یہ ایک سنجیدہ انکشاف ، نواز شریف کے بیان سے بھارت کے موقف کی تائید ہوتی ہے:بھارتی وزیردفاع

یہ ایک سنجیدہ انکشاف ، نواز شریف کے بیان سے بھارت کے موقف کی تائید ہوتی ہے:بھارتی وزیردفاع
اس حملے کے ذمے دار پاکستان میں ہیں،نرملا۔۔۔تصویر بشکریہ لائیو منٹ ڈآٹ کام

نئی دہلی:سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کے ممبئی حملوں سے متعلق متنازعہ انٹرویو پر بھارت بھی میدان میں آگیاہے اور بھارتی خاتون وزیر دفاع نے کہا ہے کہ اس بیان سے بھارتی موقف کی تائید ہوئی۔


یہ بھی پڑھیں:بھارتی عدم تعاون اور ہٹ دھرمی ممبئی حملہ کیس کی پیش رفت میں سب سے بڑی رکاوٹ بنا:چودھری نثار

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیر دفاع نِرملا ستھارامن نے نواز شریف کے ممبئی حملوں سے متعلق حالیہ بیان پر ردعمل دیتے ہوئے اپنی پریس کانفرنس میں کہا کہ یہ ایک سنجیدہ انکشاف ہے، نواز شریف کے اس بیان سے بھارت کے اس موقف کی تائید ہوتی ہے کہ ممبئی حملہ پاکستان سے کیا گیا تھا، ہمیں یقین ہے کہ اس حملے کے ذمے دار پاکستان میں ہیں اور اس معاملے پر ہمارا موقف درست ثابت ہوا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:جو میاں صاحب نے کہا ملک کے بہترین مفاد میں کہا، مریم نواز

بھارتی وزیر دفاع نے مزید کہا کہ جموں و کشمیر کی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کی ماہ رمضان سے لے کر امرناتھ یاترا تک کے عرصے میں جنگ بندی کی تجویز کے ایک جواب میں کہا کہ میں سمجھتی ہوں کہ جموں و کشمیر کا معاملہ بہت اہم ہے اور اسے حساس طریقے سے نمٹنا ہوگا۔

نرملا نے جموں و کشمیر میں جنگ بندی کو ایک ناقابل عمل آپشن بھی قرار دیا۔اس بیان پر ملک کے مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں میں ایک نئی بحث کا اغاز ہوگیا ہے اور سابق وزیرِ اعظم کے اس بیان پر تنقید کی جارہی ہے جب کہ بھارت نے نوازشریف کے بیان کو جواز بناکر پاکستان کے خلاف مزید زہر اگلنا شروع کردیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:جرمن کمپنی نے شراب کی بوتلوں کے ڈھکنوں پر سعودی عرب کا جھنڈا پرنٹ کردیا

خیال رہے کہ گزشتہ دنوں پاکستان کے انگریزی اخبار میں انٹرویو دیتے ہوئے سابق وزیراعظم میاں نوازشریف نے کہا تھا کہ سرحد پار جا کر 150 لوگوں کو قتل کردینا قابل قبول نہیں، نان سٹیٹ ایکٹراب تک متحرک ہیں جنھیں غیر ریاستی عناصر کہا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:قومی سلامتی کمیٹی نے نواز شریف کا الزام متفقہ طور پر رد کر دیا

نواز شریف نے اپنے انٹرویو میں یہ بھی کہا تھا کہ مجھے سمجھائیں کہ کیا ہمیں انھیں اس بات کی اجازت دینی چاہیے کہ سرحد پار جا کر 150 لوگوں کو قتل کر دیں۔سابق وزیراعظم کے اس بیان کے بعد ایک ہنگامہ کھڑا ہوچکا ہے اور ان پر غداری جیسے سنگین الزامات بھی لگ چکے ہیں جبکہ اس قومی سلامتی کے اجلاس میں پاک فوج کی جانب سے بھی اس بیان کو مسترد کردیا گیا ہے۔

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں