کیا پاکستا ن اقتصادی ترقی کی راہ پر گامزن ہے؟ نیو کے پروگرام ”خبر کے پیچھے“ میں تبصرہ

لاہور: نیو نیوز پر نشر ہونیوالا صحافتی دنیا کے منفرد پروگرام ”خبر کے پیچھے“ قومی مسئلوں پر عوام کیلئے مکمل اور بے باک تجزیے پیش کر رہا ہے، اس پروگرام میں پاکستان کی تینوں بڑی سیاسی پارٹیوں ن لیگ ، پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کے رہنما ان مسئلوں پر اپنی پارٹی کی ترجمانی کرتے ہوئے حقائق پیش کر رہے ہیں۔ پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے تحریک انصاف کے ترجمان فواد چودھری نے کہا کہ حکومت منافقانہ سیاست کر رہی ہے، ہر شعبوں کیلئے حکومت کی جانب سے الگ الگ وزیر تعینات ہیں، جبکہ قوم کو قرضوں میں جکڑ دیاہے۔

کیا پاکستا ن اقتصادی ترقی کی راہ پر گامزن ہے؟ نیو کے پروگرام ”خبر کے پیچھے“ میں تبصرہ

لاہور: نیو نیوز پر نشر ہونیوالا صحافتی دنیا کے منفرد پروگرام ”خبر کے پیچھے“ قومی مسئلوں پر عوام کیلئے مکمل اور بے باک تجزیے پیش کر رہا ہے، اس پروگرام میں پاکستان کی تینوں بڑی سیاسی پارٹیوں ن لیگ ، پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کے رہنما ان مسئلوں پر اپنی پارٹی کی ترجمانی کرتے ہوئے حقائق پیش کر رہے ہیں۔ پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے تحریک انصاف کے ترجمان فواد چودھری نے کہا کہ حکومت منافقانہ سیاست کر رہی ہے، ہر شعبوں کیلئے حکومت کی جانب سے الگ الگ وزیر تعینات ہیں، جبکہ قوم کو قرضوں میں جکڑ دیاہے۔


اس پرحکمران جماعت کے ترجمان ڈاکٹر مصدق ملک کا کہنا تھا کہ ہم نے منافقت اپوزیشن سے سیکھی ہے ۔ حجاب سے متعلق بات کرتے ہوئے مصدق ملک کا کہنا تھا کہ کالجوں میں حجاب کی پابندی محض ایک وزیر کا خیال تھا جبکہ ایسی کوئی پالیسی نافذ نہیں کی گئی ۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی جریدے ”اکانومنسٹ “پاکستان میں معاشی اور اقتصادی ترقی کا اعتراف کیا ۔

پیپلز پارٹی کی جانب سے ترجمانی کرنے والے مصطفی نوازکھوکھر نے بھی پروگرام میں اپنی پارٹی کا دفاع کرتے ہوئے حقائق پیش کیے انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم اقلیتوں کے حقوق کی بات تو کر رہے ہیں مگر اب تک جوزف کالونی میں 104 گھر اور گوجرہ واقعہ پر آج تک کچھ نہیں کیا گیا ۔ ان کا کہنا تھا کہ پانامہ فیصلہ کو دونوں جماعتوں تحریک انصاف اور ن لیگ کو کھلے دل سے قبول کرنا چاہیے ۔ پیپلز پارٹی کی جانب سے ایک اور ترجمان سینیٹر سلیم مانڈی والا نے بھی پروگرام کے دوران اپنے خیالات ظاہر کیے ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی ملک کی معیشت کی بہتری کا اندازہ اس کی برآمدات سے لگایا جاسکتا ہے لیکن یہاں سب کچھ حکومت کے خلاف جا رہا ہے یہ کیسے کہہ سکتے ہیںکہ معیشت بہتر ہو رہی ہے۔