ملک بھرمیں مردم شماری کاآغاز کل ہوگا ،تمام انتظامات مکمل کرلیے گئے

ملک بھرمیں مردم شماری کاآغاز کل ہوگا ،تمام انتظامات مکمل کرلیے گئے

اسلام آباد:چھٹی مردم شماری کے تحت ملک کے 147میں 62اضلاع میں پہلے اور 85اضلا ع میں دوسرے مرحلے میں مردم شماری ہوگی جبکہ اسلام آباد،راولپنڈی اور اٹک میں دو مراحل میں مردم شماری ہوگی۔فاٹا کی ایک ایجنسی میں پہلے اور چھ ایجنسیوں میں دوسرے مرحلے میں مردم شماری ہوگی۔چھٹی مردم شماری کے تحت سندھ کے آٹھ اضلاع کراچی ویسٹ ،کراچی ایسٹ ،کراچی ساوتھ،کورنگی ،کراچی سنٹرل ،ملیر، حیدر آباد اور گھوٹکی میں پہلے جبکہ اکیس اضلاع لاڑکانہ ،جیکب آباد ،بدین ،دادو،کشمور ،ٹھٹہ ،سجاول،میر پور خاص ،عمر کوٹ ،سانگھڑ،تھرپار کر،سکھر،جامشورو،شکار پور،ٹنڈو اللہ یار ،ٹنڈو محمد خان ،شہداد کوٹ ،خیبر پور ،نوشیرو فیروز،مٹیاری اور شہید بینظیر آباد میں دوسرے مرحلے میں مردم شماری ہوگی۔


پنجاب کے15اضلاع لاہور ،جھنگ ،چینوٹ ،فیصل آباد ،ٹوبہ ٹیک سنگھ،ڈیرہ غازی خان ،راجن پور،لیہ ،مظفر گڑھ،حافظ آباد،نارول ،سیالکوٹ ،وہاڑی ،بہاولپور،پاک پتن میں پہلے جبکہ انیس اضلاع میانوالی ،بھکر ،خوشاب،سرگودھا ،چکوال، جہلم ساہوال ،اوکاڑہ ،خانیوال ،ملتان ،شیخوپورہ ،ننکانہ صاحب ،قصور ،گوجرنوالہ ،منڈی بہاو الدین ،رحیم یار خان اور لودھراں میں دوسرے مرحلے میں مردم شماری ہوگی۔اسی طرح خیبر پختونخواہ کے چودہ اضلاع پشاور،مردان ،صوابی ،چارسدہ ،نوشہرہ ،بونیر ،شانگلہ ،لکی مروت ،ڈیرہ اسماعیل خان ،ہنگو،ایبٹ آباد،ہری پور ،مانسہرہ اور اورکزئی ایجنسی میں پہلے جبکہ بنوں ،کوہاٹ ،کرک ،ٹانک ،مالاکنڈ ،اپر دیر ،لوئر دیر ،چترال ،سوات ،بٹ گرام ،کوہستان ،تور غر ،مہمند ایجنسی ،خیبر ایجنسی ،باجوڑ ایجنسی ،جنوبی وزیرستان اور شمالی وزیر ستان میں دوسرے مرحلے میں مردم شماری ہوگی۔

بلوچستان کے پندرہ اضلاع کوئٹہ ،آواران ،لسبیلہ،ڑوب ،خضدار،جعفر آباد ،نصیر آباد،جھل مگسی ،ڈیرہ بکٹی ،کوہلو،موسیٰ خیل ،واشوک ،خاران ،قلات اور زیارات میں پہلے جبکہ سترہ اضلاع گوادر،لورلائی ،بار کھان ،شیرانی ،صہوبت پور،بولان،سبی ،لہری ،ہرنائی ،مستونگ ،قلعہ سیف اللہ ،قلعہ عبد اللہ ،نوشکی ،چاغی ،پنجگور، پشین اور تربت میں دوسرے مرحلے میں مردم شماری ہوگی۔

اسی طرح آزاد جموں و کشمیر کے پانچ اضلاع مظفر آباد،باغ ،سدھنوتی ،کوٹلی ،بھمبر اور پانچ اضلاع نیلم ،ہٹیاناں بالا،حویلی ،پونچھ اور میر پور میں دوسرے مرحلے میں مردم شماری ہوگی جبکہ گلگت بلتستان کے پانچ اضلاع گلگت ،بلتستان،غانچی ،نگر اور غذر میں پہلے مرحلے جبکہ ہنزہ ،شیگر ،خرمونگ ،استور اور دیا میر میں دوسرے مرحلے میں مردم شماری ہوگی۔اسلام آباد ،راولپنڈی اور اٹک میں مردم شماری 30مارچ سے شروع ہوکر 23مئی کو ختم ہوگی۔

مردم شماری کیلئے ملک کو ایک لاکھ اڑسٹھ ہزار ایک سو ستر بلاکس میں تقسیم کیا گیا ہے اور ایک بلاک دو سے ڈھائی سو گھروں پر مشتمل ہوگا، مردم شماری میں مجموعی طور پر ایک لاکھ اٹھارہ ہزار آٹھ سو چھبیس سٹاف کی خدمات حاصل کی گئیں ہیں جس میں84ہزار سے زائد شمار کنندہ بھی شامل ہیں،مردم شماری میں دو لاکھ سے زائد فوجی اہلکاروں کی خدمات حاصل ہوں گی اورہر شمار کنندہ کیساتھ ایک فوجی اہلکار بھی تعینات ہوگا۔مردم شماری کا عمل دو مراحل میں 25مئی کو مکمل ہوگا ،پہلا مرحلہ 15مارچ سے 15اپریل اور دوسرا مرحلہ 25اپریل سے 25مئی پر مشتمل ہوگا ،مردم شماری کیلئے بے گھر افراد کی گنتی کیلئے ایک روزمختص کیا گیاہے۔

مردم شماری کے ابتدائی نتائج مردم شماری کے ختم ہونے کے دو ماہ بعد تک تیار کرلئے جائیں گے۔مردم شماری پر ساڑھے اٹھارہ ارب روپے کے اخراجات کا تخمینہ لگایا گیا ہے جس میں چھ ارب سیکیورٹی ،چھ ارب سول اور ساڑھے چھ ارب روپے ٹرانسپورٹ کی مد میں خرچ کرنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔مرد م شماری میں دانستہ طور پر غلط معلومات دینے والے کو پچاس ہزار روپے جرمانہ اور چھ ما ہ قیدی کی سزا ہوگی