'شہید بینظیر آباد میں 600 گاﺅں،دیہاتوں کو ”اوپن ڈیفیکشن فری“ بنانے جا رہے ہیں'

'شہید بینظیر آباد میں 600 گاﺅں،دیہاتوں کو ”اوپن ڈیفیکشن فری“ بنانے جا رہے ہیں'
خصوصی نیوٹریشن اسٹیبلائزیشن سینٹر کا قیام عمل میں لایا جائے گا، شوکت سیٹھیو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فوٹو/ اسکرین گریب

شہید بینظیر آباد: ڈپٹی کمشنر آفس ڈسٹرکٹ شہید بینظیر آباد میں ایکسیلیریٹڈ ایکشن پلان(ایپ)، سندھ کے تحت پہلی اہم نیوٹریشن میٹنگ کا انعقاد ہوا۔ میٹنگ کا بنیادی مقصد ضلعے میں ماں بچے کی صحت ، ”اسٹنٹنگ“ ”واسٹنگ“ متعلقہ حکومتی اور نجی اداروں کے مابین روابط اور حکمت عملی کو زیر غور لانا تھا ۔ ایپ ٹاسک فورس کی جانب سے MNE اسپیشلسٹ ، شوکت سیٹھیو نے شرکاء کو ایکسیلیریٹڈ ایکشن پلان کے بارے میں مکمل آگاہی فراہم کی۔ ایپ پروگرام کے تحت کئیے جانے والے کاموں پر بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ 600 گاﺅں، دیہاتوں کو اوپن ڈیفیکشن فری بنانے کا عزم کر رکھا ہے اور صحت مراکز میں 51 Outpatient Therapeutic Program (OTP) اور خصوصی نیوٹریشن اسٹیبلائزیشن سینٹر کا قیام عمل میں لایا جائے گا جس سے غذائی قلت کا شکار بچوں کو معیاری علاج معالجے کی سہولتیں فراہم کرنے میں مدد ملے گی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ایگریکلچر کے حوالے سے ضلع میں کچن گارڈنز اور فارمر فیلڈ اسکول بنائے جائیں گے۔ فیملی ہیلتھ میلوں کا انعقاد پاپولیشن ویلفیر پر مبنی مقاصد کے حصول لیے اہم ہے جبکہ اسکولوں میں اساتذہ کی نیوٹریشن لٹریچر ز پر ” تربیت“ نئی نسل کی صحتمندانہ زندگی کا ضامن بنے گی۔ شوکت سیٹھیو نے آئندہ سالوں میں ” 50 فش پونڈز “ بنائے جانے کے بارے میں بھی میٹنگ میں موجود نمائندگان کو آگاہ کیا۔


شہید بینظیر آباد کے عوام کی فلاح وبہبود کے امور پر بات کرتے ہوئے ڈپٹی کوآرڈینیٹر لائیو اسٹاک ، ڈاکٹر سید امتیاز شاہ کا کہنا تھا کہ مستحقین میں 5 بکریاں اور 10 مرغیاں تقسیم جبکہ 5500 گھروں میں موجود لائیو اسٹاک کو ویکسین کرنے کا پروگرام لائحہ عمل کا حصہ ہے۔

ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن آفیسر ایپ کاشف شمیم صدیقی سے خصوصی بات چیت کے دوران ڈپٹی کمشنر شہید بے نظیرآباد ابرار احمد جعفر کا کہنا تھا کہ نیشنل نیوٹریشن سروے 2018 کے اعداد وشمار کے مطابق ضلعے میں میل نیوٹریشن کی صورتحال گمبھیر اور توجہ طلب ہے ایپ کا وژن اور مشن قابل قدر ہے بالخصوص ہیلتھ، ایجوکیشن، ایگریکلچر ، لوکل گورنمنٹ اور لائیو اسٹاک جیسے اہم اداروں کی پروگرام میں شمولیت اسے بہت خاص بنائے ہوئے ہے تاہم ایپ اگر اپنی ابتدا میں ہی ضلع میں آ جاتا تو بہت اچھا ہوتا۔ ابرار جعفر نے حکومتی اداروں کے ساتھ این جی اوز کے روابط اور اشتراک کو عوامی خوشحالی کے ضمن میں اہم قرار دیا ۔ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنید سموں نے بھی پروگرام کی تعریف کرتے ہوئے ملِ جُل کر باہمی اتحاد ویگانت سے کام کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔