پنڈورا پیپرز… ایک نیا پنڈورا باکس!

پنڈورا پیپرز… ایک نیا پنڈورا باکس!

چار سال قبل پانامہ پیپرز کے نام سے سامنے آنے والے آف شور بزنس کے ایک بڑے سکینڈل کے بعد اب پنڈورا پیپرز کے نام سے ایک اور بڑا سکینڈل یا پنڈورا باکس سامنے آیا ہے ۔ جس کے بارے میں تبصرے ، تجزیے اور جائزے پرنٹ، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا میں ہر سطح پر سامنے آ رہے ہیں۔ پاناما پیپرز یا پاناما لیکس میں 400پاکستانیوں کے نام تھے تو پنڈورا پیپرز میں 700پاکستانیوں کے نام ہیں جن میں وفاقی کابینہ کے بعض ارکان یا ان کے اہلِ خانہ ، سیاستدانوں، ارکانِ پارلیمنٹ اور ان کے یمین و یسار اور ریٹائرڈ اور سول اور فوجی افسران کے ساتھ بعض ارب پتی سرمایہ داروں اور اُن کے خاندان کے افراد کے نام شامل ہیں۔ پنڈورا پیپرز کا سیکنڈل انٹرنیشنل کنسورشیم آف انویسٹی گیٹیو جرنلسٹ  (ICIA) سے تعلق رکھنے والے 600 صحافیوں کی تحقیق کے نتیجے میں سامنے آیا ہے۔ ICIAکے مطابق یہ تحقیق 14آف شور فرمز کی 1کروڑ19لاکھ خفیہ فائلوں سے افشا (لیک) کی گئی ہے۔ 

چار سال قبل پانامہ پیپرز کا سکینڈل سامنے آیا تھا تو دُنیا کے کئی ممالک بالخصوص پاکستان میں آف شور کمپنیوں کا تذکرہ پہلی بار سننے کو ملا۔ آف شور کمپنیاں زیادہ تر برٹش آئی ورجن آئی لینڈ یا پانامہ جیسی چھوٹی ریاستوں میں رجسٹرڈ کرائی جاتی ہیں اور ان کے ذریعے کئی طرح کے کاروبار میں اس انداز سے سرمایہ کاری کی جاتی ہے جس سے زیادہ سے زیادہ ٹیکس بچایا جا سکے۔ ضروری نہیں کہ آف شور کمپنیوں کا قیام اور ان کے ذریعے سرمایہ کاری مکمل طور پر غیر قانونی ہو۔ یہ کاروبار  قانونی بھی ہو سکتا ہے۔ امریکہ ، برطانیہ اور دوسرے کئی مغربی ممالک میں ٹیکس چھپانا یا ٹیکس ادا کرنے سے گریز کرنا جرم ہے۔ جبکہ ٹیکس بچانا اس طرح کا جرم نہیں سمجھا جاتا۔ چونکہ آف شور کمپنیوں کے ذریعے سرمایہ کاری سے ٹیکس بچانا مقصود ہوتا ہے اس لیے اسے بعض اوقات اتنا معیوب نہیں سمجھا جاتا۔ تاہم آف شور کمپنیوں کے ذریعے سرمایہ کاری میں ایسے افراد ، فرمیں  یا کمپنیاں زیادہ دلچسپی لیتی ہیں جو ان کے ذریعے منی لانڈرنگ، ٹیکس چوری یا دوسرے غیر قانونی ذرائع سے حاصل کردہ سرمائے جسے بلیک منی بھی کہا جاتا ہے کو قانونی اور جائز سرمایہ بنانا چاہتی ہیں۔ یا ان کے ذریعے سمگلنگ، منشیات اور کسی دوسرے خفیہ کاروبار سے کمائے ہوئے سرمائے کو قانونی اور جائز سرمایہ بنانے کی سبیل نکالی جاتی ہے۔ اس لیے آف شور کمپنیوں کے ذریعے سرمایہ کاری پر اب زیادہ اعتراضات سامنے آنے لگے ہیں۔ 

خیر یہ معاملات اپنی جگہ اہم ضرور ہیں لیکن ہمارے حوالے سے ان کی شائد اتنی اہمیت نہیں۔ ہمارے لیے اہم ترین بات یہ ہے کہ پانامہ پیپرز کا معاملہ سامنے آیا تو ہم نے اسے کتنی اہمیت دی۔ پارلیمان کے ایوانوں سے لے کر ملک کی اعلیٰ ترین عدالت سپریم کورٹ تک اور پبلک پلیٹ فارمز سے لے کر الیکٹرانک، پرنٹ اور سوشل میڈیا میں یہ غلغلہ اور شور شرابا کیا گیا۔ کہ پانامہ پیپرز میں شامل 400پاکستانیوں جن میں سابق وزیرِ اعظم جناب میاں محمد نواز شریف کے بیٹوں کے نام نمایاں تھے کا ضرور احتساب ہونا چاہیے اور ان سے آف شور کمپنیوں کے ذریعے سرمایہ کاری کے حوالے سے منی ٹریل (مالی معاملات) کی تفصیل پوچھی جانی چاہیے۔  اب پنڈورا پیپرز کا سکینڈل سامنے آیا ہے  جس میں 700پاکستانیوں کے ناموں میں وزیرِ اعظم جناب عمران خان کی کابینہ کے کچھ ارکان ، سیاستدانوں اور اہم اور ذمہ دار عہدوں سے ریٹائرڈ  اعلیٰ سول اور فوجی افسران کے نام شامل ہیں تو  دیکھنا ہوگا کہ اس کو کتنی اہمیت دی جار ہی ہے۔ وزیرِ اعظم جناب عمران خان نے اس حوالے سے کس نہج کے احتساب کا فیصلہ کیا ہے اور کس ادارے کو یہ احتساب یا پنڈورا پیپرز میں شامل اپنے قریبی ساتھیوں کے مالی معاملات کو جانچنے کی ذمہ داری سونپی ہے۔ یقینا ان پہلوؤں کے جائزے سے ہمیں کئی چشم کشا حقائق تک رسائی حاصل ہو سکتی ہے۔ بلا شبہ چار سال قبل پانامہ پیپرز کا سکینڈل سامنے آیا تو اس پر خوب شور مچایا گیا۔ مقصد شاید اُس وقت کے وزیرِ اعظم میاں محمد نواز شریف کو منظر سے ہٹانا یا سزا دینا مطلوب تھا۔ 

پانامہ پیپرز میں وزیرِ اعظم محمد نواز شریف کا اپنا نام شامل نہیں تھا ۔ چار سو پاکستانیوں میں ان کے بیٹوں حسین نواز اور حسن نواز کے نام شامل تھے جنہوں نے برٹش آئی ورجن آئی لینڈ (پانامہ ) میں آف شور کمپنیوں کی ملکیت حاصل کرکے ان کے ذریعے لندن میں سرمایہ کاری کر رکھی تھی ۔ کہا یہ گیا کہ آف شور کمپنیوں کے ذریعے لند ن میں پارک لین کے اپارٹمنٹس اور دیگر جائیدادیں خریدنے کے لیے منی لانڈرنگ یا دوسرے غیر قانونی ذرائع سے حاصل کردہ سرمایہ استعمال کیا گیا لہٰذا میاں محمد نواز شریف کو اس کا جواب دینا ہوگا یا منی ٹریل پیش کرنا ہو گی۔ معاملے کو اس طرح آگے بڑھایا گیا کہ میاں محمد نواز شریف اور ان کے گھرانے کے افراد کے لیے بتدریج یہ ایک مشکل اور پیچیدہ مسئلہ بن گیا۔ پارلیمنٹ میں وزیرِ اعظم کے احتساب کے لیے آوازیں بلند ہوئیں۔ میڈیا نے بھی اس میں اپنا حصہ ڈالا۔ معاملہ ملک کی اعلیٰ ترین عدالت سپریم کورٹ میں لے جایا گیا۔ 

میاں محمد نواز شریف سے دشمنی کی حد تک نفرت کرنے والے موجودہ وزیرِ اعظم عمران خان ، ان کے اتحادی موجودہ وزیر داخلہ شیخ رشید احمد اور مفت کے شہیدوں میں نام لکھوانے کے خواہشمند جناب سراج الحق نے سپریم کورٹ میں میاں محمد نواز شریف کے خلاف درخواستیں دائر کیں۔ سپریم کورٹ کے پانچ رکنی لارجر بنچ کے سربراہ ریٹائرڈ جسٹس آصف سعید کھوسہ (جو بعد میں چیف جسٹس کے عہدے پر فائزہوئے) سمیت دو فاضل ججز نے وزیرِ اعظم میاں محمد نواز شریف کو نا اہل قرار دینے کا اختلافی نوٹ ہی نہ لکھا بلکہ اپنے اختلافی نوٹ میں امریکی ناول نگار "ماریو پوزو" کے ناول گارڈ فادر اور فرانسیسی ناول نگار"بالزاک" کے حوالے دے کر میاں محمد نواز شریف کو گارڈ فادر سے ہی نہ ملایا بلکہ ان کی طرف اشارہ کرکے یہ کہنا بھی ضروری سمجھا  کہ ہر خوش بختی  (دولت مندی) کے پیچھے کوئی جرم ہوتا ہے۔ یقینا یہ انتہائی غصے اور انا پرستی کا اظہار تھا جس کی مثالیں ہماری اعلیٰ عدلیہ کے فیصلوں میں کم ہی ملتی ہیں۔ بات یہی پر ختم نہ ہوئی ۔ لارجر بینچ کے تین  دوکی اکثریت سے دیئے گئے فیصلے کے مطابق ایف آئی ائے کے اس وقت کے ایڈیشنل ڈائریکٹر واجد ضیا کی سربراہی میں میاں محمد نواز شریف اور ان کے بیٹوں کے مالی معاملات (منی ٹریل) کی مزید تحقیق و تفتیش کے لیے ایک جے آئی ٹی کا قیام بھی عمل میں لایا گیا جس کے ارکان کے چناؤ میں ہی سپریم کورٹ کا نام استعمال نہ ہوا بلکہ جی آئی ٹی کی کارروائی (Proceeding)کی نگرانی اور پیش رفت کے لیے سپریم کورٹ کے ایک فاضل جج جناب جسٹس اعجاز الاحسن کو نگران جج بھی مقرر کیا گیا ساتھ ہی جے آئی ٹی کو نوے دنوں کے اندر اپنی تحقیق و تفتیش مکمل کرنے کا پابند بھی کیا گیا۔ جے آئی ٹی نے اپنی رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش کی جس میں میاں محمد نواز شریف کو براہ راست منی لانڈرنگ یا کسی بدعنوانی کا مرتکب تو نہ قرار دیا گیا لیکن سپریم کورٹ کے لارجر بنچ نے انہیں اپنے بیٹے کی کمپنی کا اقامہ رکھنے کی پاداش میں نہ صرف وزارتِ عظمیٰ کے نا اہل قرار دے دیا بلکہ صادق و امین نہ گردانتے ہوئے تاحیات سیاست میں حصہ لیتے ہوئے یا کسی عوامی عہدے پر فائز ہونے کے لئے بھی نااہل قرار دے دیا۔ 

میاں محمد نواز شریف کے صاحبزادگان کے علاوہ پانامہ پیپرز میں شامل 400کے لگ بھگ پاکستانیوں کے مالی معاملات کا کیا ہوا؟ ان کی منی ٹریل کے بارے میں کوئی سوال اُٹھا؟ سپریم کورٹ میں کوئی کیس چلا؟ سپریم کورٹ کے حکم پر کوئی جے آئی ٹی بنی؟ کسی کو بدعنوان ، کسی کو صادق و امین نہ ہونے کی بنا پر نا اہل یا سیاست میں حصہ لینے پر تاحیات پابندی وغیرہ کیا ایسا کچھ ہوا؟ قطعاً نہیں ۔ باقی پاکستانیوں کے معاملات کا کہیں نام تک بھی نہیں آیا اور اب لگتا ہے کہ پنڈورا پیپرز میں شامل 700پاکستانیوں جن میں مقتدر حلقوں سے تعلق رکھنے والے صاحبانِ اقتدار و اختیار کے نام بھی شامل ہیں ان کے بارے میں بھی یقیناً ایسا ہی ہوگا کہ وزیرِ اعظم جناب عمران خان نے بقائمی ہوش وحواس اور پوری ذمہ داری کے ساتھ اپنے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے ان کے معاملات کی تحقیق و تفتیش اور ان کی منی ٹریل اور ان کی آف شور کمپنیوں کے ذریعے سرمایہ کاری کا جائزہ لینے اور انہیں قصور وار یا پاک باک قرار دینے کی ذمہ داری اپنے ماتحت اور نگرانی میں قائم وزیرِ اعظم انسپکشن سیل کو سونپ دی ہے۔ اس کا کیا نتیجہ سامنے آتا ہے فی الحال یہی کہا جا سکتا ہے۔

 جو چاہے آپکا حسن کرشمہ ساز کرے