکستان کا خوبصورت اور حقیقی چہرہ دنیا کو دکھایا جا سکے اور پاکستان کے مقامی فلم ساز کو ملک میں ہی وہ تمام سہولیات میسر ہوں جن کے لیے ان کو بیرون ملک جانا پڑتا ہے۔یقیناان تمام عوامل کے علاوہ بھی ہمیں چند قدم اور آگے بڑھنا ہے تا کہ عملی طور پر اس صنعت سے جڑے ہوئے ہر فرد کی حوصلہ افزائی ہو سکے۔اسی تناظر میں حکومت کی جانب سے تفریحی ٹیکس (انٹرٹینمنٹ ڈیوٹی)پر مکمل چھوٹ دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور اس سے منسلک آمدن ٹیکس میں مراعات کواور بڑھایا جائے گا میں وزارت اطلاعات ونشریات و قومی ورثہ کو ہدایت کرتا ہوں کہ وہ وزارت خزانہ اور متعلقہ اداروں کے ساتھ باہمی مشاورت سے اس پیکج کو جلد نافذ العمل شکل میں حکومت پاکستان کو حتمی منظوری کے لئے پیش کرے.
نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں۔