’’آدھی بھوک اور پوری گالیاں‘‘

’’آدھی بھوک اور پوری گالیاں‘‘

ہم ایک ایسے ماحول میں سانس لینے پر مجبور کر دیے گئے ہیں جس کا کبھی ہم نے سوچا بھی نہیں تھا، ہمیں ایسی بنجر تہذیب کا عادی بنا دیا گیا ہے جس کا ہمارے خواب سے کوئی سروکار نہیں۔ ہم اس فضا میں سانس لے رہے ہیں جہاں ہمیں دو وقت کی روٹی کے بجائے’’ گالیاں‘‘ دی جاتی ہیں، ہمیں ایک دوسرے سے نفرت سکھائی جارہی ہے، ہمیں مذہب بیزار بنا دیا گیا ہے اور ہمارے لیے علم اور شعور کے راستے بند کر دیے گئے ہیں۔ ہمیں لکیر کا فقیر بنا دیا گیا ہے تاکہ ہم سوچنے اور سوال کرنے کے بجائے ’’دولے شاہ کے چوہے‘‘ بن جائیں اور ہم آنے والی نسلوں کو ورثے میں کشکول دیں۔ ہم اپنے آقا سے یہ سوال بھی نہیں کر سکتے کہ ہمیں خرید کر غلام کیوں بنایا گیا جب کہ ہمارے آبا نے تو ہمیں ایک آزاد ملک کا شہری بنانے کا خواب دیکھا تھا۔ ہمیں یہ تسلیم کرنا ہو گا کہ ہم جس صبح میں سانس لینے پر مجبور کر دیے گئے ہیں، یہ وہ سحر نہیں جس کا انتظار تھا۔ لہٰذا مجموعی طور پر اس معاشرے کو اس نہج پر پہنچا دیا گیا ہے جس پر سوائے ماتم کوئی کچھ نہیں کر سکتا۔ سرمایہ داروں اور ہم پر مسلط ’’گدی نشین‘‘ حکمرانوں کے بینک اکاؤنٹس ہر نئے دن کے ساتھ بڑھتے جا رہے ہیں اور غریب آدمی کی سانسیں گھٹتی جا رہی ہیں۔ دوستو! آپ نے اگر ایسی صورت حال پر لکھے گئے شہرِ آشوب پڑھنے ہوں تو پروفیسر ڈاکٹر ضیاء الحسن (استادِ مکرم) کی یہ نظمیں پڑھیں۔ ڈاکٹر سعادت سعید نے درست فرمایا: ’’آدھی بھوک اور پوری گالیاں (کتاب کا نام) کا مجموعی تاثر یہ ہے کہ ظلم سے کوئی جگہ، کوئی دور خالی نہیں ہے۔‘‘ اس جبر کے ماحول میں ایسی نظمیں ٹھنڈی ہوا کا جھونکا ہے جن میں عہدِ خستہ کا ماتم بھی ہے اور مستقبل سے (اچھے کی) موہوم سی امید بھی۔ یہ کتاب وہ منظوم تاریخ ہے جسے صدیوں یاد رکھا جائے گا اور ہماری آنے والی نسلیں اس منظوم تاریخ سے اپنے ماضی کا حال معلوم کر سکیں گی۔ پروفیسر ڈاکٹر ضیاء الحسن اردو کے مایہ ناز نقاد، شاعر اور دانش ور ہیں، آپ نے اس کتاب میں نثری نظم کے کمال تجربات کیے، بلاشبہ یہ اپنی نوعیت کی منفرد نظمیں ہیں۔

نظم ’مجھے دل درپیش ہے‘ ملاحظہ فرمائیں۔ محبت کی تلاش میں مَیں ایک ایسی نفرت کا شکار ہوا ہوں؍ جو میرا حصہ نہیں تھی؍ میرا پیڑ مجھے سایہ نہیں دیتا؍ میری چھت مجھ پر گرنے والی ہے؍ دوسروں کی روٹی سے کبھی پیٹ نہیں بھرتا؍ زندگی کے سفر میں مجھے دل دَرپیش ہے؍ زادِ سفر میں؍ میرے پاس محبت کے سوا کچھ نہیں؍ میں ایک ایسے کنویں کے کنارے بیٹھا ہوں؍ جس کا پانی کھارا ہے؍ میں آنسو پینا چاہتا ہوں؍ لیکن دل کے کوزے میں اک قطرہ بھی باقی نہیں؍ میں روح سے تاروںسے؍ ایک کپڑا بُنوں گا؍ اور اس میں لپٹ کر سو رہوں گا۔

نظم ’اب بہار ہمارے گملوں میں آتی ہے‘ ملاحظہ فرمائیں۔ حصولِ رزق کی خاطر؍ بہت سے شہر دریافت کیے جا چکے ہیں؍ ان پر اقتدار قائم رکھنے کے لیے؍ اسلحہ تیار کیا گیا ہے؍ ابھی تک اس محبت کو دریافت نہیں کیا جا سکا؍ جو انسانی جبلت پر غالب آ سکے؍ بہار آنے پر پھول کھلتے؍ پرندے چہچہاتے؍ دریا رقص کناں ہو جاتے ہیں؍ جن موسموں میں دل دھڑکتے تھے؍ اب خاموشی سے گزر جاتے ہیں؍ شہر وسیع اور دل تنگ ہو گئے ہیں؍ جہاں بہار آتی تھی؍ وہاں فلک بوس عمارتیں تعمیر ہو چکی ہیں؍ اب بہار ہمارے گملوں میں آتی ہے۔

نظم ’فکرِ آئندہ‘ دیکھیں اور آئندہ کی فکر کریں۔ ہمیں بصارت سے محروم کر دیا گیا ہے؍ یا منظر سے حسن غائب ہو گیا ہے؍ ایک لامتناہی سیاہ پردہ ہے؍ جس سے ماتمی لباس تیار کیا جا سکتا ہے؍ اور احتجاجی پٹیاں بنائی جا سکتی ہیں؍ ہمیں ایک سورج درکار ہے؍ جس سے؍ معطل بہار کے پھول کھلائے جا سکیں؍ جہاں کے پردے میں چھپا؍ ایک دن طلوع ہو سکے۔

نظم ’ہمیں کیا کرنا چاہیے‘ بھی ملاحظہ فرمائیں۔ ہمیں ایک متروک زمانے میں رہنے پر مجبور کر دیا گیا ہے؍ مذہب اور جغرافیے میں تقسیم کر دیا گیا ہے؍ حب الوطنی کے پردے میں محبت کو چھپا دیا گیا ہے؍ ہم دشمن ملک میں پھیلے طاعون سے بھی مسرت کشید کرتے ہیں؍ احساس کی دھار سے نفرت کو قطع کیا جا سکتا ہے؍ رائج الوقت مذہب ترک کرنے سے خدا پر ایمان مضبوط ہو سکتا ہے؍ زبانوں کو محبت کی ترسیل کا ذریعہ بنایا جا سکتا ہے؍ درجہ حرارت نقطہ انجماد پر پہنچنے سے پہلے؍ ہمیں اپنی آگ روش کر لینی چاہیے۔

نظم ’آزادی‘ میں چھپا کرب محسوس کریں۔ ہمیں باندھ دیا گیا ہے؍ سانس کی زنجیر سے؍ حرص اور طمع سے؍ نفرت اور کدورت سے؍ ہمیں آزاد کیا جا سکتا ہے؍ زندگی کی قید سے؍ فکرِ سخن سے؍ خواب اور تمنا سے۔ اور اب آخر میں شاہکار نظم ’آدھی روٹی اور پوری گالیاں‘ ملاحظہ فرمائیں۔ عبد الکریم!؍ تمہیں نیند کیوں نہیں آ رہی؍ تمہیں بھوک لگی ہے شاید؍ تمہیں روز کیوں بھوک لگ جاتی ہے؍ تم گندم اگاتے ہو؍ پالتے ہو اسے اپنے خون سے؍ بیوی کا زیور بیچ کر؍ اور بچوں کی بھوک سے؍ کاٹتے ہو تپتی دوپہروں میں؍ اور کھاتے ہو نوالے گن گن کر؍ کھاتے ہو ادھوری بھوک اور گالیاں؍ کپاس اگاتے ہو؍ اور پہنتے ہو پیوند لگے کپڑے؍ تمہیں کیا ملتا ہے عبد الکریم؟؍ تمہاری محنت چھین لے جاتے ہیں؍ سرکاری اہلکار؍ سیٹھ سلطان لانڈھا؍ اور کوئی عاشق گوپانگ؍ عبد الکریم!؍ تم یوں ہی بیل کی طرح محنت کرتے رہو؍ تو تمہارے بچوں کو بھی یہی میراث ملے گی؍ آدھی روٹی اور پوری گالیاں؍ تمہیں اس چکر ویو سے نکلنا ہے؍ اپنے بچوں اور ان بچوں کی خاطر؍ اپنے کھاتے سنبھال کر رکھنا عبد الکریم!؍ ایک دن؍ تمہیں حساب لینا ہے؍ تڑخے ہوئے ہاتھوں؍ کمر سے لگے پیٹ؍ اور بھوک سے بلکتے بچوں کا۔

مصنف کے بارے میں