بائیس کروڑ عوام کی نئی زندگی کی خواہش

بائیس کروڑ عوام کی نئی زندگی کی خواہش

حکمرانوں نے ہمیشہ عوام کو اندھیرے میں رکھا ہے انہیں صورت حال کے بارے میں کبھی صحیح طور سے نہیں بتایا یعنی کہا کچھ ‘ کیا کچھ۔ اصل میں وہ اپنا منہ پوری طرح کھول بھی نہیں سکتے تھے کیونکہ ان پر پابندی عائد ہوتی اور یہ پابندی ان پر اقتدار تفویض کرنے والے لگاتے مگرجب سے سماجی رابطے تک عام آدمی کی رسائی ممکن ہوئی ہے اور مسائل نے واقعتاً جینے کی راہ مسدود کی ہے تو صورت حال تبدیل ہونے لگی ہے لہٰذا آج کے حکمران طوعاً و کرہاً کچھ کچھ بولنے لگے ہیں اس کے باوجود وہ ان پر یقین کرنے کو تیار نہیں اور وہ خود تجزیہ کرنے لگا ہے اب حالت یہ ہے کہ قومی میڈیا ہو یا نجی وہ اس پر بھی اعتبار نہیں کر رہا  کیونکہ اس کے خیال میں حکمرانوں نے اسے پورا سچ بتانے سے روک دیا ہے  لہٰذا وہ چٹکی بھر حقائق کے سوا اور کچھ نہیں کہتا ‘کچھ نہیں بتاتا لہٰذا وہ یوٹیوب چینلوں پر انحصار کر رہا ہے کہ ان پر جو دیکھنے کو مل رہا ہے اس سے حیرت و استعجاب کے در وا ہو رہے ہیں کہ ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ۔ دیتے ہیں یہ بازی گر دھوکا کھلا۔مگر یہ کیسی عجیب بات ہے کہ ہمارے حکمرانوں کی اب بھی یہی خواہش اور کوشش ہے کہ وہ اپنی زبان سے کچھ ایسا ادا نہ کریں جس سے ان کی’’ ہوشیاری ‘‘عیاں ہوتی ہو لہٰذا وہ عوام کے سامنے آتے ہیں تو وہی روایتی انداز تکلم اختیار کرتے ہیں جو ماضی میں کرتے رہے ہیں۔ ہم ملک کو خوشحال کر دیں گے۔ انصاف عام اور سستا کر دیں گے۔ کوئی بھوکا نہیں رہے گا۔ بیورو کریسی کو خادم بنائیں گے۔ رشوت کا خاتمہ کریں گے ، تھانہ اور پٹوار کلچر کو تبدیل کریں گے وغیرہ وغیرہ انہیں شاید علم نہیں ہو گا کہ ان کی کسی بات پر لوگ یقین نہیں کرتے اور ان کا مذاق اڑاتے ہیں کہ انہوں نے یہ سب نہیں کرنا بس اتنا ہی کرنا ہے جس کی اجازت واشنگٹن اور آئی ایم ایف نے دینی ہے۔ 

اس میں کچھ غلط بھی نہیں یہاں وہی ہوا ہے جو امریکا اور اس کے ذیلی اداروں نے چاہا ہے۔ معاشی ، سماجی اور سیاسی پروگراموں کی منظوری انہی کی مرہون منت ہوتی ہے۔ بیورو کریسی سے لے کر اقتدار تک سبھی کچھ ان کی مرضی کے مطابق ہوتا ہے مگر اب عوام نے شور مچانا شروع کر دیا ہے کیونکہ وہ ان کے منصوبوں اور اکھاڑ پچھاڑ کی وجہ سے زندگی کی بنیادی ضرورتوں اور آسائشوں کو حاصل نہیں کر سکے۔ اس وقت تو ان کا جینا انتہائی مشکل ہو چکا ہے مہنگائی نے انہیں بری طرح سے بے حال کر دیا ہے 

مگر دیکھیے کہ غریب عوام مزید غریب ہو گئے ہیں اور امیر اور بھی امیر ہو گئے ہیں ہمارے اہل اقتدار و اختیار کو اس بات کی قطعی پروا نہیں کہ انہیں کل کوئی پوچھنے والا بھی آسکتا ہے۔ کھربوں کی جائیدادیں باہر بنا کر بیٹھ گئے ہیں بڑے بڑے قطعات اراضی خرید لیے ہیں انہوں نے‘ یہ ظلم ہے زیادتی ہے۔ جو کوئی اس طرف ان کی توجہ دلاتا ہے وہ ذلیل و رسوا ہو جاتا ہے۔ اس کا حال و مستقبل تاریک ہو جاتا ہے۔ 

بہر حال لگ یہ رہا ہے کہ حکمرانوں نے فیصلہ کر لیا ہے کہ لوگوں کو دینا کچھ نہیں ان سے وصولنا ہے لہٰذا وہ ٹیکسوں اور مہنگائیوں کی شکل میں غریب عوام کی جیبوں پر ہاتھ صاف کر رہے ہیں انہیں ذرا بھر ترس نہیں آتا رحم نہیں آتا۔ جبکہ انہیں اپنے اربوں کھربوں قومی خزانے میں جمع کرانا چاہئیں تھے تا کہ ملک کی معیشت اپنے پاؤں پر کھڑی ہو سکتی مگر ایسا نہیں ہوا اور عوام کی کھال ادھیڑنے میں مصروف چلے آ رہے ہیں وہ احتجاج کرتے ہیں توان پر پولیس وغیرہ جھپٹ پڑتی ہے ان پر خوفناک نوعیت کے مقدمات قائم کر دیے جاتے ہیں۔ اس پر عالمی حقوق انسانی کی تنظیمیں بھی واویلا نہیں کرتیں منہ میں گھنگھنیاں لے لیتی ہیں نظریں بھی ان کی اِدھر اْدھر گھومنے لگتی ہیں۔خیر ان کھوٹے سکوں نے اب تک اودھم مچایا ہوا ہے۔ مختلف طریقوں اور ہتھکنڈوں سے لوگوں کی ہڈیوں کا گودا کھا رہے ہیں۔ شرم حیا ان میں رتی بھر موجود نہیں۔ اب تو بس کرو کتنا کھاؤ گے ابھی تک ’’رجے‘‘ نہیں ہو مگر آگے ان کی اولادیں عزیز و اقارب تیار بیٹھے ہیں لہٰذا یہ سلسلہ ختم ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔ 

عوام کو مطمئن کرنے کے لیے ایک رٹی رٹائی  با ت  کی جاتی ہے کہ دیکھیں جی ہمیں تو معیشت بری حالت میں ملی ہے لہٰذا ٹھیک کرنے میں وقت تو لگے گا ان کا یہ وقت ابھی تک پورا نہیں ہوا اور ملک دیوالیہ ہونے کے قریب تر پہنچ چکا ہے۔ اور ایسا عالمی مالیاتی اداروں اور واشنگٹن کی ہاں میں ہاں ملانے سے ہوا ہے اگر ہم یہ فیصلہ کر لیتے کہ اقتدار و اختیار اپنے بازوؤں سے حاصل کرنا ہے اپنے عوام کے ووٹوں سے ممکن بنانا ہے اور آپس میں مل جل کر رہنے سے ان تک پہنچنا ہے تو یقین سے کہا جا سکتاہے کہ یہاں دودھ کی نہریں بہہ رہی ہوتیں مگر نہیں ایسا کبھی چاہا ہی نہیں گیا ہمیشہ بڑی طاقتوں کی آشیر باد کے لیے ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی کوشش کی گئی۔ نتائج ہمارے سامنے ہیں۔ آپس میں گتھم گتھا ہیں گالم گلوچ کر رہے ہیں نقصان پہنچانے کے لیے منصوبے بنا رہے ہیں طاقت کے ذریعے دبانے کی حکمت عملیاں اختیار کی جا رہی ہیں۔ لڑنے مرنے کی باتیں ہو رہی ہیں۔ عوام کو لاٹھیوں اور گولیوں سے خاموش کیا جا رہا ہے۔ دروغ گوئی کے نئے ریکارڈ قائم کیے جا رہے ہیں یعنی عوام کو ایک بار پھر شیشے میں اتارا جا رہا ہے مگر یہ ہو گا نہیں کیونکہ سوشل میڈیا نے بال کی کھال اتار کے رکھ دی ہے حقائق کو سامنے لا کھڑا کیا ہے لہٰذا جو حکمران طبقہ چاہتا ہے وہ زیادہ دیر تک نہیں چلے گا۔ کب تک لوگ بیوقوف بنیں گے کب تک انہیں پس زنداں دھکیلا جاتا رہے گا کب تک ان پر خطرناک مقدمات درج کر کے ہراساں کیا جائے گا۔ یہ جھکانے اور دہلانے کے حربے ناکام ہوں گے کیونکہ لاٹھی ایک حد تک گھمائی جا سکتی ہے لہٰذا حکمران اپنی تجوریوں کے منہ کھولیں باہر سے اپنا پیسا واپس لائیں وہ باہر کے ممالک میں وسیع و عریض محل بنا کر سکون میں نہیں رہیں گے انہیں وطن کی یاد ضرور ستائے گی جہاں ان کے بچپن گزرے وہ اسے کسی صورت نہیں بھولیں گے۔ یہ دولت کس کام کی کہ جب ذہن و قلب ہی مطمئن نہ ہوں جو لمحات کھیتوں اور کھلیانوں میں گزرے ہوں ان کی خوشبو ان کی مہک ان کی ہریالیاں ہمیشہ نگاہوں کے سامنے ابھرتی رہتی ہیں اور راحت بخشتی ہیں لہٰذا سوچ کو بدلو حکمرانی کے آداب کو بدلو۔ کیا کرو گے ان مفلوک الحال کے سر جھکا کر انہیں بھی جینا ہے۔ جینے دو۔ نعرہ مستانہ بلند کرو اور اپنوں میں آجاؤ یہ وہ لوگ ہیں جو کبھی مایوس نہیں کرتے جان پر کھیل جاتے ہیں مگر اُف نہیں کرتے۔ 

بہرکیف موجودہ حکومت کو چاہیے کہ وہ آئی ایم ایف کی ہر بات ماننے کو لازمی نہ سمجھے اور دیگر ذمہ داران کو بھی اس نازک مشکل اور تکلیف دہ صورت حال کا ادراک و فہم ہو گا وہ اپنے شہ دماغوں کو بروئے کار لاتے ہوئے ضرور اپنا فرض ادا کریں گے جس سے معیشت کی یہ ڈوبتی ناؤ کنارے لگ جائے گی مگر ہم یہاں تمام سیاسی رہنماؤں سے ملتمس ہیں وہ غصے میں آکر اس پہلو کو نظر انداز نہ کریں کہ وہ سب پاکستانی ہیں اور ان کا فرض بنتا ہے کہ وہ پیار و محبت کے لئے ترستی اس دھرتی کو اور نہ ترسائیں ایک دوسرے کے گلے لگ جائیں۔ یہ نظارہ بائیس کروڑ عوام دیکھنے کے شدید خواہش رکھتے ہیں کہ اس سے انہیں نئی زندگی سے لطف اندوز ہونے کا موقع مل سکتا ہے۔

مصنف کے بارے میں