پی ٹی آئی نے پنجاب اسمبلی میں مخصوص نشستوں سے متعلق الیکشن کمیشن کا فیصلہ چیلنج کر دیا

پی ٹی آئی نے پنجاب اسمبلی میں مخصوص نشستوں سے متعلق الیکشن کمیشن کا فیصلہ چیلنج کر دیا

اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے پنجاب اسمبلی میں خواتین کی مخصوص نشستوں سے متعلق الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) کا فیصلہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا ہے۔ 

تفصیلات کے مطابق پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل اسد عمر کی جانب سے دائر کی گئی درخواست میں موقف اپنایا گیا ہے کہ پنجاب اسمبلی میں خواتین کی مخصوص نشستوں سے متعلق الیکشن کمیشن کا 2 جون کا فیصلہ خلاف قانون ہے۔ 

الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کے 25 منحرف اراکین کو ڈی نوٹیفائی کرنے کا فیصلہ سنایا جس میں مخصوص نشست پر منتخب ہونے والی عظمیٰ کاردار، ساجدہ یوسف اور عائشہ نواز بھی ڈی نوٹیفائی ہوئیں۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ خصوصی نشست خالی ہونے پر پارٹی ترجیحاتی فہرست کے مطابق رکن منتخب ہونے کا نوٹیفکیشن جاری کیا جاتا ہے اور پی ٹی آئی کی فراہم کردہ ترجیحی فہرست کے تحت ہی عائشہ نواز،عظمی کاردار اور ساجدہ یوسف رکن پنجاب اسمبلی منتخب ہوئی تھیں۔

درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ تین نشستیں خالی ہونے پر اب پی ٹی آئی کی فہرست میں بتول زین،سائرہ رضا اور فوزیہ عباس نسیم سر فہرست ہیں لہٰذا الیکشن ایکٹ 2017ءکے تحت ان تینوں کا نوٹیفکیشن جاری کرنا الیکشن کمیشن آف پاکستان کی ذمہ داری ہے۔

درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن نے 20 نشستوں پر ضمنی الیکشن ہونے تک ان نشستوں پر نوٹیفیکیشن روک دیا تھا لہٰذا عدالت سے استدعا ہے کہ الیکشن کمیشن کے 2 جون کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا جائے اور پنجاب اسمبلی کی مخصوص نشستوں کا نوٹیفیکیشن جاری کرنے کا حکم دیا جائے۔

مصنف کے بارے میں