انکل سرگم"فاروق قیصر " انتقال کرگئے

انکل سرگم
سورس:   file photo

لاہور، بچوں بڑوں سب کے انکل یعنی انکل سرگم انتقال کرگئے ۔ انکل سرگم کا اصل نام فاروق قیصر تھا اور وہ دل کے عارضے میں مبتلا تھے ۔ 

تفصیلات کے مطابق 75 سالہ فاروق قیصر عارضہ قلب میں مبتلا تھے  گذشتہ روز  اچانک ان کی طبعیت خراب ہوگئی ان کو ہسپتال لے جایا گیا لیکن وہ جانبر نہ ہوسکے ۔ فاروق قیصرالمعروف انکل سرگم  31 اکتوبر 1945 کو لاہور میں پیدا ہوئے ۔ نیشنل کالج آف آرٹس سے  بی اے کیا ۔ جس کے بعد انہوں نے رومانیہ سے گرافکس آرٹس میں ماسٹر کیا ۔انکل سرگم نے امریکا سے ماس کمینویکشن کی ڈگری بھی حاصل کی ۔

ستر کی دہائی کے اوائل میں ان کی ٹیچر سلیمہ ہاشمی نے ان کو اپنے سپرہٹ ٹی وی شو "اکڑ بکڑ " میں اپنے ساتھ اسسٹنٹ کے طور پر رکھ لیا ۔  اس شو کی بدولت ان کو شعیب ہاشمی ، منیزہ ہاشمی اور فیض احمد فیض جیسے بڑے لوگوں کے ساتھ کام کرنے او ر سیکھنے کا موقع ملا ۔ 

سال 1976 میں انہوں نے پاکستان ٹیلی ویژن پر " کلیاں " کے نام سے پپٹ شو کیا جس کو پاکستان بھر میں بے حد مقبولیت ملی  اس شو میں ان کا فن نکھر کر سامنے آیا ان کو ہلکے پھلکے انداز میں انتہائی سنجیدہ بات کرنے میں ملکہ حاصل تھا ۔ اس شو میں انہوں نے انکل سرگم کا پپٹ رومانیہ  میں دوران تعلیم ملنے والے اپنے استاد موہن لال جیسا بنایا تھا ۔ اسی شو میں ہے گا ہے گا اور ماسی مصیبتے کے کرداروں  کو بھی بے حد شہرت ملی تھی ۔ 

پاکستان ٹیلی ویژن کے معروف پپٹ شو کلیاں پر انکل سرگم کو معاشرے کی خامیوں پر تنقید اوران کے حل بتانے کا بھرپور موقع ملا ۔ ان کی اس صلاحیت کی وجہ سے ان کا ملک کے دانشوروں میں شمار ہوتا تھا ۔ انہیں اعلی فنی خدمات پر  1993ء میں صدارتی ایوارڈ سے نوازا گیا۔

تین بچوں کے والد انکل سرگم ویسے تو کالم نگارتھے جو اخبارات میں " میٹھے کریلے " کے نام سے کالم لکھا کرتے تھے لیکن وہ بہت اچھے کارٹونسٹ بھی تھے  اور اکثر اپنے ہاتھ سے کارٹون بنایا کرتے تھے جو مختلف اخبارات میں چھپا کرتے تھے ۔  

پاکستان آج ایک عہد ساز شخصیت سے محروم ہوگیا ہے لیکن ان کی تحریریں اور ان کے ہلکے پھلکے مزاح میں اصلاحی پہلو پر عملدرآمد ہم سب  کو بہتر فیصلے کرنے میں معاون ثابت ہوسکتا ہے ۔