پنجاب یونیورسٹی سوشل ورک ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ کی تعیناتی کیخلاف درخواست پر وائس چانسلر اور رجسٹرار سے جواب طلب

لاہور: لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب یونیورسٹی سوشل ورک ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ ڈاکٹر زاہد جاوید کی تعیناتی کیخلاف دائر درخواست پر پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر اور رجسٹرار سے جواب طلب کر لیا۔ گزشتہ روز لاہور ہائیکورٹ کی جسٹس عائشہ اے ملک نے کیس کی سماعت کی ۔

درخواست گزار شہری منیر احمد کی کے وکیل اظہر صدیق ایڈووکیٹ نے موقف اختیار کیا کہ ڈاکٹر زاہد جاوید کو غیرقانونی طور پر ایسوسی ایٹ پروفیسر بنایا گیا ،ڈاکٹر زاہد جاوید کے مقالہ جات جعلی ہیں۔ پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹرمجاہد کامران نے غیرقانونی طور پر ڈاکٹر زاہد کو سوشل ورک ڈیپارٹمنٹ کا سربراہ لگایاجبکہ سپریم کورٹ ڈاکٹر زاہد جاوید کی ایسوسی ایٹ پروفیسرشپ کو غلط قرار دے چکی ہے تاہم سپریم کورٹ کے فیصلے کے باوجود ڈاکٹر زاہد سوشل ورک ڈیپارٹمنٹ میں تعینات ہیں لہٰذا عدالت سے ستدعا ہے کہ سوشل ورک ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ ڈاکٹر زاہد جاوید کی تعیناتی کالعدم قرار دے کر انکو عہدے سے ہٹایا جائے اورڈاکٹر زاہد جاوید کی ایسوسی ایٹ پروفیسرشپ بھی کالعدم کی جائے۔

فاضل عدالت نے درخواست گزار کا موقف سننے کے بعد پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر اور رجسٹرار سے تین ہفتوں میں جواب طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی