پاناما لیکس کیس میں وزیر اعظم کے خلاف شواہد سپریم کورٹ میں جمع

اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی)کے چیئرمین عمران خان نے پاناما لیکس کیس کےحوالے سے وزیر اعظم نواز شریف اور ان کے خاندان کے دیگر افراد کے خلاف دستاویزی شواہد نعیم بخاری ایڈوکیٹ کے توسط سےسپریم کورٹ میں جمع کرادیے۔ عمران خان نے دستاویزی شواہد (پیپر بُکس) نعیم بخاری ایڈوکیٹ کے توسط سے سپریم کورٹ میں جمع کرائے جو 686 صفحات پر مشتمل ہیں۔

واضح رہے کہ پاناما لیکس کیس کی اگلی سماعت منگل 15 نومبر کو ہوگی جو چیف جسٹس کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا لارجر بینچ کررہا ہے اور یہ اس کیس کی چوتھی سماعت ہوگی۔عمران خان کے وکیل نعیم بخاری نے ثبوتوں کی پیپر بُکس کی پانچ کاپیاں بھی بنوائی ہیں جبکہ اضافی دستاویزات میں مختلف بینک اکاؤنٹس کی تفصیلات، قرضہ معاف کرانے کی تفصیل سمیت اہم شواہد شامل ہیں۔

پیپر بُکس میں صحافی اسد کھرل کی کتاب کو بھی حصہ بنایا گیا ہے جس میں انہوں نے وزیر اعظم نواز شریف کے حوالے سے کئی انکشافات کیے تھے۔

دستاویز کے مطابق شریف خاندان نے 1988 سے 1991 تک 5 کروڑ 60 لاکھ روپے ہنڈی کے ذریعے بیرون ملک منتقل کیے۔یہ بھی بتایا گیا ہے کہ شریف خاندان نے 14 کروڑ 50 لاکھ روپے منی لانڈرنگ کے ذریعے بیرون ملک منتقل کیے جبکہ نوازشریف نے اس دوران صرف 897 روپے انکم ٹیکس اداکیا۔

دستاویز کے مطابق بیرون ملک بھجوائی گئی رقم کا ٹیکس گوشواروں میں ذکر نہیں کیا گیا، نوازشریف کے کاروباری شراکت دار خالد سراج نے منی لانڈرنگ سے پردہ اٹھایا۔

جمع کرائے جانے والے شواہد میں شریف خاندان کے قرض معاف کرانے سے متعلق دستاویزات بھی منسلک ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ شریف خاندان کے ذمے 6 ارب 14 کروڑ 60 لاکھ روپے کے بینک قرضہ جات ہیں۔دستاویز میں یہ بھی بتایا گیا کہ جب نوازشریف وزیر اعلیٰ پنجاب تھے تو اس دور میں شریف خاندان کی انڈسٹریز نے تیزی سے ترقی کی۔