پنجاب یونیورسٹی کے 27 پی ایچ ڈی، 33 ایم فل پروگرامز میں داخلے بند

پنجاب یونیورسٹی کے 27 پی ایچ ڈی، 33 ایم فل پروگرامز میں داخلے بند
ایچ ای سی کی اس رپورٹ پر پنجاب یونیورسٹی انتظامیہ نے اعلیٰ سطحی اجلاس طلب کر لیا۔۔۔۔۔۔فوٹو/ یونیورسٹی فیس بُک پیج

لاہور: ایچ ای سی کی کوالٹی ایشورنس ایجنسی کی ٹیم نے ڈاکٹر عدنان سرور کی سربراہی میں پنجاب یونیورسٹی کے پی ایچ ڈی اور ایم فل ڈگریوں کا جائزہ لیا۔ کارروائی کرتے ہوئے یونیورسٹی کے 27 پی ایچ ڈی اور 33 ایم فل ڈگریوں میں داخلے فوری طور پر بند کرنے کا حکم جاری کر دیا ہے۔


ایجنسی کی رپورٹ کی بنیاد پر پنجاب یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی اور ایم فل ڈگریوں میں مزید داخلے بند کر دیے گئے ہیں۔

اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ شعبہ جات کے سربراہان کی جانب سے سکالرز کی درست معلومات فراہم نہ کرنے، مطلوبہ فیکلٹی کی سہولیات نہ ہونے اور زیر تعلیم طلباء کی ڈگریاں بروقت مکمل نہ کرانے پر ایچ ای سی نے یہ کارروائی کی ہے۔

ایچ ای سی نے حکم جاری کیا ہے کہ یونیورسٹی کے 27 شعبہ جات میں پی ایچ ڈی ڈگریوں اور 33 ایم فل ڈگریوں میں مزید داخلے کرنے کی اجازت نہیں ہو گی جب تک زیر تعلیم سکالرز کی ڈگریاں کلیئر نہیں کی جاتیں۔

پنجاب یونیورسٹی کے 55 پی ایچ ڈی پروگرامز میں 2090 سکالرز جبکہ یونیورسٹی کے ایم فل ایم ایس کے 69 پروگرامز میں 5598 سکالرز زیر تعلیم ہیں ان تمام ڈگریوں کو مکمل کرنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔

ایچ ای سی نے اپلائیڈ ہائیڈرولوجی، اپلائیڈ سائیکالوجی، عربی، آرکیالوجی، آرٹس اینڈ ڈیزائن، کیمسٹری، اکنامکس، ایجوکیشن، ایجوکیشن پالیسی اینڈ ڈویلپمنٹ میں داخلے روکے گئے ہیں.

اینٹومالوجی، اینوائرنمنٹل سائنسز، فوڈ سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی، جینڈر سٹڈیز، جیالوجی، جیومیٹریکس، جیغرافیکل انفارمیشن سسٹم، ہیلتھ ایڈمنسٹریشن، ہائی انرجی فزکس، ہسٹری، ہارٹیکلچر، ہیومن ریسورس مینجمنٹ، انٹرنیشنل ریلیشنز، اسلامیات، مینجمنٹ، مالیکیولر بائیولوجی، پاکستان اسٹڈیز، فلاسفی میں داخلے بند کر دیے گئے ہیں۔

ایچ ای سی نے پنجاب یونیورسٹی میں فارسی، پلانٹ پتھالوجی، پولیٹیکل سائنس، پولیمر ٹیکنالوجی، پبلک ایڈمنسٹریشن، پبلک ہیلتھ، سوشل ورک، سوشیالوجی، پتھالوجی، شماریات، اُردو، زوالوجی اور کوالٹی مینجمنٹ میں ایم فل اور پی ایچ ڈی میں داخلے بند کر دیے گئے ہیں۔

ہائیر ایجوکیشن کمیشن نے اپنی اس رپورٹ میں نشاندہی کی ہے کہ پی ایچ ڈی اور ایم فل ڈگری شروع کرنے کے لیے کم از کم تین پی ایچ ڈی اساتذہ کا فیکلٹی میں شامل ہونا لازمی ہے۔ یونیورسٹی کے بعض شعبہ جات میں اساتذہ کی مطلوبہ تعداد ہی موجود نہیں ہے جبکہ طلباء اور اساتذہ کے شرح تناسب بھی معیار کے مطابق نہیں ہے۔

ایچ ای سی کی اس رپورٹ پر پنجاب یونیورسٹی انتظامیہ نے اعلیٰ سطحی اجلاس طلب کیا ہے اور پی ایچ ڈی و ایم فل ڈگریوں سے متعلق رپورٹ کا جائزہ لیا جائے گا۔