حسین حقانی کی وطن واپسی کیلئے ایف آئی اے کا دفتر خارجہ کو خط

حسین حقانی کی وطن واپسی کیلئے ایف آئی اے کا دفتر خارجہ کو خط

اسلام آباد: میمو گیٹ کے مرکزی کردار حسین حقانی کی وطن واپسی کے لئے ایف آئی اے نے دفتر خارجہ کو ایک خط لکھا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ سابق سفیر کی واپسی کے لئے امریکن سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ سے رابطہ کیا جائے۔

خط میں مزید کہا گیا کہ امریکی حکام کو معاملے کی حساسیت سے آگاہ کرتے ہوئے حسین حقانی کی واپسی کا مطالبہ کیا جائے جبکہ ایف آئی اے ذرائع کا کہنا ہے کہ دفتر خارجہ کو حسین حقانی کے خلاف درج ایف آئی آر اور 72 لاکھ ڈالر سیکرٹ فنڈز کی خورد برد سے متعلق بھی تفصیلات فراہم کی گئی ہیں۔

ذرائع کے مطابق دفتر خارجہ کا امریکن ڈیسک ایف آئی اے خط کا جائزہ لے کر امریکی حکام اور سفارت خانے سے جلد رابطہ کرئے گا۔

مزید پڑھیں:ن لیگ کے سارے مخالفین ایک ہی جگہ جا کر جھک گئے، نواز شریف

 

یاد رہے گزشتہ رواں ہفتے 12 مارچ کو فیڈرل انوسٹی گیشن ایجنسی نے ریاست کی جانب سے امریکا میں پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی کے خلاف فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف آئی آر) درج کرائی۔

پولیس اسٹیشن ایف آئی اے اسلام آباد سرکل میں سنگین دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا جس میں کرپشن، اختیارات کا ناجائز استعمال اور دیگر دفعات شامل ہیں۔

ایف آئی آر کے مطابق مقدمہ اینٹی کرپشن سرکل نے انکوائری کے بعد درج کیا ہے اور اب مقدمے کے باقاعدہ اندراج کے بعد ریڈ وارنٹ کے اجرا کا عمل شروع ہو جائے گا۔

 

اس مقدمے کا حکم حسین حقانی کے خلاف سپریم کورٹ آف پاکستان میں جاری کارروائی کے دوران عدالت عظمیٰ نے دیا تھا جس کے حوالے سے ایف آئی اے نے عدالت کی گذشتہ سماعت پر آگاہ کیا تھا کہ حسین حقانی کو وطن واپس لانے اور انٹرپول کی مدد حاصل کرنے کے لیے جلد مقدمہ کا اندراج کر لیا جائے گا۔

یہ خبر بھی پڑھیں:'جو ووٹ خریدتے اور بکتے ہیں وہ بدقسمتی سے وہ دونوں اراکین اسمبلی ہیں'

 

واضح رہے سپریم کورٹ آف پاکستان میں 15 فروری 2018 کو میمو گیٹ اسکینڈل کیس کی سماعت کے دوران عدالت نے سابق سفیر حسین حقانی کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے۔ عدالت عظمیٰ میں ایف آئی اے کے ڈائریکٹر جنرل بشیر میمن نے بتایا تھا کہ حسین حقانی کی گرفتاری کے لیے ریڈ وارنٹ جاری کرنے کے لیے انٹرپول کو مراسلہ لکھا جا چکا ہے۔

 

کیس کا پس منظر

 

میموگیٹ اسکینڈل 2011 میں اس وقت سامنے آیا تھا جب پاکستانی نژاد امریکی بزنس مین منصور اعجاز نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ انہیں حسین حقانی کی جانب سے ایک پیغام موصول ہوا جس میں انہوں نے ایک خفیہ میمو اس وقت کے امریکی ایڈمرل مائیک مولن تک پہنچانے کا کہا تھا۔

 

یہ الزام عائد کیا جاتا ہے کہ ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے لیے کیے گئے امریکی آپریشن کے بعد پاکستان میں ممکنہ فوجی بغاوت کو روکنے کرنے کے سلسلے میں حسین حقانی نے واشنگٹن کی مدد حاصل کرنے کے لیے ایک پراسرار میمو بھیجا تھا۔

 

اس اسکینڈل کے بعد حسین حقانی نے بطور پاکستانی سفیر اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا اور اس کی تحقیقات کے لیے ایک جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا گیا تھا۔ جوڈیشل کمیشن نے اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ میمو ایک حقیقت تھا اور اسے حسین حقانی نے ہی تحریر کیا تھا۔

 

 

کمیشن نے اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ میمو لکھنے کا مقصد پاکستان کی سویلین حکومت کو امریکا کا دوست ظاہر کرنا تھا اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی کہ ایٹمی پھیلاؤ روکنے کا کام صرف سویلین حکومت ہی کر سکتی ہے۔

 

رپورٹ میں مزید کہا گیا تھا کہ حسین حقانی نے میمو کے ذریعے امریکا کو نئی سیکورٹی ٹیم کے قیام کا یقین دلایا اور وہ خود اس سیکیورٹی ٹیم کا سربراہ بننا چاہتے تھے۔ کمیشن کی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ 'حسین حقانی یہ بھول گئے تھے کہ وہ پاکستانی سفیر ہیں انہوں نے آئین کی خلاف ورزی کی'۔

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں