سٹیٹ بینک نے خام مال کیلئے ایل سی نہ کھولنے کے دعوے غلط قرار دیدئیے

سٹیٹ بینک نے خام مال کیلئے ایل سی نہ کھولنے کے دعوے غلط قرار دیدئیے

کراچی: سٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی ) نے کہا ہے کہ خام مال کیلئے لیٹر آف کریڈٹ (ایل سی) نہ کھولنے کا دعویٰ غلط ہے اور برآمدی نوعیت کی صنعت سمیت کسی بھی صنعت کیلئے خام مال کی درآمد پر کوئی پابندی عائد نہیں ہے۔ 

تفصیلات کے مطابق سٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ حال ہی میں کچھ میڈیا رپورٹس میں اور تجارتی تنظیموں کے نمائندوں کی طرف سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ فارماسیوٹیکل سمیت ضروری خام مال کیلئے بینک لیٹر آف کریڈٹ نہیں کھول رہے ہیں، یہ دعویٰ حقائق کے منافی ہے۔

سٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ یہ بات واضح کی جاتی ہے کہ برآمدی نوعیت کی صنعت سمیت کسی بھی صنعت کیلئے خام مال کی درآمد پر کوئی پابندی عائد نہیں ہے جبکہ سٹیٹ بینک نے 20 مئی 2022 اور 5 جولائی 2022 کے ای پی ڈی سرکلر لیٹرز نمبر 9 اور نمبر 11 کے ذریعے بینکوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ موٹر کاروں اور موبا ئل فون کی(الگ الگ پرزوں کی شکل میں) اور مشینری کی درآمد کیلئے لین دین شروع کرنے سے پہلے پیشگی اجازت لیں۔

سٹیٹ بینک کے مطابق صنعت کے خدشات کو مدنظر رکھتے ہوئے، سٹیٹ بینک اور وفاقی حکومت نے متعلقہ سٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے موبائل فون، گھریلو آلات، ٹریکٹر، 2 اور 3 پہیوں والی گاڑیوں، ٹرانسفارمرز اور سوئچ گیئر، آٹو پارٹس مینوفیکچررز، ٹیلی کام آپریٹرز اور برآمد کنندگان کی درآمدات کو ایڈجسٹ کرنے کیلئے ایک طریقہ کار وضع کیا ہے۔

سٹیٹ بینک آف پاکستان نے مزید بتایا کہ ایسے 7000 سے زائد کیسز کی منظوری دی جا چکی ہے تاہم اس میں تاخیر بعض اوقات غلط یا ناکافی معلومات جمع کرانے کی وجہ سے ہوتی ہے لیکن اس کے باوجود منظوری کے عمل کو تیز کرنے کی ہرممکن اور بھرپور کوشش کی جا رہی ہے۔ 

مصنف کے بارے میں