سی سی پی اونے وہ جملہ بولا جس پرپوری کابینہ کو معافی مانگنی چاہیے، لاہور ہائیکورٹ 

 سی سی پی اونے وہ جملہ بولا جس پرپوری کابینہ کو معافی مانگنی چاہیے، لاہور ہائیکورٹ 

لاہور: چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس قاسم خان نے موٹروے زیادتی کیس میں سی سی پی او لاہور عمر شیخ کے بیان پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سی سی پی اونے وہ جملہ بولا جس پرپوری کابینہ کو معافی مانگنی چاہیے، سی سی پی او نے جو بیان دیا اس پر کیا کارروائی ہوئی؟  پتا نہیں تحقیقات ہورہی ہے یا ڈرامہ بازی ہے ۔


چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس قاسم خان کی سربراہی میں موٹر وے زیادتی کیس میں عدالتی تحقیقات اور متاثرہ خاتون سے متعلق متنازع بیان پر سی سی پی او لاہور کو برطرف کرنے کے لیے مسلم لیگ ن کے رہنما ملک احمد خان کی درخواست پر  سماعت ہوئی جس دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ قانون کے مطابق حکومت چاہے تو عدالتی تحقیقات کرا سکتی ہے۔جسٹس قاسم خان نے کہا کہ قانون پڑھ لیں اور مجھے بھی بتائیں کہ کس قانون کے تحت یہ حکم جاری کریں،صرف خبرچھپوانے کے لیے درخواستیں دائر نہ کی جائیں۔

سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ واقعے کا مقدمہ درج ہے اور تحقیقات بھی ہورہی ہیں۔دورانِ سماعت چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے سی سی پی او لاہور عمر شیخ کے بیان پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سی سی پی اونے وہ جملہ بولا جس پرپوری کابینہ کو معافی مانگنی چاہیے، یہ کیا انویسٹی گیشن ہے جس میں سی سی پی او مظوم خاتون کوغلط کہہ رہا ہے۔

عدالت نے استفسار کیا کہ سی سی پی او نے جو بیان دیا اس پر کیا کارروائی ہوئی؟ اس پر سرکاری وکیل نے بتایا کہ معاملے کی انکوائری ہورہی ہے، عدالت نے پوچھا کہ کیا آپ کہہ رہے ہیں کہ سی سی پی اوکے بیان پر پر انکوائری ہورہی ہے؟ اس پر سرکاری وکیل کا کہنا تھا کہ پورے معاملے کی انکوائری ہورہی ہے۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اس معاملے پر سخت ایکشن ہونا چاہیے تھا  کابینہ سی سی پی او کے بیان پر معافی مانگتی توتاکہ قوم کی بیٹیوں کو حوصلہ ہوتا،  لیکن پنجاب حکومت کے وزرا سی سی پی او کو بچانے میں لگ گئے۔

لگتا ہے سی سی پی او لاہور کے وزرا کا افسر ہے، بہت سے وزرا نے عجیب وغریب بیانات دیے، پتا نہیں انویسٹی گیشن ہورہی ہے یا ڈرامہ بازی ہے۔عدالت نے کہا کہ حکومتی مشیر اور وزیر قانون موقع پر جا کر تصویریں بنا رہے ہیں، کیا وزیر قانون کوئی انویسٹی گیشن افسر ہیں جو موقع پر جا کر تصویریں بنا رہے ہیں، یہ تصویریں بعد میں سوشل میڈیا پرڈال کر دکھاتے ہیں کہ بڑا کام کررہے ہیں۔

انہوں نے استفسار کیا کہ وزیر قانون کو کیا تفتیش کا تجربہ ہے اور کس حیثیت سے کمیٹی کی سربراہی کررہے ہیں۔کیسی تفتیش کی جارہی ہے کہ محکمے کا سربراہ مظلوم کو غلط کہنے پر تل جائے۔عدالت نے واقعے کی تحقیقات کیلئے کمیٹی کا نوٹیفیکشن اورتازہ رپورٹ طلب کر لی ۔