اکبرؔ کی نظم میں ردِِ استعمار بیانیہ

 اکبرؔ کی نظم میں ردِِ استعمار بیانیہ

۱۸۵۷ء کی ناکام جنگ ِآزادی کے بعد کی اردو نظم کا جائزہ اس بات کی وضاحت کرتا ہے کہ یورپی استعمار نے برصغیر کی تہذیب،ثقافت اور زبان کو جس طرح اثر انداز کیا اور جیسے نوآبادیاتی بیانیوں کو پروان چڑھایا اور پھر یہاں کے باشندوں کو مغربی تہذیب اور مزاجوں سے متاثر کرنے‘اپنی تہذیب سے دور کرنے کے لیے جن استعماری کلامیوں کو فروغ دیا،ان کے اثرات برصغیر کے مقامی باشندوں کے رویوں میںبہت تیزی سے در آئے۔انگریز استعمار  مسلسل کوششوں سے ایک ایسی نسل تیار کرنے میں کامیاب ہو رہے تھے جو مخاصمت کے بجائے مفاہمت کی بات کرتی تھی‘جنھیں اس چیز سے غرض نہیں تھی کہ یہ استعماری رویہ مستقبل قریب یا بعد میں برصغیر پر کس قدر منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے بلکہ ان کے نزدیک وہ ترقی اہم تھی جو انگریز اپنے ساتھ لے کر آئے تھے اور یہاں کے باشندوں کو اس ترقی کے سنہرے خواب دکھا رہے تھے۔یہی وجہ ہے کہ اس زمانے میں کئی نظم نگار بھی استعمار کاروں اور انگریزی سامراج کے حق میں بات کرنے لگے۔اگر ہم اس زمانے کی نظم کا جائزہ لیں تو ہمیں انگریز استعمار کے خلاف اکا دکا آوازیں تو سنائی دیتی ہیں مگر کوئی دبنگ آواز اس انداز میں سنائی نہیں دیتی جسے ہم رد استعمار آواز کہہ سکیں۔یہ ایسا دور تھا جس میں برصغیر کے باشندوں اور کئی تخلیق کارو ں نے انگریز استعمار کے سامنے ہتھیار ڈال دیے اور مقامی باشندوں کوتربیت کرتے دکھائی دیے کہ انگریز حکمران ہی ہمارے لیے مسیحا کا درجہ رکھتے ہیں،ہمیں ان سے مفاہمت کر کے برصغیر کو خوشحال بنانا چاہیے۔اسی دور میں سرسید کا سفرِ انگلستان اور ان کا مغربی تہذیب سے مغلوب ہو جانا اور اپنے ہم وطنوں کو اپنی تہذیب کے بجائے انگریز نظام ِ زندگی اپنانے کا درس دینا‘کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔

 سرسید اگر انگریز استعمار کی حمایت کی بات کرتے تھے تو اس کا مطلب قطعاً یہ نہیں کہ وہ اپنی تہذیب اور ثقافت چھوڑنے کے خواہاں تھے بلکہ وہ اپنی سیاسی و ثقافتی شکست کے اثرات اپنی ثقافت اور روایت میں تلاش کرتے ہوئے مغربیت کے بل بوتے پر کھڑا ہونا چاہتے تھے۔سرسید اپنے تہذیبی تعطل کو اندر سے تسلیم کرتے تھے اور زندگی کے اس جمود کو توڑنے کے بھی خواہش مند تھے مگر مصلحت کے تحت انگریزوں سے مصالحت اور وعدہ وفاداری میں روشن مستقبل کے خواب دیکھ رہے تھے اور مشرقی تہذیب پر مغربی تہذیب کو ترجیح دے رہے تھے۔یہاں ایک دوسرا رویہ بھی نظر آتا ہے جن میں اکبرؔ سب سے نمایاں ہیں جو تہذیبی تعطل اور ثقافتی جمود کے باوجود اپنا تشخص قائم رکھنا چاہتے تھے۔اکبرؔ اپنی اقدار سے عشق کرتے تھے اور انگریز استعمار سے معاشرے پر پڑنے والے منفی اثرات سے نالاں تھے،ان کے یہاں جو تخلیقی تذبذب ہے وہ اسی ذہنی کشمکش کی دین ہے،ان کی تعریف و تضحیک کا سبب بھی یہی ہے۔مغرب کے بڑھتے ہوئے سیلاب کے سامنے اکبر ؔکی کوئی حیثیت ہو نہ ہو لیکن وہ انگریز استعمار پر اعتراضات کی دستاویز اور ردِ استعمار کی ایک مضبوط آوازہے جس سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔اکبرؔ انگریز استعمار کے خلاف تھے اور اس کی بنیادی وجہ یہی تھی کہ وہ حاکم اور قابض قوم تھی اور اس میں دو رائے نہیں کہ غالب اور فاتح قومیں ہمیشہ اپنی حکومت اور مفادات کے لیے کام کرتی ہیں‘ان کو مغلوب اور مفتوح قوموں کی ترقی اور استحصال سے کوئی سروکار نہیں ہوتا۔انگریز استعمار نے بھی یہی کیا جس کی وجہ سے اکبرؔ کی شاعری میںمزاحمتی رویہ کھل کر سامنے آیا اور اکبرؔ کے ہاں رد استعمار کا بیانیہ فروغ پاتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔اکبرؔ نے اپنی نظموں میں نوآبادیاتی اور استعماری علامتوں اور موضوعات سے برصغیر کے باشندوں اورخاص کر کے سرسید اور ان کے حامیوں کو انگریزوں کی نفرت سے آشکار کرایا۔ انہیں اس بات کا احساس دلانے کی کوشش کی کہ جن کو ہم اپنا دوست اور مسیحا سمجھ رہے ہیں‘حقیقت میں وہ دوستی اور محبت کی آڑ میں ہمیں ہماری تہذیب اور ثقافت سے دور کرنا چاہ رہے ہیں‘ اکبرؔ اس بات کا بھی احساس دلانے کی کوشش کرتے ہیں کہ استعمارکارکبھی بھی مغلوب عوام کے ساتھ مخلص نہیں ہو سکتے بلکہ انہیں ہمیشہ اپنا مفاد مقدم ہوتا ہے‘وہ اپنے مفادات اور اپنے مقاصد حاصل کرنے کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔اکبرؔ نے نوآبادیاتی عہد سے نہ صرف بغاوت کی بلکہ بغاوت کی تبلیغ بھی کی۔وہ مقامی باشندوں کو اپنی شاعری کے ذریعے فاتح و قابض قوم کی منافقت سے روشناس کرانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اگرچہ اکبر ؔ کے بعد کی دور کی نظموں میں سرسید کے کام کی تعریف بھی ملتی ہے اور وہ اپنے نظریے پر اس طرح شدو مد سے قائم نہ رہ سکے مگر یہ بھی سچ ہے کہ اکبر ؔاخیر دم تک مقامی تہذیب کے جمود کو ختم کرنے کی کوشش میں سرگرداں رہے۔اپنے مقامی ثقافتی بیانیے کی،ترویج‘ استعمارکاروں کی شاطرانہ چالوں کی تشہیر اور مقامی باشندوں کے حقوق کی بات کرتے رہے۔اکبرؔ کی اخیر دور کی نظموں میں اگرچہ قدرے شکستگی اور اضمحلال کے اثرات محسوس کیے جا سکتے ہیں مگر اس اضمحلال کے با وجود وہ کہیں بھی مکمل طور پر ناامید نہیں ہوئے۔ آج اکبرؔ کی وفات کو سو برس بیت گئے‘سو سال بعد بھی استعماری نظام کسی نہ کسی صورت میں موجود ہے مگر اکبر ؔ جیسی دبنگ اور دلیر آواز کہیں سنائی نہیں دے رہی۔ڈاکٹر عابدہ بتول اس بات پر داد کی مستحق ہیں کہ انہوں نے اکبرؔ کے سو سال بعد ہمیں یہ احساس دلانے کی کوشش کی کہ یورپی استعمار ہو یا سرمایہ دارانہ نظامِ حکومت‘عوام کا استحصال کرنے کے لیے نافذ کیا جاتا ہے۔آج کے شاعروں ‘ادیبوں اور قلم کاروں کا یہ بنیادی فرض ہے کہ وہ ہر ایسے استحصال کے خلاف لکھیں جس سے عوام الناس کو حیلے بہانوں سے لوٹا جا رہا ہے اور مادی ترقی کے خواب دکھا کر ہم سب کو مشرقی تہذیب،کلچر اور زبان سے دور کیا جا رہا ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ جو کام جو اداروں کو کرنا چاہیے تھاوہ اکیلے ڈاکٹر عابدہ بتول نے کر دیا‘ان کے لیے نیک تمنائیں۔ (آفاقِ ادب ،پاکستان کے زیر اہتمام ایک روزہ ’’اکبر الٰہ آبادی عالمی صدی کانفرنس‘‘میں پڑھے گئے مقالے کا ملخص)۔