موٹروے زیادتی کیس:ملزم شفقت نے اعتراف جرم کرلیا

موٹروے زیادتی کیس:ملزم شفقت نے اعتراف جرم کرلیا

لاہور: موٹر وے زیادتی کیس میں دیپالپور سے گرفتار ملزم شفقت نے اعتراف جرم کر لیا ہے۔ 


پولیس ذرائع کے مطابق 33 سال کے شفقت کا تعلق تحصیل ہارون آباد، ضلع بہاولنگر سے ہے، شفقت کی سم اس کے والد استعمال کر رہے تھے۔موٹروے زیادتی کیس کا مرکزی ملزم عابد تاحال مفرور ہے تاہم اس کے ایک اور قریبی ساتھی شفقت کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔پولیس ذرائع کے مطابق شفقت عابد کے ساتھ وارداتوں میں ملوث رہا ہے اور شبہ ظاہر کیا گیا تھا کہ شفقت اس واردات میں بھی ملوث ہے۔اطلاعات ہیں کہ پولیس نے شفقت کو دیپالپور کے علاقے سے گرفتار کیا۔ پولیس ذرائع کے مطابق شفقت کا ڈی این اے کرواگیا ہے اور رپورٹ کا انتظار ہے۔

قبل ازیں مبینہ ملزم وقارالحسن کے سالے عباس نے بھی گرفتاری دی تھی۔ عباس نے اپنے ابتدائی بیان میں کہا ہے کہ ملزم عابد سے کوئی تعلق نہیں، ملزم نے مجھے نوکری پر لگوانے کے لیے کہا تھا۔ ملزم عابد میرے ساتھ  اسٹیل مل میں جاتا تھا اور کام کے دوران اکثر میرے نمبر سے فون کرتا تھا۔عباس نے پولیس کو بتایا کہ ملزم عابد نے 10 روز قبل مجھ سے رابطہ کیا تھا۔ پولیس نے عابد کی بیٹی، والد اکبرعلی اور بھائی قاسم کو حراست میں لےلیا ہے۔

مبینہ ملزم وقار الحسن نے پولیس کے سامنے پیش ہوکر صحت جرم سے انکار کر دیا ہے تاہم آج اس کو عدالت میں پیش کیے جانے کا امکان ہے۔ پولیس نے وقار کا ڈی این اے سیمپل لے لیا ہے۔ وقار نے اپنے ابتدائی بیان میں کہا ہے کہ موبائل فون سم برادر نسبتی عباس استعمال کرتا ہے۔ذرائع کے مطابق ملزم وقارالحسن اہلخانہ کے دباؤ کے باعث پولیس کے روبرو پیش ہوا ہے۔ ملزم  نے پولیس کو بتایا کہ اسکا مرکزی ملزم عابد ملہی سے تعلق رہا  ہے لیکن موٹر وے زیادتی کیس سے اسکا کوئی  لینا  دینا  نہیں۔

وقارالحسن نے پولیس کو بتایا کہ اس کا برادرنسبتی عباس اس کا فون استعمال کرتا تھا اور ملزم عابد سے رابطے میں تھا۔ جیوفنسنگ کے ذریعے ٹریس ہونے والا موبائل نمبر بھی عباس  کے  زیراستعمال ہے۔سی آئی  اے  ماڈل  ٹاون  نے وقارالحسن کا ڈی  این  اے سیمپل  لے کر ملزم  کو نامعلوم  مقام  پر  منتقل  کردیا ہے۔ پولیس  کا  کہنا  ہے ڈی  این  اے  رپورٹ آنے  کے بعد اصل حقائق واضح  ہوں گے۔خیال رہے کہ 10 ستمبر  بروز جمعرات کو موٹروے پر خاتون کو اس کے بچوں کے سامنے زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ موٹروے پر خاتون کی گاڑی میں پیٹرول ختم ہو گیا تھا اور خاتون نے گاڑی کو اندر سے لاک کر رکھا تھا تاہم ملزمان نے موقع پر پہنچ کر گاڑی کا شیشہ توڑا۔

خاتون کی میڈیکل رپورٹ میں جنسی زیادتی ثابت ہوئی ہے۔ ملزمان کی گرفتاری کے لیے پولیس کی 28 ٹیمیں تشکیل دی ہین جو مختلف مقامات پر چھاپے مار رہی ہیں۔ جیو فینسنگ سے ملزمان کی جائے واردات پر موجودگی ثابت ہوئی ہے۔