فیصل آباد: پاکستان کے تیسرے بڑے شہر فیصل آباد میں پی ٹی آئی ٹوٹ پھوٹ کا شکار , مرکز میں قائم ہونے والے دھڑوں کی گونج ضلعی سطح پر بھی سنا ئی دینے لگی, سا بق ایم پی اے کو سٹی صدر بنا ئے جا نے کے بعد اختلافات کھل کر سا منے آ گئے, فیصل آباد میں شاہ محمود قریشی گروپ مضبوط  ہے جبکہ جہانگیر ترین گروپ کو نیچا دکھا نے کی کوشش کی جا رہی ہے اور  پی ٹی آئی کے ان ا ختلافات کا بھر پور فا ئدہ پیپلز پارٹی الیکشن 2018میں اٹھا ئے گی۔

تفصیل کے مطا بق فیصل آباد میں مسلم لیگ نون کے بعد پی ٹی آئی بھی تقسیم ہو گئی، دونوں دھڑے کھل کر آمنے سا منے آ گئے، پی ٹی آئی ذرائع نے بتا یا کہ وائس چیئر مین شاہ محمود قریشی گروپ کے سا بق ایم پی اے ڈا کٹر اسد معظم کی بطور سٹی صدر نامزدگی کے بعدجنرل سیکریٹری جہانگیر ترین گروپ کے فیض اللہ کمبوہ کا گروپ کھل کر سا منے آ گیا ہے، پی ٹی آئی کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی اور نامزد سٹی صدر ڈا کٹر اسد معظم کا تعلق پیپلز پارٹی سے تھا دونوں نے ایک ساتھ پیپلز پارٹی چھوڑ کر پی ٹی آئی جوائن کی تھی۔

فیصل آباد میں دونوں دھڑوں میں شدید اختلافات کی وجہ سے این اے 83میں پیپلز پارٹی الیکشن 2018میں بھرپور فا ئدہ اٹھا ئے گی، دونوں دھڑوں کے سربراہان کا آبا ئی حلقہ این اے 83 ہے، دونوں اسی حلقہ سے ایم این اے کے امیدوار ہیں۔

مصنف کے بارے میں