میری شکل’وینس اینڈ ایندنوئس‘ میں موجود خاتون سے ملتی ہے :شینری

میری شکل’وینس اینڈ ایندنوئس‘ میں موجود خاتون سے ملتی ہے :شینری

نیویارک : خواتین ماڈلز اور مرد ماڈلز تو دنیا بھر میں شہرت رکھتے ہیں اور لوگ ان کے دیوانے بھی ہوتے ہیں لیکن امریکہ کی ایک ٹرانس جینڈر ماڈل شینری ایسی ہیں جن کے لاکھوں دیوانے ہیں اور شینری کو خود بھی اپنی جسامت پر فخر ہے ۔شینری نے دعوی کیا ہے کہ ان کا وجود قدرتی طور پر فن کا شاہکار نمونہ ہے۔


شےنری کو اپنے بھاری بھر کم وجود اور انتہائی بولڈ تصاویر کی وجہ سے شہرت حاصل ہے، انہوں نے کئی گارمنٹس کمپنیوں کے ساتھ کپڑوں کی تشہیر کے معاہدے کر رکھے ہیں۔

بروکلین سے تعلق رکھنے والی 28 سالہ شینری نے اپنے انسٹاگرام اکاونٹ پر 61 ویں صدی کے مشہور جرمن آرٹسٹ پیٹر پال روبنز کی مشہور پینٹنگ ’وینس اینڈ ایندنوئس‘ شیئر کرتے ہوئے کہا کہ اس پینٹنگ میں موجود خاتون کی جسمانی ساخت ان سے ملتی جلتی ہے۔شینری نے دعویٰ کیا کہ ان کی جسمانی ساخت فن کا شاہکار نمونہ ہے، اور وہ اکثر خود کو پیٹر پال روبنز کی بنائی گئی پینٹنگ میں موجود خاتون جیسی حالت میں رکھنے کی کوشش کرتی ہیں۔شینری امریکا کی پہلی بھاری بھر کم جسامت کی حامل مخنث ماڈل ہیں، جو مخنث افراد کے حوالے سے فلاحی کام کرنے سمیت دیگر سماجی کاموں میں بھی حصہ لیتی ہیں۔

شینری یک مرد کے طور پر پیدا ہوئیں، مگر انہیں 14 برس کی عمر میں احساس ہوا کہ ان کے ساتھ کوئی جسمانی مسئلہ ہے۔امریکی ویب سائٹ کو دیئے گئے انٹرویو میں انہوں نے بتایا انہوں نے ہم جنس مرد کے طور پر زندگی گزارنے کی کوشش کی، مگر وہ ناکام ہوگئیں.شینری کے مطابق بعد ازاں انہوں نے ڈاکٹرز کے مشورے کے مطابق ہارمون رپلیسمنٹ تھراپی(ایچ آر ٹی) کے تحت علاج کروایا، اور ایک مخنث کی حیثیت میں نئی زندگی کا آغاز کیا۔