افغان طالبان کی پنج شیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور جنگی جرائم کی تردید

افغان طالبان کی پنج شیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور جنگی جرائم کی تردید
سورس: فوٹو: بشکریہ ٹوئٹر

کابل: افغانستان پر کنٹرول حاصل کرنے کے بعد اپنی حکومت قائم کرنے والے طالبان نے پنج شیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور جنگی جرائم کی تردید کر دی ہے۔ 

افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کی جانب سے جاری بیان میں اس معاملے کی تردید کی گئی ہے جن کا کہنا ہے کہ طالبان نے پنج شیر میں کسی قسم کے جنگی جرائم کا ارتکاب نہیں کیا جبکہ انسانی حقوق کی تنظیم کو جائے وقوع پر جا کر تحقیقات کرنے کیلئے رسائی دینے کو بھی تیار ہیں۔

دوسری جانب افغان سیاسی جماعت حزب اسلامی کے بانی گلبدین حکمت یار کا کہنا ہے پنج شیر میں مزاحمت کرنے والے چاہتے تھے کہ امریکہ واپس آ جائے، افغانستان میں ایسی حکومت چاہتے ہیں جسے عوام کا اعتماد حاصل ہو۔ 

گلبدین حکمت یار نے پنج شیر میں طالبان کی فتح کے بعد افغان میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا پنج شیر میں مزاحمت والے چاہتے تھے امریکہ دوبارہ آ جائے جبکہ امریکہ میں بھی ایک گروپ ہے جو پنج شیر میں مزاحمت کی حمایت کررہا تھا۔

انہوں نے عمران خان کی بات درست ثابت ہوئی وہ پہلے دن سے کہتے آ رہے ہیں کہ افغانستان کاکوئی جنگی حل نہیں ،لڑائیاں لڑنے سے افغانستان میں امن قائم نہیں ہونا، لیکن کچھ غیر ملکی عناصر چاہتے تھے کہ افغانستان حالت جنگ میں رہے۔