میثاق معیشت

میثاق معیشت

جہاں ملک کو بہت سے درپیش مسائل ہیں وہاں اسوقت سب سے اہم مسئلہ معاشی عدم استحکا م کا ہے،جو روز بہ روز کم ہونے کے بجائے بڑھتا ہوا دکھائی دے رہا،جس کا نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ لوگ فاقہ کشی پہ مجبور ہو چُکے ہیں۔لوگ خود کُشیاں کرنے پہ مجبور ہیں،سٹریٹ کرائم میں روز بہ روز اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے کاروباری صورتحال روز بہ روز ابتر ہوتی چلی جا رہی ہے ،آئے روز پیٹرول کی قیمتوں کے اضافے نے معاشی عدم استحکام کی فضا قائم کر دی ہے جس سے کاروباری طبقہ بھی بہت پریشان ہے۔

اس وقت موجودہ معاشی صورتحال کو دیکھتے ہوئے میں یہی کہوں گی کہ ملک کی معیشت اور سیاست ایک دوسرے سے جڑے ہوتے ہیں ،کسی ایک کے استحکام سے ہی دوسرے کے قدم مضبوط ہوتے ہیں۔اسی طرح کسی ایک کے عدم استحکام سے دوسرے شعبوں پر بھی ویسے ہی اثرات مرتب ہوتے ہیں ۔ اس بات میں تو سو فیصد صداقت ہے کہ اچھی سیاسی خبروں سے سٹاک مارکیٹ میں تیزی آجاتی ہے مگر سیاسی دھچکوں سے اہم اداروں خصوصاً معاشی صورتحال ہل جاتی ہے اور انویسٹرز میں اضطراب پیدا ہو جاتا ہے جس سے معاشی صورتحال ابتری کا شکار ہوتے ہی چلے جاتے ہیں۔اگرچہ شخصیات ،حکمران پارٹی یا گروہ کے کردار کی اہمیت کو یکسر نظر انداز کرنا ممکن نہیںمگر نظام کا ڈھانچہ ایسا عنصر ہے جسے ہم بطور برطانوی پارلیمانی سسٹم کے حوالے سے دیکھیں تو محسوس ہوتا ہے کہ حکومتوں کے تبدیل ہو جانے یا تبدیلی کی کوششیں ناکام ہونے کے باوجود ملکی و بیرونی عوامل اور کساد بازاری سمیت روایات و اقدار کی پاسداری نے جذب کرکے معیشت کو خطرے کے مقام تک جانے دیا،نہ نظام پر عام لوگوں کے اعتماد و اعتبار میں کمی آنے دی۔

اگر میں تاریخی حوالے سے بات کروں تو وطن عزیز پاکستان جو تقسیم ہند کے وقت اپنے حصے میں آنے والے فنڈ سے محرومی کی وجہ سے مسائل سے دوچار ہوا،مگر پھر بھی بعض شعبوں میں ہونے والے کام اور پنج سالہ منصوبوں کی صورت میں پالیسی کے تسلسل کے باعث مختلف میدانوں میں ترقی بھی کی جس سے ملک آہستہ آہستہ ترقی کرنے والے ملکوں میں شمار کیا جانے لگا مگر مسلسل جمہوری ادوار اور ہر حکومت کی نئی پالیسیوں نے ملک کو آج اس دھانے پہ لا کھڑا کیا کہ آج بہت سے اداروں  کو چلانے کے لیے اور ملازمین کو تنخواہیں دینے کے لیے قر ض لینا پڑتا ہے۔

ایک وقت تھا شاید کسی کو یاد ہو کہ ایوب دور میں ہمارا ملک قرض دینے والا تھا اور اب ہمارا ملک نمبر ون پہ قرض لینے والوں میں تصور ہوتا ہے آج ملک کو چلانے کے لیے آئے روز قرضوں کا سہارا لینا پڑتا ہے۔جیسے ہی جمہوری ہوا چلی کہ جمہوریت کو چلانے والے تو مضبوط سے مضبوط تر ہوتے چلے گئے مگر ہمارا ملک روز بہ روز کھوکھلا ہوتا چلا گیا۔یہ سب جمہوری ادوار کی غلط پالیسیوں اور ہر  دور میں نئی 

پالیسیوں کو متعارف کرانے اور پالیسیوں میں تسلسل نہ ہونے کیوجہ سے آج صورتحال بد سے بدتر ہو چُکی ہے اور اس حالت کو پہنچانے میں تمام نے مل جل کے کردار تو ادا کیا مگر اس تباہی کا ذمہ اُٹھانے کو اب کوئی بھی تیار نہیں ہے۔

یہ تو سب کو معلوم ہے کہ ہمارا ملک ایک زرعی ملک ہے ،مگر اسوقت حالت یہ ہے کہ اجناس اور کپاس دوسرے ملکوں کو برآمد کرنے والا زرعی ملک خود کئی اشیاء کو درآمد کرنے پہ مجبور ہے۔یہ صورتحال کیوں پیدا ہوتی جا رہی ہے کبھی کسی نے سوچا،ایک تو ہر جمہوری دور حکومت میںزراعت کے حوالے سے کبھی کوئی بہتر پالیسی نہیں بنائی گئی جب ہر کوئی کمیشن بنانے کے چکر میںلگ گیا اور پالیسی بنا کے عمل پیرا ہونے کے بجائے صرف لفاظی باتوں تک ہی کام رہ گیا تو صورتحال ایسی ہی پیدا ہونی تھی ایک مزید وجہ کہ ایسی بہت سی زرعی زمین جن کو ٹائون کٹنگ کرکے ہائوسنگ سوسائٹی کی صورت میں بنا کر مہنگے داموں فروخت کیا گیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ زراعت میں دن بہ دن کمی اور ہمارا ملک زرعی ہونے کے باوجود مہنگے داموں زرعی اجناس درمدات کرنے پہ مجبور ہوگیا جس کا نتیجہ اب آپ کے سامنے ہے کہ مہنگے داموں اجناس کی درآمد جب ہوگی تو عوام کو بھی مہنگی ہی ملے گی اس میں بھی قصور سیاسی جماعتوں کا ہے جو صحیح حکمت عملی وضع نہیں کرتے اور اپنے کمیشن کے چکروں میں اُس کا م کو اہمیت دیتے ہیں جس میں اُن کا فائدہ ہو۔ ہمارا ملک جو چینی برآمد کرنے میں نمبر ون تھا آج اُسے چینی درآمد کرنا پڑ رہی ہے۔

اس کالم کی وساطت سے میں حکومت کو اور تمام سیاسی جماعتوں کی توجہ اس طرف مبذول کرنا چاہتی ہوںکہ ہمارا ملک بحری جہاز تیار کرکے دُنیا کو فراہم کرتا رہا ہے مگر اس طرف بھی اب شاید کسی کی نظر نہیں نہ جانے کراچی شپ یارڈ کو بھی کس کی نظر لگ گئی ہماری حکومتی جماعتیں اگر ہمارے ملک کی ان چند چیزوں پہ ہی توجہ دے لے تب بھی ہمارے ملک کو قرض نہیں لینا پڑے گا ،یہ تو میں بات کر رہی تھی کراچی شپ یارڈ کی اب میں بات کروں گی ریلوے سیکٹر کی ،ریلوے انجن اور بوگیاں ایکسپورٹ کرنے اور کئی صنعتی اشیاء کے معیار میں نام کمانے والا ملک درآمدی منڈی بنا نظر آتا ہے۔

یہ تو میں نے صرف چند سیکٹرز کی بات کی ہے کہ اگر ہم ان پہ ہی توجہ آج سے ہی دینا شروع کر دیں تو ہم نہ صر ف بہت سا پیسہ کما سکتے ہیں بلکہ بہت سے روزگار کے مواقع بھی عوام کو فراہم کر سکتے ہیں۔اب ہر جمہوری دور میں پالیسیوں کا عدم استحکام اوروقتی مفاد حاصل کرنے کے لیے نئے پروجیکٹ کا شروع کرنا ہی آج خسارے کا باعث بن چُکا ہے ہونا تو یہ چاہیے کہ حکومتوں کی تبدیلی اور سیاسی و نظریاتی اختلاف کے باوجود کام جاری رہے یہی عمل ملکی مفاد کے لیے بہتر ثابت ہوگا۔

ماضی میں بھی پی پی پی کے دور میں بدترین لوڈ شیڈنگ نے ہماری ملکی انڈسٹری کو تباہ کر دیا تھا اُس کا نتیجہ یہ نکلا کہ بہت سی اندسٹری بنگلا دیش شفٹ ہوئی جس کا اثر ہمارے ملک کی معیشت پہ بہت برا ثابت ہوا اور ایک بار پھر سے ملک کو بدترین لورڈ شیڈنگ کا سامنا ہے جس کے نتائج کچھ اچھے ثابت نہ ہونگے آئے روز پیٹرول کی بڑھتی قیمتوں اور بجلی کے یونٹ میں اضافہ اور بدترین لوڈ شیڈنگ سے حا لات بد سے بدترہوتے چلے جا رہے ہیں کسی بھی جمہوری دور اور جمہوریت کے ٹھیکے داروں نے اس جرأت کا مظاہرہ آج تک نہیں کیا کہ ڈیم بنائے جائیں سستی پن بجلی بنائی جائے تاکہ ملک کا فائدہ ہو سکے بلکہ مہنگے پروجیکٹس قرض لے کے شروع کر دئیے جاتے ہیں یہ بات تو سابق وزیر خزانہ شوکت ترین نے بھی اپنے ایک بیان میں کی کہ ساڑھے تین سالہ دور میں مہنگے پروجیکٹس شروع کیے گئے۔

کسی بھی جمہوری دور میں اس جرأت کا مظاہرہ نہیں کیا گیا کہ ڈیم بنائے جا سکیں۔بہت سے ڈیم تو ایوب دور میں بنے اُس کے بعد اگر کالا باغ ڈیم پہ کام شروع ہوا تو وہ جنرل مشرف کے دور میں کچھ ہوا اور اُس کے بعد آج تک نہیں کسی نے ڈیم بنانے کا سوچا ہر جمہوری دور میں صرف 5سال صرف سیاسی دنگل ہی دیکھنے کو ملتا رہا ۔اب جو ملک میں معاشی عدم استحکام کا سامنا ہے وہ اگر استحکام میں بدلنا ہے تو صرف سیاسی استحکام سے جڑا ہوا ہے۔

اس وقت تمام سیاسی جماعتوں کو سیاسی کھینچا تانی سے گریز کرتے ہوئے میثاق معیشت کی طرف آنا چاہیے جس کے تحت صنعت کاروں، اسٹیک ہولڈرز، کو مل بیٹھنے اور اہداف طے کرنے کی طرف دعوت جائے جو بدلے نہ جائیں۔ زراعت، صنعت، اور دیگر شعبہ جات میں ٹاسک فورسز بنائی جانی چاہیے ۔ان تمام کاموں کو عملی جامہ پہنانے کے لیے یہ اُسی وقت ممکن ہوگا جب ملکی مفاد کے پیش نظر تمام سیاسی جماعتیں مفاہمت سے رہیںمگر جہاں مفاہمت کی بات آتی ہے تو بات کہہ کے ٹال دیا جاتا ہے کہ اختلاف رائے جمہوریت کا حسن ہے مگر اس وقت عوام کو جمہوریت کے حسن سے ضروری دو وقت کی سکون کی روٹی چاہیے ہے خدارا عوام کی سوچیں جس پہ آپ لوگ حکومت کرنے آتے ہیں،تمام سیاسی جماعتوں کو سیاسی استحکام پیدا کرنا چاہیے ،تاکہ انویسٹمنٹ کے لیے انویسٹرز بھروسہ کرکے آسکیں اور تمام سیاسی جماعتیں معاشی بدحالی سے ملک کو نکالنے کے لیے ملکی مفاد کی خاطر جامع منصوبہ بندی کریں ،اس وقت ملک کو درپیش چیلنجوں اور معاشی کیفیت کے پیش نظر میثاق معیشت پر وسیع تر اتفاق رائے ہو جائے تو یہ ملکی مفاد کے ساتھ سب کے مفاد کے لیے بہتر ہو گا وگرنہ آنے والا وقت گزرے ہوئے وقت کی نسبت بد سے بدترین ہوتا چلا جائے گا ملک کو درپیش معاشی مسائل کا ایک ہی حل باقی بچا ہے کہ کہ  فوری طور پہ میثاق معیشت پہ عمل کیا جائے۔

مصنف کے بارے میں