چھٹی کے روز بھی سپریم کورٹ لاہو ررجسٹری میں چیف جسٹس نے عدالت لگائی

چھٹی کے روز بھی سپریم کورٹ لاہو ررجسٹری میں چیف جسٹس نے عدالت لگائی
فائل فوٹو

لاہور:چھٹی کے روز بھی سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں چیف جسٹس پاکستان نے کیسز کی سماعت کی اورمقابلے کا تحریری امتحان پاس کرنے والی نابینا لڑکی کو نوکری کا حکم دیا۔پٹرول پمپ سیل ہونے کے معاملے پر سپریم کورٹ نے ملازمین سے متعلق رپورٹ پیش کرنے کاحکم دیا جبکہ چیف جسٹس پاکستان نے محکمہ اوقاف کے فرانزک آڈٹ کاحکم دیتے ہوئے رپورٹ کو مسترد کردیا۔


تفصیلات کے مطابق آج اتوار چھٹی کے روز بھی چیف جسٹس پوری طرح سرگرم رہے اور سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں مختلف کیسز کی سماعت کی ۔ اس موقع پر چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے کہ تحریری امتحان پاس کرنے والی نابینا لڑکی کو نوکری دینا ہماری ذمہ داری ہے۔سیکرٹری پبلک سروس کمیشن سپریم کورٹ میں پیش ہوئے اور عدالت کے سامنے موقف اختیار کیا کہ نابینا لڑکی حجاب قدیر نے امتحان پاس کیا لیکن اسے انٹرویو میں فیل کر دیا گیا۔

جسٹس ثاقب نثار نے حکم دیا کہ حجاب قدیر کے معاملے کا جائزہ لے کر اگلے ہفتے رپورٹ پیش کی جائے کیونکہ نابینا لڑکی نے تحریری امتحان پاس کیا ہے تو اسے رکھنا بھی چاہیے۔

جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ تحریری امتحان کے 100 نمبرز کے بعد انٹرویو کے 100 نمبر کیسے رکھے جاسکتے ہیں؟ انٹرویو کے اتنے نمبرز اس لیے رکھے جاتے ہیں کہ تاکہ اپنے لوگوں کو رکھا جا سکے۔چیف جسٹس نے کہا کہ ایک نابینا لڑکی نے تحریری امتحان پاس کیا ہے اس لیے اب اس کو نوکری دینا بھی ذمہ داری بنتی ہے۔

پٹرول پمپ سیل ہونے کا معاملہ

پٹرول پمپ سیل کرنے سے ملازمین کے روزگار اور ممکنہ طورپر تنخواہ نہ ملنے کے کیس کی سماعت میں سپریم کورٹ نے ملازمین سے متعلق رپورٹ پیش کرنے حکم دیتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ کسی کی ایک دن،ایک مہینے اورایک گھنٹے کی تنخواہ بھی نہیں رکے گی۔پٹرول پمپ سیل کرنے سے ملازمین کے روزگار اور ممکنہ طورپر تنخواہ نہ ملنے کے کیس کی سماعت چیف جسٹس میاں محمد ثاقب نثار نے سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں کی۔

اس موقع پر ملازمین کی جانب سے موقف اپنایا گیا کہ پٹرول پمپ سیل ہونے سے ہماری روزی روٹی بندہوجائے گی،عدالت سے استدعا ہے کہ پٹرول پمپ سیل کرنے کا حکم واپس لے۔جس پر چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے کہ آپ کی روزی روٹی کا کوئی بندوبست کرتے ہیں،کسی کی ایک دن،ایک مہینے اورایک گھنٹے کی تنخواہ بھی نہیں رکے گی،پٹرول پمپ کی نیلامی کی تاریخ سے آگاہ کیا جائے۔سپریم کورٹ نے تمام ملازمین کی لسٹ بنانے کاحکم دیتے ہوئے کیس کی مزیدسماعت ملتوی کر دی۔

محکمہ اوقاف کے فرانزک آڈٹ کاحکم

مزاروں میں جمع ہونیوالے چندے کے استعمال کے نوٹس کی سماعت میں چیف جسٹس ثاقب نثارنے محکمہ اوقاف کے فرانزک آڈٹ کاحکم دیتے ہوئے محکمہ اوقاف کی رپورٹ مستردکردی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق مزاروں میں جمع ہونیوالے چندے کے استعمال کے نوٹس پر سماعت چیف جسٹس ثاقب نثار نے سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں کی۔

اس موقع پر سرکاری وکیل نے موقف اپنایا کہ2018 میں مزاروں سے 80 کروڑروپے جمع ہوئے۔ چیف جسٹس ثاقب نثارنے ریمارکس دیئے کہ زائرین اپنی حلال کی کمائی دےکرجاتے ہیں،آپ نے بندربانٹ لگارکھی ہے، یہ پیسہ زائرین کی بہترسہولتوں کیلئے استعمال ہوناچاہئے۔

چیف جسٹس نے ڈی جی اوقاف سے استفسار کیا آخری بارکب داتادربارگئے اورکیااقدامات کیے؟جس پر ڈی جی اوقاف کا کہنا تھا کہ 6 دن پہلے گیاہوں،وہاں معاملات بہترہورہے ہیں۔سپریم کورٹ نے محکمہ اوقاف کے فرانزک آڈٹ کاحکم دیتے ہوئے محکمہ اوقاف کی رپورٹ مستردکردی۔