سام سنگ کا ایس 8 اور ایس 8 پلس میں چہرہ شناس ٹیکنالوجی لانے کا اعلان

سیﺅل:اپنی مصنوعات کے حوالے سے دنیا بھر میں مشہور کورین ٹیکنالوجی کمپنی سام سنگ نے اپنے آئندہ ”گیلکسی ایس 8“ اور ”گیلکسی ایس 8 پلس“ میں فیس لاک کا جدید فیچر متعارف کرانےکا اعلان کر دیا ۔ ٹیکنالوجی کے شعبہ سے تعلق رکھنے والے تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ سام سنگ میں گزشتہ چند برسوں سے یہ سوچ پروان چڑھ رہی تھی کہ انگلیوں کے نشانات (فنگر پرنٹس) سے مالک کو شناخت کرنے والی ٹیکنالوجی اب خاصی پرانی ہوچکی ہے جس کی جگہ کوئی نئی اور زیادہ مو¿ثر ٹیکنالوجی ہونی چاہیے۔

سام سنگ کا ایس 8 اور ایس 8 پلس میں چہرہ شناس ٹیکنالوجی لانے کا اعلان

سیﺅل:اپنی مصنوعات کے حوالے سے دنیا بھر میں مشہور کورین ٹیکنالوجی کمپنی سام سنگ نے اپنے آئندہ ”گیلکسی ایس 8“ اور ”گیلکسی ایس 8 پلس“ میں فیس لاک کا جدید فیچر متعارف کرانےکا اعلان کر دیا ۔ ٹیکنالوجی کے شعبہ سے تعلق رکھنے والے تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ سام سنگ میں گزشتہ چند برسوں سے یہ سوچ پروان چڑھ رہی تھی کہ انگلیوں کے نشانات (فنگر پرنٹس) سے مالک کو شناخت کرنے والی ٹیکنالوجی اب خاصی پرانی ہوچکی ہے جس کی جگہ کوئی نئی اور زیادہ مو¿ثر ٹیکنالوجی ہونی چاہیے۔


ناقدین کا یہ بھی کہنا ہے کہ سام سنگ کے آئندہ اسمارٹ فونز میں چہرہ شناسی کے علاوہ آنکھ کی پتلی کی مدد سے صارف کو شناخت کرنے کی ٹیکنالوجی بھی موجود ہوسکتی ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ بہتر سیکیورٹی کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ دونوں ٹیکنالوجیز یکجا کرتے ہوئے استعمال کی جائیں۔قبل ازیں جنوبی کوریا کے ایک اخبار نے سام سنگ کے اندرونی ذرائع کے حوالے سے خبر شائع کی تھی کہ ”گیلکسی ایس 8“ اسمارٹ فون میں استعمال ہونے کے لیے انتہائی تیز رفتار چہرہ شناس ٹیکنالوجی تیار کرلی گئی ہے جو ایک سیکنڈ کے 100 ویں حصے میں کوئی بھی چہرہ پہچان سکتی ہے۔ یعنی صارف کا چہرہ جونہی اسمارٹ فون کے سامنے آئے گا وہ فوراً ان لاک ہوجائے گا اور استعمال کرنے والے کو انتظار بھی نہیں کرنا پڑے گا۔

فی الحال یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ فیس لاک کی یہ ٹیکنالوجی، فنگر پرنٹس کے مقابلے میں زیادہ محفوظ ثابت ہوگی یا نہیں کیونکہ ہر انسان کی انگلیوں کے نشانات (فنگر پرنٹس) دنیا کے دوسرے تمام انسانوں سے مختلف ہوتے ہیں جب کہ جڑواں اور ہم شکل افراد کی بناءپر چہرہ شناس ٹیکنالوجی اتنی قابلِ بھروسہ نہیں۔