توہین عدالت کیس میں وزیرمملکت طلال چوہدری پر آج فرد جرم عائد نہ ہو سکی

اسلام آباد: عدلیہ مخالف بیان بازی پر وزیر مملکت طلال چوہدری پر آج توہین عدالت کی فرد جرم عائد نہ ہو سکی ۔ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ آج توہین عدالت کیس کی سماعت کی ۔

دوران سماعت وزیر مملکت طلال چوہدری نے عدالت سے استدعا کی کہ آج چارج فریم کرنے سے پہلے انہیں سن لیا جائے، سپریم کورٹ کے بہت سے ایسے فیصلے موجود ہیں جس میں عدالت نے تحمل کا مظاہرہ کیا جن کا حوالہ دینا ہے۔

جسٹس اعجاز افضل نے ریمارکس دیے کہ آپ حوالہ دے دیجیے گا لیکن بعد میں، آج ہم نے آپ پر چارج فریم کرنا ہے، کیس میں پہلے ہی بہت وقت گزر چکا ہے، مؤخر نہیں کرنا چاہتے۔

طلال چوہدری کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ انہیں ساتھی وکیل کے والد کے جنازے میں جانا ہے اس لئے سماعت کل تک کےلئے ملتوی کی جائے۔ عدالت نے چارج شیٹ طلال چوہدری کے وکیل کے سپرد کرتے ہوئے سماعت کل تک کے لئے ملتوی کردی۔ 

 یکم فروری کو عدلیہ مخالف تقریر پر آرٹیکل 184 (3) کے تحت چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے مسلم لیگ (ن) کے رہنما طلال چودھری کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں :توہین عدالت کیس، سپریم کورٹ کا طلال چودھری پر فرد جرم عائد کرنے کا فیصلہ
  

طلال چودھری نے جڑانوالہ کے جلسے میں مبینہ طور پر ججز کے خلاف توہین آمیز زبان استعمال کی تھی،وہ اس سے قبل بھی پاناما کیس کے سلسلے میں شریف خاندان کے مالی اثاثوں کی تحقیقات کرنے والی جے آئی ٹی اور عدلیہ کو نشانہ بنا چکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: آج کل طلال نظر نہیں آرہا؟نواز شریف کا کمرہ عدالت میں پرویز رشید سے سوال
 
 

گزشتہ روز سپریم کورٹ کے خصوصی بینچ نے وفاقی وزیر نجکاری دانیال عزیز پر توہین عدالت کی فرد جرم عائد کی تھی۔چیف جسٹس سابق وزیراعظم نواز شریف اور وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق کے خلاف دائر توہین عدالت کی درخواستوں کی بھی سماعت کریں گے۔

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں