پاکستان ذیابیطس کے مریضوں کا ساتواں بڑا ملک قرار ، عالمی ادارہ صحت

لاہور : آج دنیا بھر میں   ذیابیطس سے آگاہی کا دن منایا جارہا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کی رپورٹ کے  مطابق پاکستان کی آبادی کا 10 فیصد حصہ ذیابیطیس یا شوگر کے مرض میں مبتلا ہے۔

ذیابیطس کا عالمی دن منانے کا مقصد اس مرض کی علامات ، مرض سےہونے والی پیچیدگیوں اور اس سے بچاؤ کے متعلق آگاہی فراہم کرنا ہے۔ پاکستان  کا شمار ان ممالک میں ساتویں نمبر پر ہوتا ہے جہاں   ذیابیطس کے مریضوں کی شرح تشویش ناک حد تک  زیادہ ہے جبکہ سنہ 2030 تک یہ چوتھا بڑا ملک بن جائے گا۔ ذیابیطس کے شکار افراد امراض قلب اور فالج کا آسان ہدف ہوتے ہیں جو ان کی موت کا باعث بنتے ہیں۔

ذیابیطس کی علامات اور وجوہات
ذیابیطس کی کئی علامات ہیں جن میں پیشاب کا بار بار آنا، وزن کا گھٹنا، بار بار بھوک لگنا، پاؤں میں جلن اور سن ہونا شامل ہیں۔ ذیابیطس دل، خون کی نالیوں، گردوں، آنکھوں، اعصاب اور دیگر اعضا کو متاثر کر سکتا ہے۔ ذیابیطس کی اہم وجہ غیر متحرک طرز زندگی اور غیر صحت مند غذائی عادات ہیں۔

ایک تحقیق کے مطابق ایسے افراد جن میں ذیابیطس کا مرض ابتدائی مراحل میں ہو یا جن افراد میں ذیابیطس کی علامات پائی جائیں وہ اگر اپنے معمول سے صرف 20 منٹ زیادہ روزانہ پیدل چلیں تو ان میں ہارٹ اٹیک کا خطرہ بہت حد تک کم ہو سکتا ہے جبکہ دیگر امراض قلب میں بھی 8 فیصد تک کمی واقع ہوسکتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ذیابیطس کی تشخیص  اگر ابتدائی مراحل میں ہو  جائے تو اس کے علاج اور روک تھام میں آسانی ہوسکتی ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ ذیابیطس کی ابتدائی علامات کے بارے میں سب کو معلومات فراہم کی جائیں۔