عدم استحکام اور عدم اعتماد

عدم استحکام اور عدم اعتماد

کامران ٹیسوری کو ایم کیو ایم کے کوٹے سے گورنر سندھ بنانے کے اقدام سے ایسی تمام غلط فہمیوں کا خاتمہ ہوگیا کہ فیصلہ ساز قوتیں سیاسی معاملات سے مداخلت سے گریز کررہی ہیں یا کمزور ہوچکی ہیں۔ ہائبرڈ نظام جہاں ملک کے لیے اندرونی اور بیرونی محاذوں پر تباہ کن ثابت ہوا۔ بلدیاتی نظام میں اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی کے نعرے میں تو حقیقت کا رنگ نہیں بھر سکا مگر غیر سیاسی قوتوں نے تقریباً ہر شعبے میں اوپر سے نیچے تک پر پھیلا لیے ہیں۔ یہ حالات کا جبر ہے مگر کیا کریں آگے کا راستہ بنانا ہے اور ظاہر ہے بہت محتاط رہ کر۔ یہ تاثر بھی غیر حقیقی ہے کہ عمران خان اسٹیبلشمنٹ کے خلاف کوئی بہت بڑی تحریک چلا رہے ہیں جو انقلاب برپا کردے گی۔ سچ تو یہ ہے کہ عمران خان سمیت پوری پی ٹی آئی پورا زور صرف اس مقصد کے لیے لگا رہی ہے کہ اسٹیبلشمنٹ اسے پھر سے گود میں لے کر اقتدار کے جھولے پر بیٹھا دے۔ اس مقصد کے لیے منت ترلے کر کے دو بار آرمی چیف سے ملاقات بھی کی گئی مگر پاک فوج بطور ادارہ مزید فریق بننے پر تیار نہیں۔ صدر عارف علوی کو بیچ میں ڈال کر کی جانے والی ان ملاقاتوں میں آرمی چیف سے یہ استدعا بھی کی گئی کہ وہ ملازمت میں توسیع لے لیں مگر جنرل قمر جاوید باجوہ نے معذرت کرلی۔ بہر حال ان ملاقاتوں پر آرمی چیف کی آمادگی ہی یہ بات ثابت کردیتی ہے کہ تمام تر اشتعال انگیز یوں اور گھناؤنے الزامات کے باوجود پاک فوج اب بھی عمران خان کو ایک نارمل سیاستدان کے طور پر ٹریٹ کررہی ہے بلکہ لوگ تو یہاں تک کہتے ہیں کہ عمران خان کو عدالتوں اور دیگر اداروں سے ملنے والا غیر معمولی ریلیف اسٹیبلشمنٹ کی ہی مہر بانی کے سبب ہے۔ تو پھر اختلاف کہاں ہے؟ عمران خان چاہتے ہیں کہ حکومت میں شامل تمام سیاسی جماعتوں کے خلاف 2018 جیسا آپریشن کرکے انہیں فوری طور پر وزارت عظمیٰ واپس سونپی جائے۔ اسٹیبلشمنٹ کو بالکل جلدی نہیں۔ ادارے کی سطح پر سوچ پائی جاتی ہے کہ عمران خان اور ان کی ٹیم ڈلیور کرنے کی اہلیت نہیں رکھتے۔سیاسی جماعتوں کے اتحاد کا موجودہ سیٹ اپ بگڑے ہوئے معاملات کو آہستہ آہستہ ٹھیک کررہا ہے۔ اس لیے حکومت کو مدت پوری کرنی چاہیے۔ اگلے عام انتخابات اپنے وقت کرانا ہی بہتر ہوگا۔ اس لیے ایسا نہیں لگتا کہ یہ آہ وبکا کوئی رنگ لا سکے گی۔ ادھر مسلم لیگ ن ان حالات کے باوجود سیاسی میدان میں پوری طرح سرگرم ہونے سے ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کررہی ہے۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ لیگی قیادت کو اسٹیبلشمنٹ کی پالیسیوں پر پوری طرح اعتماد نہیں۔ 

عدم اعتماد کی اس فضا میں یہ بھی بڑی بات ہے کہ اسحق ڈار کو لندن سے واپس بھیج دیا گیا ہے۔ وزیر خزانہ کا عہدہ سنبھالتے ہی انہوں نے جو پالیسیاں اختیار کیں اسکے ثمرات توقع سے پہلے سامنے نظر آنا شروع ہوگئے ہیں۔ اگرچہ ان اقدامات سے عام لوگوں کو ریلیف نہیں ملا تاہم ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں بہتری بہت مثبت اثرات مرتب کررہی ہے۔ اس کے ساتھ ملک میں کاروباری سرگرمیاں تیز ہونے کے امکانات بھی پیدا ہورہے ہیں۔ ظاہر ہے پیسے  گردش میں آئیں گے  تو اس سے روزگار کے مواقع میں بھی اضافہ ہوگا۔ اسحق ڈار نے یہ کہہ کر ملکی معاشی صورتحال پر اپنے اعتماد کا اظہار کیا ہے کہ ہم قرضوں کی ری شیڈولنگ کے لیے پیرس کلب سے درخواست نہیں کریں گے۔ ان سطور کے تحریر کیے جانے تک وزیر خزانہ اسحق ڈار عالمی مالیاتی اداروں سے مذاکرات کے لیے امریکہ روانہ ہوگئے ہیں۔ آثار ہیں کہ یہ دورہ کامیاب رہے گا۔ مشکل ترین حالات میں اتحادی جماعتوں کے ساتھ مل کر سنبھالی جانے والی حکومت بلاشبہ پھولوں کی سیج نہیں بلکہ کانٹوں کا ہار ہے۔ آئی ایم ایف کی شرائط تسلیم کرنے سے ووٹ بنک پر بہت منفی اثرات مرتب ہوئے۔لیکن یہ کوئی مستقل امر نہیں۔ توقع کی جارہی تھی کہ مریم نواز شریف کی بریت کے بعد نواز شریف کی واپسی کی راہ بھی ہموار ہو جائے گی۔ پھر کسی مرحلے پر مستقل نااہلی کی سزا ختم کرکے ان کے لیے انتخابی سیاست کے دروازے بھی کھول دئیے جائیں گے۔ تاہم پچھلے دنوں اپنی صاحبزادی مریم نواز کی موجودگی میں نواز شریف نے لندن میں صحافیوں سے جو گفتگو کی اس کا لب لباب یہی ہے کہ ملکی اداروں نے ان کے اور ان کے اہل خانہ کے ساتھ ناانصافی اور ظلم کیا۔ ایک لحاظ سے دیکھا جائے تو یہ بالکل ویسی ہی گفتگو تھی جیسی پی ڈی ایم کی تحریک کے دوران گوجرانوالہ کے جلسے میں دو مقتدر شخصیات کا نام لے کر کی گئی تھی۔ تاہم اس مرتبہ یہ فرق رہا کہ صرف ججوں کا ذکر کیا گیا۔ لگتا یہی ہے کہ نواز شریف وطن واپسی سے قبل اپنے خلاف سزاؤں اور مقدمات کا خاتمہ چاہتے ہیں۔ یہ دیکھنا دلچسپی سے خالی نہیں ہوگا کہ مقتدر حلقے ان کے لیے آگے کا راستہ کیسے نکالتے ہیں۔ ن لیگ ہی نہیں بلکہ حکومتی اتحاد میں شامل دیگر جماعتوں کی بھی خواہش ہے کہ عمران خان کے خلاف فارن فنڈنگ سمیت تمام مقدمات عدالتوں میں چلا کر سزائیں دی جائیں۔ دوسری جانب اداروں کا موڈ بظاہر کچھ اور ہی ہے۔ لیکن یہ کہیں نہیں لکھا کہ بدلتے ہوئے حالات میں منصوبہ تبدیل نہیں کیا جاسکتا۔ اب عمران خان کے لانگ مارچ کے حوالے سے ہی دیکھ لیں۔ وہ اسلام آباد پر یلغار کر کے وفاقی حکومت گرانے تک محاصرہ کرنا چاہتے ہیں۔ دوسری جانب آرمی چیف نے واضح الفاظ میں کہہ دیا ہے کہ کسی بھی ملک یا گروہ کو پاکستان میں سیاسی یا معاشی انتشار پیدا کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اس ٹھوس پیغام کے باوجود حکومت میں شامل جماعتوں کا کہنا ہے کہ عمران خان اور ان کے لانگ مارچ سے وہ خود نمٹ سکتے ہیں، اس حوالے سے پلان اے ہی نہیں بلکہ پلان بی بھی تیار ہے۔ اصل چیز تو یہ ہے کہ کوئی جاکر عدالتوں کو بتائے کہ وہ پی ٹی آئی کے خلاف مقدمات میں ریلیف دینے کی بجائے میرٹ پر فیصلے کرے۔ ایسی صورتحال میں پی ٹی آئی کے لیے مشکلات بڑھ گئیں تو اسکی ذمہ داری حکومت اور اسٹیبلشمنٹ پر نہیں بلکہ عمران خان اور ان کی کچن کابینہ پر عائد ہوگی۔ جو پہلے ہی اپنی غیر ذمہ دارانہ حرکتوں کے سبب ہر گزرتے دن کے ساتھ بند گلی کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ سادہ الفاظ میں یوں کہہ لیں کہ اسٹیبلشمنٹ کا نیوٹرل ہونا فی الحال حکومت کو پسند آیا نہ پی ٹی آئی کو، یہ پالیسی اسی طرح جاری رہی تو عدم استحکام اور عدم اعتماد کی فضا کا خاتمہ نہیں ہوگا۔

مصنف کے بارے میں