لیٹتے ہوئے موبائل یا کسی الیکٹرانگ گیجٹ کا استعمال آپکی نیند میں رکاوٹ کا باعث بنتا ہے

سارا دن نیند کا شکار رہنے کے بعد اگر آپ بستر میں لیٹتے ہیں اور نیند کوسوں دور بھاگ جاتی ہے

 لیٹتے ہوئے موبائل یا کسی الیکٹرانگ گیجٹ کا استعمال آپکی نیند میں رکاوٹ کا باعث بنتا ہے

نیویارک: سارا دن نیند کا شکار رہنے کے بعد اگر آپ بستر میں لیٹتے ہیں اور نیند کوسوں دور بھاگ جاتی ہے تو یہ ایک تشویشناک بات ہے کیونکہ اس کی وجہ سے آپ ساری رات کروٹیں بدلتے رہتے ہیں اور نیند ہے کہ آنے کا نام ہی نہیں لیتی۔ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ اگر آپ بھی ایسی مشکل کا شکار ہیں تو آپ کو چاہیے کہ اسے سنجیدگی سے لیں کہ اس کی وجہ سے صحت کے سنگین مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ یونیورسٹی آف پینسیلوینیا کے تحقیق کار فلپ گہرمن کا کہنا ہے کہ کچھ لوگوں کے ساتھ یہ مسئلہ ہوتا ہے کہ جب بھی وہ بستر میں لیٹے ہیں تو چاہے جتنی بھی نیند آرہی ہو،ان کی نیند غائب ہوجاتی ہے اور وہ چاہتے ہوئے بھی نہیں سوپاتے۔ اس کا کہنا ہے کہ جب ہم بستر میں لیٹتے ہیں تو ہماری کسی بھی ایسی حرکت کو ہمارا دماغ یہ پیغام لیتا ہے کہ اسے جاگنا ہے جس کی وجہ سے وہ جسم کو الرٹ کردیتا ہے۔


’’کچھ لوگوں کو عادت ہوتی ہے کہ لیٹتے ہوئے موبائل یا کسی الیکٹرانگ گیجٹ کا استعمال شروع کردیتے ہیں جس کی وجہ سے دماغ کو یہ پیغام ملتا ہے اسے سونا نہیں اور پھر ساری رات نیند خراب ہوجاتی ہے۔‘‘اس کا کہنا ہے کہ ان گیجٹس سے نکلنے والی روشنی ہمارے دماغ پربراہ راست اثرانداز ہوتی ہے اور ہم جاگنے لگتے ہیں۔ اس کا کہنا ہے کہ اس کے علاوہ ہمارا جسم کا کلاک اس طرح سیٹ ہوجاتا ہے کہ چاہتے ہوئے بھی ہم سونہیں پاتے۔ اس کا کہنا ہے کہ کوشش کریں کہ اپنے جسم کے کلاک کو سیٹ کریں اور ایسے وقت پر سونے سے اجتناب کریں جو کہ غلط ہو، جیسے شام 7بجے سونے کی بجائے تھوڑا انتظارکریں اور کوشش کریں کہ 10بجے تک جاگا جائے۔’’اگر آپ جلد سوجائیں گے تو پھر رات کی نیند ممکن نہ ہوسکے گی اور آپ کا کلاک اسے وقت پر سیٹ ہوجائے گالہذا کوشش کرکے اپنے کلاک کو ٹھیک کریں۔‘‘